علی کی شیر دل بیٹی زینب سلام اللہ علیہا کا خطبہ

0
671

سید محمد شبیب حسینی

پڑھ کے نہج البلاغہ دنیا میں لوگ اچھے ادیب ہوتے ہیں
تیرے خطبوں کا فیض ہے زینب آج ہم میں خطیب ہوتے ہیں

گیارہ ہجری میں ایک بوسیدہ مکان سے پیوند لگی چادر زیب تن کئے ایک خاتون در بار خلافت کی طرف گامزن تھی وہ خاتون جس کی چادر کے پیوندوں کی ضوفشانی ماہ وانجم کی چمک دمک او رنورانیت کو شرمندہ کئے دے رہی تھی وہ خاتون کی جو سراپا نور تھی جس کی صداقت کا یہ عالم یہ تھا کہ اس کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کو عملی جامہ پہنانے کی غرض سے خالق کائنات نے خلعت جنت اس کے بچوں کے زیب تن کرنے کے لئے رضوان جنت کو خیاط بن جانے کا حکم دیا، جس کی محبت اور جانشانی کا یہ عالم تھا کہ رحمتہ للعالمین نے اسے امّ ابیہا کے لقب سے نوازا جس ک زہد و عبادت کا یہ عالم تھا کہ اسے زینت محراب، فخرالسا جدین علی ابن ابی طالب علیہما السلامنے عبادت میں اپنا بہترین شریک قرار دیا وہ بزرگ خاتون احقاق حق اور چہرئہ باطل سے پردہ ہٹانے کے لئے دربار کا رخ کرتی ہیں اور اس بی بی نے دربار خلافت میں ایسا خطبہ پڑھا کہ چشم کائنات متحیر ہو گئی ۔ عرب کے فصیح و بلیغ افراد اپنے کو گونگا محسوس کرنے لگے اور علماء کے لئے یہ معلوم کر پانا مشکل ہو گیا کہ اس خطبہ میں کہاں خدا کا کلام ہے اور کہاں بنت پیا ممبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا!

اس بی بی نے بھرے دربار میں ظالموں کو شر مسار کر دیا اور باطل کے چہرے سے اس طریقے سے نقاب ہٹا ئی کہ قیام قیامت تک کے لئے ہر حق جو کیلئے حق و باطل کے درمیان امتیاز کر پانا آسان ہو گیا اور اس خاتون نے یہ بتایادیا کہ دیکھو جب باطل زیادہ سر اٹھانے کی کوشش کر یگا ، تو ہم میں سے کوئی آگے آئے گا اور باطل کو اس کی سر پچیوں کا مزہ ضرور چکھا ئے گا اور اگر ضرورت پڑی تو اس امر کو انجام دینے کے لئے خاندان بنی ہاشم کی عورتیں بھی قدم آگے بڑھا سکتی ہیں۔

وہ عظیم کارنامہ جو شہزادی اسلام نے 11ھ میں انجام دیا تھا 61 ھ میں آپ کی بیٹی عقیلہ بنی ہاشم، ثانی زہرا جناب زینب کبریٰ سلام اللہ علیہ نے دہرا یا 61ھ میں جب ظلم و استبدا د اپنی انتہائی منازل تک پہنچ رہا تھا، باطل کو سر پیچیاں حد سے گذر رہی تھیں جب درندگی کے چنگل میں انسانیت دم توڑتی نظر آ رہی تھی ، شرافت و صداقت کو جب ظلم و بربریت نے اپنے سیاہ بادلوں کے گھیرے میں لے لیا تھا اس دیانت کو لباس الحاد پہنانے کی کوششیں کی جا رہی تھیں۔ دین اسلام ویران گلیوں اور سنسان بیابانوں میں ناصر و مددگار کی تلاش میں سر گرداں تھا، خلافت کے نام پر اسلام کا مذاق اڑا یا جاا رہا تھا ، در بار خلافت مداریوں اور طوائفوں کا اڈا بن گیا تھا، پھر ایسے ماحول میں کچھ دینداروں کی نگاہیں جناب زہرا سلام اللہ علیہا کوتلاش کر رہی تھیں، اس وقت جناب زہرا سلام اللہ علیہا تو نہ تھیںلیکن ثانی زہرا سلام اللہ علیہانے یہ آوا ز دی کہ اگر زہرا نہیں تو ثانی زہرا موجود ہے ، اور اس باعظمت خاتون نے دربار شام میں وہ شجاعانہ خطبہ دیا کہ زبانیں یہ کہنے پر مجبور ہو گئیں کہ :

