چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب) جسٹس (ر) جاوید اقبال کا پلی بارگین کے قانون کے حق میں بیان سامنے آگیا۔
نیب ہیڈ کوارٹر میں تقریب سے خطاب میں جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ پلی بارگین قانون نہ ہوتا تو لوٹی ہوئی دولت کبھی قومی خزانے میں واپس نہ آتی۔
انہوں نے کہا کہ دراصل ملک میں کوئی ادارہ اس قابل نہیں کہ وہ لوٹی ہوئی دولت واپس لاسکے،ڈریکونین لا کہنے والوں کو نہ آئین کا پتا ہے نہ اور نہ ہی قانون کی خبر ہے۔
چیئرمین نے کہا کہ پارلیمنٹ نیب قوانین میں ترمیم ضرور کرے، مگر یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ریمانڈ 15دن کردیا جائے،یہ چوری،ڈکیتی کے کیسز نہیں وائٹ کالر کرائم ہیں، تفتیش کا مناسب وقت ملنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ رقم لاہورسے چلتی ہے، اسلام آباد سے خلیجی ملک، پھر امریکا کی کسی ریاست تک جاتی ہے، جہاں اس سے پلازے خریدے جاتےہیں ۔
جسٹس(ر) جاوید اقبال نے مزید کہا کہ نیب کے خلاف منظم اور جارحانہ پروپیگنڈا کیا جارہاہے،تنقید وہ لوگ کرتے ہیں جنہیں نہ آئین کا پتہ ہے، قانون کا پتہ ہے،نہ نیب لا کا پتہ ہے، لیکن روسٹرم پر آکر نیب کو ڈریکونین لا قرار دیتےہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسفند یار ولی کیس میں سپریم کورٹ نیب قوانین کا جزئیات تک جائزہ لے چکی ہے،اس نے قانون کو ڈریکونین لا نہیں کہا،’پلی بارگین‘‘ پر بہت سے لوگ تنقید کرتے ہیں، ان کے اپنے دلائل ہوںگے لیکن میں سمجھتا ہوںکہ’پلی بارگین‘ نہ ہوتا تو جو کروڑوں روپے آج ریکور کیے گئے ہیں۔












