آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے قازقستان میں حادثے کا شکار ہونے والے طیارے پر روسی ہم منصب کی معافی کے بعد ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے روسی حکام کی جانب سے طیارہ حادثے میں حقائق چھپانے کی واضح کوششیں دیکھیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق 25 دسمبر کو قازقستان میں گرنے والے آذربائیجان کے مسافر طیارے کے معاملے پر آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے کہا کہ طیارہ روسی حملے کا نشانہ بنا۔
روسی صدر پیوٹن کی جانب سے حادثے پر کی گئی معذرت پر صدر الہام علیوف نے کہا کہ ہمارا طیارہ حادثاتی طور پر مارا گیا مگر بدقسمتی سے ہم نے طیارہ حادثے کی حقیقت چھپانے کی واضح کوششیں دیکھیں اور پہلے 3 دن تک روس کی جانب سے صرف مضحکہ خیز باتیں سننے کو ملیں۔
خیال رہےکہ 25 دسمبر کو آذر بائیجان کا مسافر طیارہ قازقستان کے شہر اکتاؤ کے نزدیک گر کر تباہ ہوا تھا جس میں 38 افراد ہلاک اور 29 زخمی ہوئے تھے۔
حادثے کے 3 دن بعد روسی صدر ولادمیر پیوٹن نے آذربائیجان کے صدر الہام علیوف سےطیارے کو غلطی سے مار گرائے جانے کا اعتراف کرتے ہوئے معافی مانگی تاہم اس سے قبل کریملن کی جانب سے کہا گیا تھا کہ طیارہ پرندہ ٹکرانے کے باعث اور خراب موسم کی وجہ سے اپنا روٹ بدلنے کی وجہ سے حادثے کا شکار ہوا۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
روسی صدر پیوٹن نے آذر بائیجان کے طیارہ حادثے پر معافی مانگ لی۔
خبر ایجنسی کے مطابق روسی صدر نے آذربائیجان کے ہم منصب الہام علیوف کو ٹیلیفون کیا، روسی صدر نے طیارے کو پہنچنے والے نقصان اور شہریوں کی ہلاکت پر معافی مانگ لی، روسی صدر نے متاثرین کے خاندان کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا۔
خبر ایجنسی نے مزید بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے واقعہ کی جامع تحقیقات کرانے پر اتفاق کیا، آذربائیجان ایئرلائنز کا طیارہ 25 دسمبر کو قازقستان کے شہر اقتاؤ میں گر کر تباہ ہو گیا تھا، حادثے میں 38 افراد ہلاک اور 29 زندہ بچ گئے تھے۔
……………………
قازقستان میں آذر بائیجان کے طیارےکو حادثہ پیش آنے والے حادثے کے حوالے سے آذربائیجان کے رکن پارلیمنٹ نے روس سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔
جیو نیوز کے مطابق رکن پارلیمنٹ آذربائیجان راسم موسیٰ بیوف کا کہنا ہے روس کو طیارہ حادثے کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے، ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی اور متاثرین کو معاوضےکا اعلان کرنا چاہیے۔
دوسری جانب ترجمان روسی پارلیمنٹ دیمتری پیسکوف کا کہنا ہے طیارہ حادثےکی تحقیقات جاری ہیں، جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہوتیں کسی قسم کا تبصرہ نہیں کر سکتے، معلومات صرف روسی ایوی ایشن حکام کی طرف سے آسکتی ہیں۔
خیال رہے کہ آذربائیجان ائیر لائن کا مسافر طیارہ 25 دسمبر کو باکو سے چیچنیا کے شہر گروزنی جاتے ہوئے قازقستان کے شہر اکتاو میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔میڈیارپورٹس کے مطابق طیارہ چیچنیا کے نیکولیوسکوئی گاؤں کے قریب پھنس کر رہ گیا تھا، ابتدائی طور پر پائلٹس کا خیال تھا کہ پرندہ ٹکرانے سے طیارےکو نقصان پہنچا ہے، بعد میں فلائٹ کمانڈر نے بتایا کہ گروزنی میں کارپٹ پلان کی اطلاع دی گئی تھی، کارپٹ پلان ایمرجنسی کی صورت میں فضائی حدود بند کرنے کا پروٹوکول ہے، تب تک طیارے میں خرابی کی اطلاع اور رخ تبدیلی کرنے کی درخواست کی جا چکی تھی۔
سربراہ روسی فیڈرل ائیر ٹرانسپورٹ ایجنسی دیمتری یادروف کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ حادثے کے روز گروزنی میں پیچیدہ صورتحال تھی، یوکرین کے لڑاکا ڈرون گروزنی اور ویلادیکاوکاز پر حملےکر رہے تھے۔
روسی میڈیا کا کہنا ہے طیارہ حادثے کے روز صبح کے وقت 3 لڑاکا ڈرون روکے گئے تھے جبکہ آذربائیجانی حکام کا کہنا ہے کہ گروزنی ائیر پورٹ کے قریب 2 پینٹسر ائیر ڈیفنس سسٹم نصب کیے گئے ہیں، مسافر طیارہ ممکنہ طور پر پینٹسر ائیر ڈیفنس سسٹم کا نشانہ بنا۔