دلیر باپ کی بیٹی کا نام ہے زینب

اس خطبے سے سوتے ہوئے ذہن جاگنے لگے چہرہ باطل سے پردہ اٹھ گیا ، وہ ایسا خطبہ تھا کہ جسے سن کر لوگ دنگ رہ گئے ، جناب زینت سلام اللہ علیہاکی تقریر سننے کے بعد لوگوں کے لئے یہ سمجھ پانا مشکل ہو گیا کہ کوئی خاتون دربار خلافت میں تقریر کر رہی ہیں یا، علی مرتضیٰ مسجد کو فہ میں خطبہ دے رہے ہیں ، وہ خطبہ اس قد حکمت آمیز تھا کہ صاحبان عقل و خر آج بھی یہ کہتے ہوئے نظر آرہے ہیں

دیار شام میں خطبہ حکیما نہ تھا زینت کا

کربلا میں امام حسین علیہ السلامکی شہادت کے بعد مقصد حسینی کو دنیا تک پہونچانے والاکوئی نہ تھا اگر زینب سلام اللہ علیہا نے سید سجاد علیہ السلام کے ساتھ اس کام کو انجام نہ دیا ہوگا، اس وقت کہ جب درباری مؤرخین سید الشہداء علیہ السلام کو ایک خارجی سے تعبیر کر رہے تھے، جب ضمیر فروش مقررین منبر رسول کے خلاف تبلیغات سوء کر رہے تھے تو وہ زینب سلام اللہ علیہا ہی تھیں کہ جنہوں نے آراستہ دربار میں سیکڑوں کے مجمع میں اثبات حق کے لئے اپنے لبوں کو جنبش دی اور خواب غفلت میں پڑے ذہنوں کو جھنجھوڑا، ہفتوں کی پیاس کے باوجود ایسی تقریر فرمائی کہ دربار خلافت میں ایک تلاطم مچ گیا ، یزید یت دم توڑنے لگی، اور اس طریقہ سے زینت نے بھرے دربار میں فتح حسینی کا اعلان کر دیا ثانی زہرا سلام اللہ علیہااثبات حق کے لئے اور چہرئہ باطل سے نقاب ہٹانے کے لئے زہرا ہی کی طرح آیات قرآنی کا سہارا لیا اور فرمایا کہ شکر ہے عالمین کے رب کا، درورد و سلام و آل رسول پر، خدائے پاک نے صحیح فرمایا ہے کہ ﴿عم کان عاقبۃ الذین اباؤ االسوء ان کنبو ابأیات اللہ و کانو ایہا یستہزنون﴾ برے کام کرنے والوں کا انجام برا ہے کہ ان لوگوں نے آیات خدا کی تکذیب کی اور اس کا مذاق اڑایا اے یزید کیا تو یہ گمان کرتا ہے کہ تو نے ہمارے لئے زمین و آسمان کے دروازوں کو بند کر دیا ہے اور ہم کو غلاموں کی طرح پھرایا ہے ، تو ہم خدا کے نزدیک ذلیل ہو گئے اور تو ذی وقار ؟ اور اس طرح سے ہم پر تیرا غلبہ ہو گیا، لہٰذا خدا کے نزدیک تیری عزّت اور سر بلندی کے مترادف ہے ؟ پس تو نے تکبّر کیا اور یہ سمجھ بیٹھا کہ فاتح عالم ہے تھوڑا قدم بڑھا، کیا قول خدا کو بھلا بیٹھا ہے :
﴿ولا یحسبنّ الذین کفر واانّما نملی لہم لیزدادواانسمأ و لہم عذاب الیہم﴾

