اودھ کا چراغ مصورِ غم اُستاد محشر لکھنوی
اُردو کا قدیم گہواہ نیز اِسے مشرقی تہذیب و تمدن کی آماجگاہ بھی کہا جاتا ہے ۔لکھنو شہر اپنی نزاکت ،تہذیب و تمدن کثیر الثقافتی خوبیوں ،دسہر ی آم کے باغوں اور چکن کی کڑھائی کے لئے دنیا بھر میں بے مثل اور بینظیر ہے ۔شہر کے گر د دریائے گومتی بہتا ہے جو لکھنو کی ثقافت کا بھی ایک حصہ ہے ۔لکھنو اِس خطے میں آباد ہے جسے ماضی میں اودھ کہا جاتا تھا ۔یہاں کے حکمرانوں اور نوابوں نے انسانی آداب خوبصورت باغات ،شاعری ،موسیقی اور دیگر فنونِ لطیفہ کی خوب پزیرائی کی لکھنو نوابو ں کا شہر کہلاتا ہے نیز اِسے مشرق کا سنہری شہر اورشیرازِ ہند بھی کہتے ہیں ۔قدیم دور میں لکھنو مملکت کوسل کا حصہ تھا ۔قدیم ہندو روایتوں کے مطابق یہ رام کی وراثت تھی ۔اِس کو لکشماوتی ،لکشم پوریا لکھن پورسے جانا گیا ۔جو بعد میں بدل کر لکھنو ہوگیا ۔اسی اودھ میں محشر لکھنوی پیدا ہوئے ۔
بین الا قوامی شہرت یافتہ شاعر صحافی ،ادیب و مصنف ،خطاط
مصورِ غم غزل نعت منقعبت قوالی نوحہ مرثیہ کے شاعرِ اہلیبت اُستاد محشر لکھنوی کی سر گز شت
محشر لکھنوی نے اُردو غزل ،نوحہ ،مرثیہ ،منقبت میں جو مقبولیت شہرت حاصل کی وہ کسی اور شاعر کے حصے میں نہیں آئی ۔انتہائی مقبول معتبر شاعری کے خالق محشر لکھنوی بہت کم محفلوں میں شرکت کرتے ہیں ۔مگر جس محفل میں محشر ہونگے وہاں کسی اور کا سکہ چل نہیں سکتا محفلیں لوٹ لینا محشر کا سر مایہ ہے ۔یہی اِن کی دولت ہے جس سے وہ حقیقی پیار کرتے ہیں ۔محشر لکھنوی کی غزل ہو یا نوحہ ایک اِیسا لہجہ چھپا ہے جس کی تقلید ہمارے عہد کے شاعروں نے کی ہے ۔واقعہ کربلا میں جو الفاظ محشر نے استعمال کئے وہ امر ہوگئے ہیں ۔غزل میں رچاؤ محبت چاشنی کا استعمال محشر نے جو کیا وہ منفرد اور لا زوال ہے ۔جمالیاتی شاعری کے لئے اُنہوں نے زبان کو بھی رومانی پیکر میں ڈھالا ۔محشر لکھنوی کا نام اُردو زبان سے واقفیت رکھنے والوں کے لئے اجنبی نہیں ۔اُن کی ادبی خدمات کا سلسلہ گذشتہ پانچ دہائیوں پر پھیلا ہوا ہے ۔مشاعر ے ہوں یا تحقیقی کام نوحہ منقبت لکھنے کا کام محشر لکھنوی نے اپنا سکہ جمائے رکھا ۔
“خدا کا یہ کرم کیا مجھ پہ کم ہے
علی کا زکر اور میرا قلم ہے”
اِس میں کوئی مبالغہ نہیں کہ محشر لکھنوی ایک قادرالکلام شاعر ہیں ۔اُردو شاعری کی مقبول و معروف اصناف میں سے شائدہی کوئی اِیسی صنف اِیسی ہوگی جس میں محشر لکھنوی نے طبع آزمائی نہیں کی ہے۔آپ نے خاصی بڑی تعداد میں غزلیں کہیں ہیں ۔اِسکے علاوہ نظم پر بھی خوب کام کیا ہے ۔آپ کی نظمیں کچھ تو بہت طویل ہیں اور کچھ بہت مختصر ہیں ۔آپ نے پابند نظمیں بھی کہیں ہیں اور آزاد نظمیں بھی کہیں ہیں ۔موضوع کے اعتبار سے اُن کی نظموں میں تنوع ہے ۔سیاسی اور قومی اور تاریخی نظموں کے علاوہ اُنہوں نے افسانوی نظم ،منظوم تمثیل تمثیلی غنائیہ وغیرہ کے پیرائے میں متعدد منظومات لکھی ہیں ۔علاوہ ازیں قطعات اور رباعیات بھی محشر لکھنوی کی شاعری کی رونق میں اضافہ کئے ہوئے ہیں ۔آپ نے لوریاں ،شادی کے سہرے ،گانے مزاحیہ گانے لکھنے میں بھی محشر کا قلم رکتا نہیں ۔محشر لکھنوی نے اپنی سیاسی اور سماجی تر جیحات سے قومی زندگی کے مختلف گوشوں کو آراستہ تو کیا ہی ہے ۔اپنے علمی اور ادبی فتوحات کے زریعہ ایسے نقوش چھوڑے ہیں جو قابلِ رشک ہیں ۔سیاسی مصروفیات کے ساتھ ساتھ پوری ایمانداری اور دیانت داری کے ساتھ اُردو کی زلف سوارنے کا کار مستحسن بھی انجام دیتے رہے ۔محشر لکھنوی نے بچوں کے لئے بھی خوبصورت کلام لکھے ہیں ۔حقوقِ نسواں پر ایسا کلام لکھا جو خواتین کی آواز بن گیا ۔یتیم خانے کے بچوں پر ایسی نظم لکھی جسے پڑھ کر آنسوں اُمنڈ آتے ہیں ۔حسن و عشق کے معاملات میں غزل کی صنف میں وہ منفرد مقام رکھتے ہیں ۔جو ایک نئی تحریک تصور کی جاتی ہے ۔محشر کے یہاں نازک رشتوں اور احساسات کا کھلا ہوا اظہار ملتا ہے ۔جو اِس سے پہلے کسی اور شاعر میں نہیں ملتا ۔اُنہوں نے اپنی شاعر ی میں عشق کا پاکیزہ تصور پیش کیا ہے ۔اور اپنے جذبات کی صداقت کو عشق کی پاکیزگی اور شگفتگی میں تلاش کرتے ہیں ۔وہ جمالیاتی تخیل کے زبردست محرک ہیں ۔
شاعر کی عظمت کا پیمانہ کیا ہے ؟بے شک اُس کی شاعری کا معیار پھر کسیے شاعر ی کو معیاری اور اچھی مانا جائے ؟اِس سلسلے میں الگ الگ خیالات موجود ہیں ۔جہاں تک میرے خیال کی رسائی ہے کہ اچھی شاعری وہ ہے جو فن کے معیار پر ہی نہیں ،زندگی کے معیار پر بھی پوری اُترے اچھی شاعری وہ ہے جو اپنے عہد اپنے عصر کی ترجمانی کر سکے ۔لازمی طور پر اس کی شاعری کا فنی اور جمالیاتی پہلو اُس کے نظریاتی پہلو کے براپر معیاری اور وزنی ہو۔محشر لکھنوی کی شاعری رجز انقلاب کا نغمہ بن گئی ہے ۔اِن باتوں کا اطلاق محشر لکھنوی کی شاعری پر کیا جا سکتا ہے کلامِ محشر لکھنوی قوتِ کشش کیا ہے ؟محشر کی عظمت کی پہچان اور مقبولیت کا کرشمہ بھی کر بلا کا درد ہے ۔
“مشکل کے وقت آتا ہے خیبر شکن کا نام
ڈھارس ہے میرے قلب کی شاہِ زمن کا نام
جیسے ازان میں اکبر گُل پیر ہن کا نام
محشر کے دل پہ نقش ہے یوں پنجتن کا نام”
کرب رنج کی کیفیتوں سے مالا مال محشر کا قلم للکار رہا ہے ۔محشر کا نظریہ کربلا ہے یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے ۔محشر عدل و انصاف ،مساوات اور انسان کے وقار اور جمہوریت کے علمدار ہیں ۔محشر نے اپنی غزلوں میں لطف و وصل ،درد فراق ،حسرت دید ،اور تلخی ستم کو اپنے نرم و مدھم لہجے میں بڑی خوبصورتی سے پیش کیا ہے ۔اِس طر ح وہ ذہن و دل پر گہرا اثر چھوڑ جاتے ہیں ۔اگر ہم محشر کی ابتدائی شاعری کو دیکھیں تو اُس میں رومانویت کا غلبہ نظر آئے گا۔اِس سے الگ کہ اُردو کی غالب صنف شاعر ی غزل کا مزاج ہی رومانی ہے ۔اِس عہد میں شاعروں کی جمالیاتی ڈور ڈھیلی پڑ گئی ہے ۔اِس کے نتیجے میں تخلیق صرف وقتی نعرہ بن گئی ہے۔یا پھر کسی نے الفاظ بدل کر اشارات سے ہی کام لے لیا۔مگر محشر کی بڑائی یہ ہے کہ رومانیت اور کلاسیکیت کو ایک کر دیا۔یعنی اصلاحی معنوں میں محشر کلاسیکی شاعر ہیں ۔محشر کو ملنے والی روایت اور وراثت میں ملنے والے الفاظ نے محشر کو کلاسیکل شاعر بنا دیا
کلاسیکیت ایک مزاج ہے اور اِس سے زیادہ ایک فنی ضا بطہ ہے ۔اِس روشنی میں اگر کلامِ محشر کو دیکھیں تو اُن کے یہاں کلاسیکیت نہیں کلاسیکی تہذیب کے آثار نظر آئیں گے۔
غالب ،میر اور جوش کی تفسیر سے آج تک نہ کوئی تھکا اور نہ کسی کو اکتاہٹ کا احساس ہوا۔اِس لئے ہر بار اُن کے کلام نے ایک نیا انکشاف کیا ،اِسی طرح محشر لکھنوی کے کلام کو جتنی بار پڑھا جائے اُن کی شاعری کا کوئی نہ کوئی نیا پہلو سامنے آجاتا ہے ۔حد تو یہ ہے کہ شہرزاہ علی اکبر کا نوحہ جو محشر کا لازوال کلام ہے آج تک جتنے شاعر دنیا بھر کے ہیں اکثریت محشر کی زمین پر ہی نوحے لکھ رہی ہے ۔محشر کی سب سے بڑی خصوصیت اُن کے کلام میں لفظ کا تخلیقی استعمال ہے ۔الفاظ کو نظم کردینا ،خیال ،محسوسات ،تجربات اور مشاہدات کو خوبصورت پیرائے یا مترنم انداز میں پیش کرتے ہیں ۔ہر عہد میں شعراء اپنے جذبات اور محسوسات کو پیش کرتے رہے ہیں ۔مگر محشر لفظ کو اُس کے معنی اور لغت کے حدود میں نظم کرتے ہیں ۔وہ اِس بات سے بھی غافل نہیں رہتے کہ بات زبان اور محاورے کے خلاف نہ ہومحشر ایک عہد ساز شاعر ہیں لغت کے دائرے سے نکل کر ایک وسیع دنیا بنائے ہوئے ہیں ۔اُن کے یہاں الفاظ استعارات کے معنی اور اُس کے تخلیقی استعمال سے معتین ہوتے ہیں ۔اُردو میں میر اور غالب کے اشعار اور اپنے خیال کی وسعت اور لا محدود معنویت کی بہترین مثالیں ہیں ۔اِسی طرح محشر کے یہاں لفظ کے تخلیقی استعمال نے شعر میں بیدل کے شکستہ شیشے کی طرح ان گنت رنگ بھر دئے ہیں ۔اور نہ جانے کتنی جہتیں پیدا کر دی ہیں عام الفاظ سے ترتیب پایا ہوا شعر اپنی معنوی تہہ داری کی وجہہ سے لطف کا حامل بن گئے ہیں ۔محشر لکھنوی کے کلام کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ مختلف نفسیاتی اور جذباتی کیفیتوں میں ایک نئی چمک کے ساتھ زمانے ،تاریخ اور جغرافیائی حدود سے نکل کر بھی اپنی اہمیت باقی رکھے ہوئے ہے ۔اور یہی خوبی شاعر کو آفاقیت عطا کرتی ہے ۔محشر لکھنوی نے جو سخن بھی رقم کئے اور اُن کے لئے جن الفا ظ کا استعمال کیا اُن کی معنوی وسعت اور تہہ داری سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ۔محشر نئی تراکیب و تشبہات گڑھنے کے بجائے بالعموم عام روایتی اور مروجہ تراکیب و تشبہات اور علامتوں کو استعمال کرتے ہیں ۔اِن میں بیشتر وہ تراکیب اور تشبہات ہیں جو استعمال کی یکسانیت کی وجہہ سے اپنا کیف،تاثر اور اہمیت کھو چکی تھیں ۔محشر لکھنوی نے اِن تمام الفاظ و تراکیب اور تشبہات کا منظر نامہ ہی بد ل دیا ۔یعنی الفاظ تو وہی رہے لیکن محشر کے یہاں وہ ایک نئے معنی اور نئی حیت کی نشان دہی کرتے ہیں ۔
“زکرِ مولا کا فیض ہے محشر
تیری شہرت جو پائی جاتی ہے
مسندِ غم بچھائی جاتی ہے
بزمِ ماتم سجائی جاتی ہے”
مطالعہ محشر لکھنوی کے سلسلے میں ایک پہلو یہ بھی غور طلب ہے کہ محشر نے غزل کی مروجہ شعر یات کو توڑا اوراپنی نرم لے کے باوجود اُسے روایات کی گھٹن سے نکال کر زندگی کی تازگی فرحت اور دل کشی سے آشنا کیا لیکن ابھی اُن کے اِس contribution کی اہمیت کا پورا اندازہ کرنا مشکل ہے اِس لئے کہ جو فن کار اپنے عہد کے مروجہ اُصولوں کو توڑتا یا اُس سے بغاوت کرتا ہے اُس کی صیح قدر کا تعین خود اُس کے عہد میں مشکل ہوتا ہے ۔اُس پودے کی کونپلیں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خود نکلتی ہیں اور نئے نئے گوشوں سے روشنی آشنا ہوتی ہے ۔محشر کے یہاں ہر جگہ زندگی کی ایک نئی کرن نئی اُمنگ ،نئے جذبے نظر آتے ہیں اُن کی زندگی شامِ غریباں کی سیاہی بنی رہی مگر وہ دوسروں کو زندگی روشنی کا درس دیتے ہیں ۔

محشر لکھنوی کا تعلق بر صغیر کے بہت مقدس اور جلیل القدر خاندان سے ہے خاندان کے علماء دین کی قدم بوسی ہوتی تھی ۔لکھنومیں بھی غربت و افلاس کے سوا کچھ نہیں تھا پاکستان میں بھی غربت دامن گیر رہی لیکن لکھنو میں عزت و تعظیم تھی پاکستان میں یہ بھی نہ رہا ۔احساسِ محرومی نے محشر کو معاشرے کا باغی بنا دیا محشر زمانہ کم عمری میں موسیقی کے دلداہ تھے کیونکہ محشر کو اﷲنے خوش گلو بنا یا تھا مذہبی گھرانہ تھا جہاں ریڈیو رکھنے کی بھی اجازت نہیں تھی۔اِس سے محشر اور دل برداشتہ ہوگئے ۔لکھنو کے لوگ زیادہ نازک مزاج اور نفاست پسند ہوتے ہیں ۔لیکن معاش کے خاطر محشر نے ہر وہ کام کیا جو مزاج کے بر خلاف تھا ۔پہلی مزدوری میر پور خاص اسٹیشن سے انڈیا کے باڈر باڑھ میر تک لو کل ٹرینوں میں پاکولا کولڈ ڈرنک بیچی ۔
تلاشِ معاش میں لاہور بھی گئے وہی آغا شورش کاشمیری کے آفس چلے گئے جہاں سے روزنامہ چٹان نکلتا تھا ۔آغا صاحب نے اسی (۸۰)روپے ماہوار تنخواہ پر اپنے آفس میں رکھ لیا ۔اور دفتر کی چھت پر سونے کی جگہ بھی دے دی۔محشر کی تحریریں دیکھ کر آغا شورش کاشمیری بہت متاثر ہوئے اور محشر صاحب کتابت اور پروف ریڈنگ کے کام بھی دئے گئے ۔اُردو کو صحافتی زبان کا نیا طرزِ تکلم تخاطب ملا اور اِنکی صحافتی صلاحیتوں کو جلا ملی ۔محشر بے مثال شاعر کے ساتھ ساتھ نثر میں بھی کمال کا ملکہ حاصل ہے ۔اُردو کی فلاح و بہبودکے لئے ہمیشہ سر گرم رہے ۔
محشر نے شاعری کا آغاز مشہور گانوں پر پیروڈی سے کیا اُس وقت تک تخلص شبنم لکھنوی تھا ۔محشر لکھنوی کا تخلص آغا شورش کاشمیری صاحب نے دیا ۔وہیں سے محشر کی صحافت کا باقاعدہ آغاز ہوگیا ۔تیرا برس آغا شورش کاشمیری کے ساتھ رہے تین سور روپے ماہوار تک پہنچ گئی اچانک محشر لکھنوی کے بڑے بھائی کی حالت نازک ہوگئی مجبوری میں لاہور چھوڑنا پڑا ۔محشر نے غزل کی شاعری ترک کی اور مذہبی شاعری شروع کردی ۔شہرہ آفاق کلام کے خالق محشرلکھنوی جس محفل میں ہوتے داد و تحسین ملتی منقبت اور سلام محفلوں میں پڑھتے ۔محشر کے نوحوں نے دنیا میں دھوم مچائی رہتی دنیا تک یہ نوحے گونجتے رہیں گے ۔
جب کوئی جواں لاش نظر آتی ہے محشر
اک یاد سوئے کرب و بلا جاتی ہے محشر
ہائے ہائے علی اکبر
اِن جیسے کلا موں کے خالق محشر لکھنوی نے نوحہ خوانوں کو پڑھنا بھی سکھایا اور آج نامور نوحہ خواں ہیں
محشر نے زکرِ اہلبیت کا کبھی معاوضہ نہیں لیا محشر کی کامیاب شاعری سے بہت سے شاعروں نے ایک محاظ بنا لیا ۔کردار کشی کی گئی ۔محشر سے اتنی نفرت رکھی کہ جہاں محشر کو بلایا جاتاپروگرام کے منتظمین کے کان بھر دئے جاتے اور پھر منتظمین معذرت کر لیتے ۔یہ وہ عمل تھا جس سے محشر بری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئے ۔پیپلز پارٹی کے قیام کے وقت محشر اس کے کارکن بن گئے ۔عام انتخابات کے آخری جلسے نشتر پارک میں بھٹو صاحب کی کامیابی کا پیشگی نظم بطور سہرا لکھا جو نشتر پارک کے جلسے میں معراج محمد خان نے لوگوں میں تقسیم کرائی اس یادگار نظم کی نقل اب بھی محشر لکھنوی کے پاس محفوظ ہے ۔اِس کے بعد ضیاء الحق کی حکومت کے خلاف محشر نے پر جوش نظمیں لکھیں جو لوگوں میں زدِ عام ہوئیں ۔روزنامہ امن اور مساوات میں محشر کی سیاسی نظمیں شائع ہونے لگیں ۔کئی انجمنوں کی وجہہ پہچان محشر لکھنوی کا کلام ہے۔محشر لکھنوی راہ میں روکاوٹیں ڈالنے والے آج بھی محشر کو ممبر سے دور کرنے میں لگے ہوئے ہیں شدید مخالفت اور جھوٹی خبروں سے محشر کی کردار کشی کی جا رہی ہے ۔بعض ٹی وی چینل میں طویل انڑ یو کی ریکاڈنگ ہوئی مگر ٹیلی کاسٹ نہیں ہوئے ۔محشر کے قلم سے اتنی نفرت یہ سازشی ٹولہ کسی صورت محشر کو ممبر دینے کے لئے تیار نہیں ۔محشر سیاسی قیدی بھی تین بار ہوئے جیل کاٹی مگر ملک میں بحالی جمہوریت کے لئے اپنے قلم کو کشکول میں نہیں رکھا حاکمِ وقت کو للکارتے رہے ۔انتہا پسندوں نے محشر کے گھر کو آگ
لگا ئی محشر دربدر ہوئے ۔محترمہ بینظیر بھٹو صاحبہ کی شادی کا سہرہ ککری گراؤنڈ میں پڑھا ملک کے اخبارت میں یہ سہرہ شائع ہوا۔یہ سہرا آج بھی بلاول ہاؤس میں لگا ہے جو حاکم علی زرداری صاحب نے لگایا تھا
حدیث نبوی ہے ظلم ہو تو احتیجاج کرو ،نہ کر سکو تو دل سے ضرور اُس کو برا بھلا کہو
شاعروں کے نصیب میں دونوں طرح کے عذاب ہیں ۔منہ سے کہنے کے بھی اور دل سے محسوس کرنے کے بھی ۔یہ اُن قیدیوں کی طرح ہوتے ہیں ۔جو اپنی غلیظ کوٹھڑ یوں میں دیواروں کو کالا کر کے اپنے مقدر کی سیاہی دھونے کی کوشش کرتے ہیں ۔اِن باتوں کا اظہار کرتے ہوئے اُستاد محشر لکھنوی آبدیدہ ہوگئے
وہ فرماتے ہیں انسان اور تاریخ کے درمیان وہی رشتہ ہے جو آزادی اور غلامی کے درمیان ہوتا ہے کی اگر ہم تاریخ کے ما بعد ہیں تو ہم ہی اس کاضمیر اور ہم ہی اِس کا شکار ہیں ۔کہ اِس کا جہنم ہماری قیمت لیکر ہی بھر سکتا ہے ۔شاعر ی اسی رشتے کو انتہائی جازب طور پر منقلب کرتی ہے ۔تاریخ کی قیمت ادا کرکے ہی اِس کے وجود کا حصول ہوسکتا ہے ۔تاریخ کے بغیر کوئی شاعری ممکن نہیں مگر شاعری کا قرض تارریخ کی قلب ما ہیت کے علاوہ اور کچھ نہیں ،تاریخ پر زور دینے کا مطلب یہ ہے کہ شاعر وقت کو برہنہ کرتا ہے ۔اُس کے ہاتھ میں ننگی تلوار ہوتی ہے ۔وہ زخم جو ماضی میں لگے جیسے کربلا والوں پر ظلم کے پہاڑ ٹوٹے اُن دکھوں مصائب پر لکھنے والے نثر نگار شاعر ادیب موریخ آج سچ نہیں بولیں گے تو کب بولیں گے اپنے قلم کو میزان میں رکھنے والے ماضی کا مزار بن گئے مگر جو ظلم دریائے فرات کے کنارے بر پا ہوا تاریخ میں اِس کی مثال نہیں ملتی جہاں صبر ایوب بھی شرما گیا ۔
