امریکی حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقاتی ادارے فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) نے امریکی حکومت کی حساس دستاویزات کو عام کرنے میں ملوث امریکی فضائیہ کے نیشنل گارڈز کے ایک 21 سالہ اہلکار کو گرفتار کر لیا ہے۔
خبر رساں ادارے کے مطابق ٹی وی نیٹ ورکس پر براہ راست نشر کی گئی گرفتاری ایک ہفتے تک جاری رہنے والی تحقیقات کے بعد کی گئی ہے۔
امریکی اٹارنی جنرل میرک گارلینڈ نے بتایا ہے کہ ائر فورس نیشنل گارڈ کے ایک رکن کو جسے انتہائی کلاسیفائیڈ ملٹری ڈاکومنٹس کے لیک کرنے میں ایک ’ پرسن آف انٹرسٹ’ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، گرفتار کرلیا گیا ہے۔
تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ گرفتار سیکیورٹی اہلکار انٹیلی جنس معاملات میں مہارت رکھتا ہے اور اس نے آن لائن چیٹ گروپس میں دستاویزات پوسٹ کی تھیں۔ اٹارنی جنرل نے گرفتار کیے جانے والے شخص کی شناخت جیک ڈگلس ٹیکشیرا کے نام سے کی ہے اور کہا ہے کہ ملزم پر قومی دفاع سے متعلق کلاسیفائیڈ معلومات کو غیر قانونی طور پر حاصل کرنےکا الزام عائد کیا جائے گا۔
امریکی نیشنل گارڈز بیورو نے کہا کہ جیک ٹیکسیرا ستمبر 2019 میں بھرتی ہوئے۔ وہ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور کمیونیکیشن کے ماہر ہیں جو ایئرمین فرسٹ کلاس کے رینک تک پہنچ گئے جو فضائیہ کے اہلکاروں کا تیسرا سب سے چھوٹا عہدہ ہے۔
امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کا کہنا ہے کہ خفیہ دستاویزت کا عام ہونا امریکی سلامتی کے لیے ’بہت سنگین‘ خطرہ ہے۔ ادارے کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل پیٹ رائڈر نے اسے ’جان بوجھ کر کیا گیا جرم‘ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔











