مولانا آغا نعمت اللہ جان درانی۔نیلما ناہید درانی

0
58

مولانا آغا نعمت اللہ جان درانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔جن کا تخلص احقر امرتسری تھا۔۔۔میرے دادا جان تھے۔۔۔جن کو سب بڑے آغا جی اور بچے بابا جان کہتے تھے۔۔۔
آغاجی کا بچپن اور جوانی لدھیانہ شہر کے شہزادوں کے محلے میں گزرے۔۔۔جہاں افغانستان سے آئے سدوزئی قبیلے کے لوگ آباد تھے۔۔افغان شاھی خاندان سے تعلق کی وجہ سے یہ سب شہزادے کہلاتے تھے۔۔حکومت برطانیہ نے ان کے وظائف مقرر کر رکھے تھے۔۔۔لہذا سب شہزادے کبوتر اڑاتے اور بٹیر لڑاتے تھے۔۔۔آغا جی ان سب سے الگ تھلگ تھے۔۔۔کتابوں کے رسیا۔۔علم کے دیوانے۔۔۔کتابیں پڑھتے۔۔مذاکروں، مباحثوں میں شرکت کرتے۔۔۔جہاں سے کوئی حکمت و دانائی کی بات ملتی اسے ذہن نشین کر لیتے۔۔۔سچ اور جھوٹ کو اپنے علم، فہم اور مطالعہ کی روشنی میں پرکھتے۔۔۔علما کی صحبت نے ایسی آبیاری کی کہ باب علم سے شہر علم میں داخل ھوئے اور قران ناطق کے عشق میں سرشار ھو کر۔۔۔تبلیغ، تقریر اور تحریر کے ذریعے درس کربلا کی تشہیر کو اپنی زندگی کا مشن بنا لیا۔۔۔۔

سدوزئی قبیلہ جن کا شجرہ نسب احمد شاہ ابدالی سے شروع ھوتا تھا۔۔۔سنی العقیدہ تھے۔۔انھوں نے اس درمیانے قد وقامت، گندمی رنگت، کشادہ پیشانی،سیدھی مانگ اور بڑی بڑی ذھین آنکھوں والے نوجوان کو سمجھانے کی کوشش کی۔۔۔رشتہ داروں نے ترک تعلقات کی دھمکی دی۔۔۔۔مگر ان سب کا ان پر کوئی اثر نا ھوا۔۔۔وہ تو حب علی و اہل بیت میں سرشار ھو چکے تھے۔۔۔۔
سب کچھ چھوڑ کر اپنی زوجہ کنیز فاطمہ اور بچوں کے ھمراہ امرتسر چلے گئے۔۔۔بہت سے جلسوں میں تقریریں کیں۔۔۔مناظرے جیتے۔۔۔کتابیں لکھیں۔۔۔اسی دوران برصغیر تقسیم ھو گیا۔۔۔ان کے محلہ شریف پورہ میں مسلمانوں کی اکثریت تھی۔۔چند گھر سکھوں اور ھندووں کے تھے۔۔۔فسادات کے دوران ان سب کی حفاظت کی اور انھیں اس علاقے سے بحاظت نکلنے مۓں مدد کی۔۔۔۔وہ مبلغ اسلام تھے لیکن انسانیت ان کا پہلا مشن تھا۔۔۔پھر وہ وقت آیا جب انھیں وھاں سے نکلنا ہڑا۔۔۔گھر کے تمام لوگ پہلے ھی پاکستان جا چکے تھے۔۔۔۔صرف ان کا بڑا بیٹا آغا اعجاز حسین ان کے ساتھ تھا۔۔۔اپنے بھرے گھر سے کتابوں کی ایک بوری اٹھائی جسے وہ اور بیٹا باری باری اٹھا کر لاھور لانے میں کامیاب ھو گئے۔۔۔۔
لاھور میں پہلے نسبت روڈ اور پھر برانڈرتھ روڈ پر رھائش اختیار کی۔۔۔امرتسر کے کئی دوست احباب بھی جو فسادات سے بچ کر آنے میں کامیاب ھوئے تھے وہ مل گئے۔۔۔۔پھر تحریر و تقریر کا سلسلہ شروع ھوا۔۔۔موچی دروازہ میں۔۔امام باڑہ حسینی بیگم، امام باڑہ فتح علی شاہ اور نثار حویلی میں مجالس پڑھنا شروع کیں۔۔۔ ،شان عزا ،اور، یاد حسین ، جیسی کتب تحریر کیں۔۔۔جو انصاف پریس سے چھپ کر ڈھیروں کی تعداد میں آتی تھیں۔۔۔
ایوب خان کا مارشل لا لگا۔۔۔تو ھر مجلس پر پابندی لگنے لگی۔۔۔۔جبکہ وہ اپنی تقریر میں کبھی متنازعہ بات نہیں کرتے تھے۔۔۔گھر اور خاندان والوں کے ساتھ ان کا رویہ دوستانہ اور مشفقانہ تھا۔۔۔وہ ھر عمر کے لوگوں میں جلدی گھل مل جاتے اور سب کو اپنا گرویدہ بنا لیتے۔۔۔۔کسی پر اپنے عقائد تھوپنے کی کوشش نہیں کرتے تھے۔۔۔اپنے بچوں کی شادیاں بھی سنی القیدہ خاندانوں میں کیں۔۔۔۔۔ان کا اخلاق، کردار اور لوگوں سے میل ملاپ کا رویہ ایسا تھا۔۔۔کہ ان کے داماد اور بہوئیں خود بخود ان کے مسلک میں شامل ھوگئے۔۔رشتہ داروں میں سے بھی کچھ علانیہ اور کچھ ڈھکے چھپے ان کی تائید کرنے لگے۔۔۔۔
زندگی بھر کبھی روزہ اور نماز قضا نہیں کی۔۔۔لیکن گھر والوں پر کبھی سختی نہیں کی نا ھی کسی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔۔۔۔۔
محلے کے بڑوں، بچوں سب کے ساتھ ان کا شفقت اور احترام کا رشتہ تھا۔۔جس کو بھی دیکھتے ھمیشہ سلام کرنے میں پہل کرتے۔۔۔سب کو اچھے ناموں سے پکارتے۔۔ محلے میں اہل حدیث کی مسجد تھی۔۔۔۔اس مسجد کے کنویں سے پانی نکال کر ٹینکی میں ڈالتے تاکہ لوگ وضو کر سکیں۔۔۔اس مسجد میں نماز بھی ادا کرتے۔۔۔
ان کا معمول تھا کہ برف خانہ چوک میں ماہنامہ ” اسد” کے ایڈیٹر شائق انبالوی اور مولانا اظہر حسن زیدی سے ملنے جاتے۔۔۔۔۔مولانا اظہر حسن زیدی کو ان سے اتنی محبت اور عقیدت تھی کہ انھوں نے ایک پوری مجلس ھی ” نعمت” کے موضوع پر پڑھ دی۔۔۔جب مولانا آغا نعمت اللہ جان ان کے سامنے بیٹھے تھے۔۔۔۔۔
لکشمی چوک میں ” شہید” کے ایڈیٹر مظفر علی شمسی سے ملنے بھی جاتے۔۔۔جہاں ان کے نائب جعفر علی میر بھی ھوتے۔۔۔
چوک رنگ محل میں ” معارف اسلام ” کا دفتر تھا۔۔۔۔ان تمام رسائل میں ان کے علمی اور تحقیقی مضامین بھی شائع ھوتے تھے۔۔۔۔
ھر اتوار کو سفید کرتہ پاجامہ پہن کر کالی شیروانی۔قراقلی ٹوپی پہنے ھاتھ میں چوبی چھڑی پکڑ کر اندرون موچی گیٹ جاتے۔۔۔جہاں ان کے دوست فتح علی شاہ کی بیٹھک میں ان کے دیگر دوست احباب بھی جمع ھوتے۔۔۔۔کشمیری چائے اور باقر خوانیوں کے ساتھ علمی مباحث کا سلسلہ بھی جاری رھتا۔۔۔۔۔۔
اس محفل کے اختتام پر وہ اپنی اکلوتی ھمشیرہ صغرا بی بی سے ملنے جاتے۔۔۔جو بیوہ تھیں اپنے دو بچوں کے ساتھ اندرون موچی گیٹ میں رھتی تھیں اور ایک سرکاری سکول میں تدریسی فرائض انجام دے رہی تھیں۔۔۔۔۔ان کے بڑے بھائی اسد اللہ خان بھی ان سے ملنے وہاں آجاتے۔۔۔۔بہن بھائیوں کی محبت کے باوجود ان میں ایک مسلکی دوری موجود رھتی جو آخر دم تک قائم رھی۔۔۔۔
میں نے بابا جان کو ھمیشہ آنکھوں میں سرمہ لگائے، سیدھی مانگ نکالے۔۔کھڑکی کے قریب کرسی پر بیٹھ کر دن کی روشنی میں کتابیں پڑھتے، ان میں نشان لگاتے اور حاشیوں پر نوٹس لکھتے دیکھا۔۔۔ان کی کتابوں میں سے کتابیں اٹھا کر اردو پڑھنا سیکھا۔۔۔۔
آغا جی گھر میں فارسی اور پنجابی بولتے تھے۔۔۔مگر تقاریر اردو میں کرتے تھے۔۔۔۔کتابیں بھی اردو میں لکھتے تھے۔۔۔
ان کی اپنی کتابوں کے اندر پہلے صفحے پر ان کی بلیک اینڈ وائٹ تصویر ھوتی تھی جس میں وہ شیروانی پہنے بے ریش نظر آتے تھے۔۔
اس تصویر کے نیچے یہ شعر درج ھوتا۔۔۔۔
جو ھے تحریر میں پنہاں وہ حقیقت دیکھو
میری صورت کو نہ دیکھو میری سیرت دیکھو۔۔۔
ان کی نثر میں بھی جا بجا اساتذہ کے اشعار شامل ھوتے۔۔۔۔
الجھا ھے پاوں یار کا زلف دراز میں
لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا

گھر میں اکثر ڈیڈی اور بابا جان آپس میں شعروں کی زبان میں گفتگو کرتے۔۔۔ اس لیے ھمیں بھی غالب اور اقبال کے اکثر اشعار حفظ ھو گئے تھے۔۔۔
جس دن آغا جی پر فالج کا حملہ ھوا۔۔۔ھم سب میو ھسپتال میں ان کے پاس بیٹھے تھے۔۔۔میں نے پوچھا۔۔” باباجان کیسے ھیں؟”
ان کے چہرے پر عجیب بےبسی تھی۔۔وہ کوشش کے باوجود جواب نہ دے پا رھے تھے۔۔۔
میں نے کہا
یہ دستور زباں بندی ھے کیسا تیری محفل میں
یہاں تو بات کرنے کو ترستی ھے زباں میری
یہ سن کر انھوں نے مسکرانے کی کوشش کی۔۔۔۔کچھ دیر بعد جب ھم گھر جانے لگے تو میں نے ان کا ھاتھ پکڑ کر پوچھا۔۔۔” بابا جان ھم گھر جائیں”
انھوں نے آنکھوں سے رکنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔جس پر میں نے کہا۔۔۔
گو ھاتھ میں جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ھے
رھنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے
یہ میرا اپنے بابا جان کے ساتھ آخری مکالمہ تھا۔۔۔۔۔
نیلما ناھید درانی

SHARE

LEAVE A REPLY