“کربلا والے تڑپے نہ محشر
ختم کردو یہ نوحہ یہی پر
رو دیا ہے قلم بھی یہ لکھ کر
اُٹھو اُٹھو وطن جا رہی ہوں”
آخر میں اُستاد محشر لکھنوی فرمانے لگے شاعر کو بہر حال جذبات و تاثرات کے امتزاج سے نا قابلِ اعتبار وجود تخلیق کرنے کی زمہ داری سے عہدہ بر آہونا ہوتا ہے ۔ہمیں وقت کے سانپوں نے عہدِ بچپن سے ہی ڈسنا شروع کیا ۔ہجرتوں کی در بدری کی ٹھو کریں ہمارا مقدر تھیں ۔جو قلم محکومیت اور بے حسی پر خاموش رہے ظلم پر وقت کے یزید کو نہ للکارے تو اِیسے منافق ضمیر فروش شاعروں پہ خدا کا عذاب گرے ۔(اُستاد محشر لکھنوی)
محشر صاحب کے زہن میں لطیف خیالات کا ممبع ہے ۔وہ بڑی دلچسپ باتیں کرتے ہیں ۔اُن کی شخصیت ایک سحر انگیز ہے ۔وہ تخیل کے سہارے بہت اُونچا اُڑتے ہیں ۔یہاں تک کہ بعض اوقات آنکھوں سے اوجھل ہوجاتے ہیں ۔اُنکے تخیل کی بلندی اور پرواز ی اُن کی باتوں کو ایک طرف تو بلند آہنگ بناتی ہے اور دوسری طرف کر بلا کے گھپ اندھیرے میں رو رو کر صدائیں لگانے والے مصورِ غم محشر لکھنوی اپنے قلم سے لکھ لکھ کر نوحے پڑھتے نظر آتے ہیں۔
“یہ نوحہ تیرے قلم سے محشر ،جنابِ زہرا کی عطا ہے
تمام عالم میں آج ماتم ،حُسین بے کس کا ہو رہا ہے”
اُن کا مطالعہ بہت وسیع ہے ۔لفظ ہاتھ باندھے کھڑے ہیں کہ مصورِ غم محشرلکھنوی انہے رقم کردے ۔یہ کمال آپ کو فقط محشر کے یہاں ہی ملے گا ۔ قدرت نے خوبصورت آواز دی ہے وہ آج بھی اِس بڑھاپے میں ترنم سے سلام پڑھتے ہیں ۔منقبت پڑھتے ہیں ۔محفلیں لوٹنے والے مصورِغم اُستاد محشر لکھنوی مزاج میں لکھنو کی چاشنی رکھتے ہیں اپنے لکھنو پر بڑا ناز ہے ۔لکھنو کا زکر آجائے تو پھولے نہیں سماتے ۔باتوں میں لقمہ دے کر لکھنو کی یادیں دہراتے ہیں ۔استاد محشر لکھنوی باغ و بہار آدمی ہیں ۔اُن کے پاس بیٹھئے تو اُٹھنے کا جی نہیں چاہتا ۔اُن کی ظرافت ،اُن کی زہانت و طباعی نشان دہی کرتی ہے ۔وہ خوبصورت لطیفے بھی سناتے ہیں ۔وہ فرماتے ہیں کہ کسی قوم کی تخلیقی بیماری کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ اُس کے یہاں لطیفوں کی پیدائش کا سلسلہ بند ہوجائے ۔لطیفے کسی قوم کی تخلیقی صلاحیتوں کی تاریخ کے قدموں کے نشان ہیں۔جن سے ہم اُس قوم کی پسند و نا پسند ،اُس کے رویوں ،مزاج ،اور اندازِنظر کا پتہ چلا سکتے ہیں ۔
اُستاد محشر لکھنوی فطرت کی طرح وہ بھی اپنے آرٹ کے مرتب کردہ قوانین کے سوا کسی انسان کے ساختہ آئین یا رسم و رواج کے پابند نہیں فطرت اُن سے جو کچھ کہتی ہے ۔اُسی کی زبان میں با آوازِ بلند اُس کا اعلان کر دیتے ہیں۔اب اِس بات سے کوئی ناراض ہو یا خوش اُنہے اِس کی پروا نہیں رہتی ۔تعلیمی اعتبار سے اُستاد محشر لکھنوی نے گھر پر اُردو ،فارسی اور عربی کی تعلیم حاصل کی تاریخی علوم پر گہری نگاہ رکھتے ہیں سیاسی تدبر دنیا میں رونما ہونے والے سیاسی منظر نامے سے بھی غافل نہیں ۔محشر کی شاعری کا آغاز اُس وقت ہوا جب لکھنو کی فضا ء اور ماحول شعر سے بسا ہوا تھا ۔محشر کی شاعری کا اصل آغاز اُس وقت سے سمجھنا چاہیے جب سے اُنہوں نے روایات و مفروضات کی قید وبند اپنی گلو خلاصی کی اور مصنوئی کیفیات کے بیان کو ترک کرکے پنجتن پاک کی مدعا سرائی کی ۔وہ کہیں امام حسین کے چھ ماہ کے علی اصغر کے غم میں گرفتار نظر آتے ہیں تو کہیں شہزادہ قاسم سُمِ اسپا سے روندھے گئے اُن کے نوحے لکھنے بیٹھ جاتے ہیں
میدانِ کربلا میں شبہہ محمد علی اکبر کی برچھی پر بلک بلک کر رونے لگتے ہیں ۔بی بی سکینہ کے طمانچوں کو قلمبند کرتے نظر آتے ہیں ۔بی بی زینب کی بہادری اور اُن کے دل پر لگے زخموں سے ۔محشر کے قلم سے خون ٹپکنے لگتا ہے ۔کہیں عباس کی وفاداری بہادری پر ماتم کناں نوحے لکھتے ہیں ۔تو کہیں امام حسین کی مظلومیت پر گریہ آہ فغاں کرتے نظر آتے ہیں ۔
“چھینے گا کون تجھ سے زمانے میں جیتے جی
محشر تیرا قلم ہے امانت حُسین کی
تھی کربلا میں حق کو ضرورت حُسین کی
لگتی وطن میں کیسے ہائے طبعیت حُسین کی”
حضرتِ رئیس امروہوی صاحب کے دستِ راست رہے ۔پیپلز پارٹی کے عشق میں گرفتار محشر لکھنوی نے آج تلک کوئی پلاٹ پرمٹ نہیں لیا ۔پیپلز پارٹی کو سیاسی نعرے دئے ۔
“جمہوریت کا ملک میں جب آئے زمانہ
اے اہلِ وطن دیکھو مجھے بھول نہ جانا”
محشر چالیس سال پیپلز پارٹی کے کارکن رہے ۔محشر لکھنوی کو یہ ملکہ بھی حاصل ہے کہ حالاتِ حاضرہ پر فی البدیہ قطع یا نظم لکھ دیتے ہیں جو اپنی مثال آپ ہوتی ہے ۔محشر داستانِ غم طویل ترین ہے ۔اُنہے رنج و ملال ہے کہ اُنہے وہ مقام حاصل نہیں ہوا جسکے وہ حقدار تھے ۔
“جی میں آتی ہے کہ سر پھوڑ کے مرجائیں گے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کد ھر جائیں گے” (محشر لکھنوی)
شاعری میں حمد ،نعت ،منقبت ،قوالی ،سلام نوحے ،مرثیہ نظم ربائی غزل ،ہزل ،طنز و مزاح یعنی کوئی صنف ایسی نہیں جس میں محشر کو جس پہ عبور حاصل نہ ہو ۔آج بھی محشر کے نوحے جہاں جہاں اُردو پڑھی اور بولی جاتی ہے محشر کے نوحے ،سلام مرثیہ منفرد لب و لہجہ کے ساتھ نظر آتے ہیں۔انجمن محمد ی قدیم ،انجمنِ تبلیغ امامیہ ،انجمن گلزارِ محمدی ،ذولفقارِ حیدری ،ناصر العزا ،انجمن ذولفقار مر تضوی ،حیدری علی بستی ،

معمر شاعر اُستاد محشر لکھنوی جن کا اصل نام سید محسن رضا نقوی المعروف محشر لکھنوی ہے ۔ محشر لکھنوی غزل کے شاعر ہیں۔اِسکے علاوہ نوحہ منقعبت مرثیہ نگاری میں مہارت رکھتے ہیں۔شورش کاشمیری کے روزنامہ چٹان میں کام کرنے والے محشر لکھنوی گردشِ حالات سے تنگ آکر کراچی میں رکشہ چلانے لگے تو کبھی سولجر بازار میں مونگ پھلی کا ٹھیلہ لگانے لگے ۔تو کبھی ساحلِ سمندر پر بچوں کی ٹافیاں بیچنے لگے ۔1957میں شورش کاشمیری یہ جان کے محشر لکھنوی کے جدِ امجد مولانا غفران تھے یہ سُن کر شورش

کاشمیری آبدیدہ ہوگئے ۔شورش کاشمیری نے محشر لکھنوی کے لئے بہت کچھ کیا ۔محشرلکھنوی کے والدِ مولانا حکیم سید محمد یوسف علیم لکھنو کے کئی مدارس میں معلم تھے ۔تقسیم کے بعد محشر نے کراچی میں مستقل سکونت اختیار کر لی غربت بد حالی نے محشر سے وہ کام بھی لئے جو محشر کی فطرت میں نہیں تھے ۔گھروں میں رنگ و روغن بھی کرنے لگے ۔ٹرینوں میں لیمن سوڈا کی بوتلیں بھی فروخت کی تا کہ گھر کا گزارہ ہوسکے ۔جب محشر عباس ٹاؤن کراچی میں ایک شکستہ سے مکان میں مقیم تھے تو وہاں اُنکا ننھا سیا بیٹا موذی مرض کا شکار ہوا جو کچھ کماتے اُس کے علاج معالجے پر لگ جاتا ایک روز محشر کا لختِ جگر دنیا سے رخصت ہوگیا غموں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے محشر نے اپنے درینہ دوست سے کچھ پیسے اُدھار لئے اور اپنے بیٹے کی لاش کو اُٹھا کر سہراب گوٹھ کے قبرستان پہنچ گئے ۔خود قبر کھودی اور اپنے لختِ جگر کو سپردِ خاک کیا۔آج اُس قبرستان پر ایک پیڑول پمپ بن چکا ہے ۔محشر جب بھی وہاں سے گزرتے ہیں سر نیچے کئے آبدیدہ ہوجاتے ہیں ۔گردشِ حالات نے محشر کو کبھی چین سے رہنے نہ دیا آج محشر فیڈرل بی ایریا میں واقعہ کیفے پیالہ کے

قریب ایک غریب پرور بستی میں زندگی کے دن گزار رہے ہیں ۔کچھ عرصہ قبل محشر کے داماد سید مختار حسین بخاری ایڈ وکیٹ کو شہید کر دیا گیا بیوہ بیٹی کا بار بھی اِن بوڑھے نحیف کاندھوں پر آگیا ۔غمِ حسین میں ڈوبا یہ

شاعر جن کے آفاقی کلام نے تاریخِ نوحہ خوانی میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا گمنام نوحہ خواں آج شہرت کی بلندیوں پر ہیں ۔محشر لکھنوی نے جو کلام بھی لکھا وہ لا جواب ہوگیا ۔محشر لکھنوی مرثیہ لکھنے میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتے ۔گھوڑوں کے دوڑنے ،تلواروں کے چمکنے ،نیزوں کے چلنے ،تیروں کے لہرانے ،زخموں کے گرنے اور لہو کے اُچھلنے کے مناظر کو درد ناک لہوں میں ڈوبے قلم سے قلمبند کیا ہے ۔وہ منفرد لب و لہجہ ہے ۔محشر لکھنوی کے مرثیوں کا مطالعہ ہم مختلف جہتوں سے کر سکتے ہیں ۔

“بس وہ فشارِ قبر سے محشر بچائے گا
جس نے شگاف ڈال دیا مہتاب دیا
یا رب یہ التماس ہے تیری جناب میں
مجھ کو ملا دے خاکِ بو تراب میں ”
اِن میں انسانی رشتوں سے وابستہ جذبات کا اظہار بھی ہے ۔تہذیب کی مرقع نگاری بھی ہے اور فطرت کے مناظر بھی ہیں ۔محشر لکھنوی کے قوتِ بیان نے اِس مختصر جنگ کر بلا کو شاہنامے کے بیان رزم کے مقابل لا کھڑا کیا ہے۔
کر بلا کی جنگ واحد جنگ ہے جہاں امام حسین جنگی اعتبار سے جنگ ہار کر بھی فتح یاب ہوئے ۔
محشر لکھنوی کے مرثیوں میں واقعات کا بیان امام حسین کی مدینہ روانگی سے شروع ہوتا ہے ۔اِس سفر میں راستے کی دشواریاں بھی رزم ہی کا حصہ ہیں ۔پھر جب میدانِ کربلا میں یزیدی فوجیں اُنہیں پیش قدمی سے روک لیتی ہیں ۔پھر امام حسین وہیں خیمہ زن ہوتے ہیں ،فرات قریب ہونے کے باوجود اُنہے اور انکے خاندان والوں کو اُنکے اصحاب کو پانی نہیں ملتا ،عجیب بے کسی اور بے بسی کا عالم کا نقشہ جس طر ح محشر لکھنوی نے کھینچا ہے جو فضا سازی کی ہے وہ جنگ کے میدان کو اور بھی درد ناک بنا دیتی ہے ۔
“بھیج محشر غریب الوطن پر سلام
تشنہ لب خستہ تن بے کفن پرسلام
شہہ کے انصار پر پنجتن پر سلام
اک بھائی اور اک بہن پر سلام”

در اصل محشر نے اپنے کلام سے اِیسی فضا تشکیل دی ہے جو سامعین کو میدانِ جنگ کا حصہ بنا دیتی ہے ۔
کر بلا کے سب ہی کردار حقیقی ہیں اِس لئے تخیل کی پرواز کو محدود رکھ کر محشر لکھنوی نے الفاظ کی تپش سے بیان میں اِیسا تاثر پیدا کیا کہ صداقت کا دامن نہ چھوٹے اور نہ شدت میں کمی آئے ۔اِسی وجہہ سے محشر لکھنوی کا کلام دوسرے مرثیہ نگاروں سے زرہ مختلف نظر آتا ہے ۔حضرت عباس کی آمد کو جس جوش والہانہ اور پُر شکواہ انداز میں پیش کیا ہے وہ لا جواب انداز ہے ۔محشر لکھنوی اپنی قوتِ متخلیہ اور مبالغہ آمیزی سے مرثیے میں الفاظ جوش کھاتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں ۔یہ محشر لکھنوی کی خوبی ہے کہ اُنہوں نے مرثیہ لکھنے میں جس مہارت اور ہنر مندی سے کام کیا ہے تاریخیت کے ساتھ ساتھ ادبیت کا دامن بھی ہاتھ سے جانے نہ دیا ۔اُنہوں نے انتہائی فنکاری سے شاعری کے فنی حُسن کو برقرار رکھتے ہوئے آلاتِ حرب کی بھی تفصیل بیان کی اور جنگِ مغلوبہ کی منظر کشی بھی کی ہے ۔جنگِ مغلوبہ کے وقت محشر لکھنوی کے مرثیوں میں جس قدر جوش اور ولولہ نظر آتا ہے وہ سامیعن کے حوصلے بھی بلند کردیتا ہے اور بین کا وقت آتا ہے تو رقعت طاری ہوجاتی ہے ۔آنسوں کی بر سات ہو جاتی ہے ۔محشر لکھنوی رزم کے بیان پر بے پناہ قدرت رکھتے ہیں ۔وہ اپنے مرثیوں میں جنگ کی تیاریوں کا نقشہ بھی کھینچتے ہیں اور لڑائی کے وقت لڑنے والوں کی نقل و حرکت پر بھی کڑی نگاہ رکھتے ہیں ۔اُنہوں نے مرثیہ نگاری کو ایک نئی جدت اور خوبصورتی سے نوازا۔لفظوں کی مینا کاری اُنکا اُتار چڑھاؤ کو بڑی ریاضتوں سے نکھارا ہے ۔ہمیں اِس عظیم شاعر کے ورثہ کو محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے ۔آنے والی نسلیں اُستاد محشر لکھنوی کے علم سے آگاہ رہیں اور مستفید ہوتی رہیں ۔محشر نے زندگی کی دھوپ زیادہ جھیلی اور چھاؤں کم ہی حصے میں آئی ۔محشر لکھنوی کے فکر و فن کے بے شمار پہلو ہیں ۔کسی ایک موقع پر اِنکا احاطہ ممکن نہیں ہوسکتا ۔اور نہ ہی اُنکی قدرو قیمت کا اندازہ لگا نا ممکن نہیں ہو سکتا ۔آپ ایک کامیاب شاعر ہیں ۔محشر لکھنوی کے نا قدین ،تبصرہ