کافروں کو یہ گمان نہیں کرنا چاہئے کہ ہم نے انہیں مہلت دی اس لئے کہ ہم ان کا بھلا چاہتے ہیں ، نہ ! ایسا نہیں ہے، بلکہ ہم نے انہیں مہلت دی تاکہ وہ گناہ زیادہ کریں اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے آپ یزید کو مخاطب کر کے آگے ارشاد فرماتی ہیں کہ:

﴿ أمن العدل با بن الطلقاء تضبرک ہرابرک و امائک و بو فک بنات رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بایاافد ھتلت بنور ہن و ابدلت وجو ہنّا﴾
…… ا ے میرے جد کے آزاد کردہ غلام کے بیٹے کیا یہی انصاف ہے کہ تو اپنی عورتوں اور کنیزوں کو تو پس پردہ رکھے اور رسول زادیوں کو اسیر کر کے کشاں کشاں پھرائے؟ بے پردہ شہر بہ شہر لے جایا جائے ؟ اور نا محرموں کی نگاہیں ان کے چہروں پر ہو ں تو نے ذریت پیغمبرکا خون بہایا کہ جو آل عبدالمطلب میں روئے زمین پر ستاروں کے مانند تھے تو نے جو یہ کہا کہ :
لیث اتبا فی ببدر نہروا جزع الخزرج من وقع الال
لعبث ہما ئم با لملک فدا ضبر جاء ولا وہی نزل
تو جس طریقہ سے تو نے آج اپنے بزرگوں کو یاد کیا اور اپنے اسلاف کو آواز دی، پریشان نہ ہو کہ عنقریب تو ان سے ملے گا اور یہ آرزو کر ے گا کہ اے کاش تیرے ہاتھ شل ہو گئے ہوتے اور تیری زبان گنگ ہو گئی ہ ہو تی اور تو وہ باتیں نہ کہتا جو کہیں وہ کام نہ کر تا جو کیا !
بہ خدا قسم تو نے خود اپنی کھال کھینچی، اپنے گوشت کو ٹکڑے ٹکڑے کیا، تو رسول کے پاس حاضر ہوگا اس حال میں کہ تیرے دوش پر خون آل رسول صلی اللہ علیہ و آلہ کا بار ہوگا،

﴿ولا تحسبنّ الذین قتلو افی سبیل اللہ امواتا بل اہیاء عند ربہم یر زقو ن ﴾

و کفیٰ با للہ ہما کمأو بحمدخصمأ و بجبرئیل ظہیرأ(رفع المسجوع ض۔۵۱)

جناب زینب سلام اللہ علیہا کا خطبہ الفاظ کا وہ بحر ذ خار ہے کہ جس کی و شجاعت صبر و استقامت علم و حلم کے موتی کسب کئے جا سکتے ہیں خلاصئہ کلام یہ کہ جناب زینب سلام اللہ علیہاکا ایک خطبہ اس قدر مؤثر تھا کہ جس نے اسلام کی جاتی ہوئی آبرو کو بچا لیا مقصد حسینی کو پائمال ہونے سے محفوظ کر لیا کلمہ توحید کو صبح قیامت تک کے لئے جلا بخش دی انسانیت کو حیات جاوید عطا کی اور یہ بتادیا کہ کل ہماری ماں نے چہرئہ باطل سے نقاب ہٹائی تھی اور آج ہم اس کارنامہ کو اس طرح دوہرارہے ہیں کہ تا قیامت اس کی یاد باقی رہے گی۔

عصمت و عظمت و تو قیر مجسم ز ینب گلشن حیدر کرار کی شبنم زینب
کار شبیر کی حامی معظم زینب راہ اسلام میں قربانی پیہم زینب
حق عطا قطرے کو کر سکتا ہے دریا ہونا
ورنہ آسان نہیں ثانی زہرا ہونا
٭٭٭٭٭
یو این این

SHARE

LEAVE A REPLY