نگاروں اور ریسرچ اسکالرس خاطر خواہ جان بوجھ کر توجہ نہیں دی ۔محشر لکھنوی کی شاعری نے کربلا کے مناظر جس طرح رقم کئے آج تلک کسی شاعر نے نہیں کئے ۔محشر لکھنوی کے کلام کو کبھی زوال نہیں آسکتا رہتی دنیا تک محشر کے نوحے،مرثیے، منقبت، نعت قوالی کی صدائیں گونجتی رہیں گی ۔روزِ محشر کے دن محشر لکھنوی کے نامہ اعمال میں یہ نوحے منقبت نعتِ رسول یہ مرثیوں کے انبار یہ پنجتن کی مدعا سرائی ہوگی اُستاد محشر لکھنوی دنیائے ادب کے لئے دریائے افتخار ہیں ۔اُن کاقلم احساسِ کربلا کے زخموں پر فریاد کناں ہے ۔اُنکے کلام سے تاریخ کے محرابوں میں صدائیں گونجتی رہیں گی ۔
“زکرِ مولا میں قلم روک نہ اپنا محشر
دیکھ زینب کے نہیں سرپہ ابھی تک چادر
پُر سہ دیتا رہے اشعار سے شہہ کا محشر
رکھ تصور میں کے ہے دشت میں لاشِ سرور”
میں بڑی دیانت داری سے یہ بات کہتا جاؤں کہ محشر لکھنوی پر کبھی لکھنو بھی فخر کرے گا ۔لکھنو کے خمیر سے اُٹھا یہ چراغ مصورِ غم اِتنے زخم اور دکھ اُٹھانے کے بعد بھی پر اُمید ہے کہ حسینیت کا مشن رائیگاہ نہیں جائے گا ۔ممبروں کی تجارت اور خونِ حسین بیچنے والے زاکروں اور نوحہ خوانوں کے بد ترین مخالف ہیں ۔جنکا زریعہ معاش نامِ حسین کو بیچنا رہ گیا ہے ۔شائد اِسی وجہہ سے محشر لکھنوی تنہا ہوگئے ہیں اُنکا احتیجاج جاری ہے ۔سازشی ٹولہ ہر مقام پر محشر لکھنوی کا راستہ تنگ کئے ہوئے ہے ۔مگر محشر لکھنوی کہاں اِن باتوں سے ڈرنے والے وہ تنہا مقابلہ کر رہے ہیں ۔انتہائی محنت ،محبت و جستجو کے ساتھ حقائق کو منظرِ عام پر لایا ہوں تاکہ دنیا کو پتہ چلے کہ محشر لکھنوی کی شاعری کیا ہے اور وہ کن حالات سے دوچار ہیں ۔محشر لکھنوی کے اجداد کا وطن حجاز تھا وہ حجاز سے ہجرت کرکے لکھنو آگئے اور ڈیرے یہی جما دئے ۔پھر لکھنو سے والہانہ محبت اور لگاؤ ایسا قائم ہوا کہ آج بھی محشر لکھنوی کی آنکھیں نم ہوجاتی ہیں اپنے وطن کا نام سن کر پھر

ہجرتوں کی طویل داستان پاکستان آگئے ۔اُستاد محشر لکھنوی کے کلام کو کسی سند کی ضرورت نہیں اُن کے کلام میں ماورائے زنداں رہنے کی بھر پور قوت موجود ہے ۔وجود یاتی یا علمیاتی بیان کی حاجت بھی نہیں ،محشر لکھنوی کی شاعری اِتنی شفاف ،واضح،غیر مبہم ہے کہ برائے راست قاری کے زہن ،ذوق اور ضمیر سے مکالمہ کرتی ہے ۔محشر کی تخلیق کا عوام سے برائے راست ترسیلی رشتہ ہے ۔دونوں کے مابین کوئی دیوار بھی حائل نہیں ۔دوسرے شاعروں کے مقابلے میں محشر لکھنوی کو زندگی کی حقیقتوں کا ادراک زیادہ ہے ۔اُس کی ایک وجہ یہ ہے کہ محشر لکھنوی نے زندگی کی تفہیم اور اُس کے رموز و اسرار کی تعبیر کے باب میں صر ف اور صرف اپنی آنکھوں پہ اعتبار کیا ۔اُن کی اپنی نظر نے ہی حیات کے بہت سے راز منکشف کردئے ،جو سر بستہ تھے ۔زندگی کے مدو جزر ،نشیبو فراز کو سمجھنے کے لئے اُن کا اپنا الگ زاویہ ہے اور اِس انفرادی زاویہ نظرنے اُنہیں زندگی کے ٹھوس حقائق سے آشنا کیا ۔محشر لکھنوی کا تصور بھی عظیم ہے اور تجربہ بھی وسیع ۔ماضی حا ل اور مستقبل تینوں زمانے اُن کے احساس سے مربوط ہیں ۔اور وہ چاروں عوامل جو حقیقت کی منزلیں ہیں ۔ناسوت ،ملکوت ،جبروت اور لا ہوت وہ شعوری اور لا شعوری طور پر اُن کے احساس کا حصہ ہیں ۔محشر لکھنوی نے جس طرح حقیقتوں کا عرفان حاصل کیا ہے ویسا بہت کم شاعروں کے حصے میں آیا ہے ۔اُن کے اشعار میں اقتصادی ،سیاسی ،سماجی آزادی ،مساوات کے جذبے ملتے ہیں یہ موضوعات بھی اُن کی فنکارانہ عظمت کی علامتیں ہیں پاکستان میں عورتوں کے اوپر تشدد ،تیزاب پھینکنے کے واقعات پر محشر خاموش رہ نہ سکے ۔اُنکی اخلاقی اور جمہوری آزادی کے علمبردار رہے ہیں ۔
تحریر ۔۔۔آفتاب احمد

SHARE

1 COMMENT

LEAVE A REPLY