صفدر ہمدانی , شمس جیلانی کی کالم کہانی

0
82

مجھے ابتدائے کلام میں ہی اس امر کا اعتراف کرنا ہے کہ برادر بزرگ محبی شمس جیلانی کے کالموں کا یہ مجموعہ کم از کم تین ماہ کی تاخیر سے جو آپ احباب کے ہاتھوں میں ہے تو اس کی ساری ذمہ داری مجھ فقیر پر ہے اور اب اگر میں اس کی تاویلیں اور دلا ئل دینے لگا تو کتاب کے بارے میں گفتگو درمیان میں ہی رہ جائے گی اور مجھے خود اپنے لیئے آپ وکیل صفائی کا کردار ادا کرنا ہو گا۔ ایسی صورت میں اخلاق اور حکمت عملی دونوں کا تقاضہ ہے کہ وسیع القلبی سے اپنی خطا اور غلطی کو تسلیم کر لیا جائے اور شمس بھائی کے صبر کی داد دی جائے کہ اس سارے عرصے میں انہوں نے فقط دو یا تین بار اس ضمن میں یاددہانی کروائی اور وہ بھی کسی شکوے شکایت کے انداز میں نہیں اور وہ اس لیئے کہ اپنی برسوں کی دوستی میں اس طالب علم نے انکو کبھی شکوہ شکایت کرتے سنا ہی نہیں، وہ اگر کرتے ہیں تو فقط شکر خدا، کہ یہی انکا وِرد ہے اور یہی انکا وظیفہ۔
میں بہت خوش بخت ہوں کہ شمس بھائی کی متعدد کتابوں پر میں نے اپنی طالب علمانہ رائے انتہائی صدق دلی سے لکھی ہے اور یہ دوستی کا تقاضہ نہیں بلکہ حق بحق داد رسید کے مصداق ہے۔عالمی اخبار میں ہمارا اور برادر بزرگ شمس جیلانی کا ساتھ برسوں کا ہے اور یہ اعزاز عالمی اخبار کا ہی ہے کہ اگر میں غلط نہیں تو یہ واحد اخبار ہے جس میں وہ برسوں سے کسی ناغے کے بغیر ہفتہ وار کالم لکھتے ہیں۔ مجھے یہ کہنے دیجئے کہ فرض کا احساس شمس بھائی میں اس حد تک موجود ہے کہ ان تمام برسوں میں انہوں نے ایک بار بھی تو ناغہ نہیں کیا، وہ امریکہ جائیں،امارات کا سفر کریں،بھارت میں اعزا سے ملاقات کو جائیں یا پھر پاکستان کا سفر ہو، وہ جہاں بھی گئے کالم باقاعدگی سے لکھتے رہے اور شائع ہوتا رہا،اس تمام عرصے میں شمس بھائی کے کالم پڑھنے والوں کا ایک مخصوص طبقہ بھی پیدا ہو گیا ہے جو انکے نئے کالم کے منتظر رہتے ہیں اور شمس بھائی اپنے قارئین کو مایوس کبھی نہیں کرتے۔ میں اگر اپنے قد سے بڑی بات نہ کروں تو یہ ببانگِ دہل کہہ سکتا ہوں کہ شمس جیلانی اس عہد کے ولی ہیں اور ایسے ولی جس نے قلم کے نور کو اپنی سوچ کے دھارے میں ایسے سمویا ہے کہ قلم سے وفا بھی کی ہے اور انسانیت کی خدمت بھی۔ انکے یہ ایک سو ایک کالم دراصل انکے تحریر کردہ سینکڑوں کالموں کا انتخاب اور نچوڑ ہیں ورنہ سچ تو یہ ہے کہ عالمی اخبار کے لیئے انکے لکھے ہوئے کالموں کی تعداد بلا شبہ اتنی ہے کہ کم ازکم دس بارہ کالموں کے مجموعے آسانی سے شائع ہو سکتے ہیں۔
اس کتاب کی اشاعت کے لیئے میں نے انکو ایک عرصے تک مجبور کیا کیونکہ میری دلیل یہ تھی کہ عرقِ تحریر کتابی شکل میں آ جائے تو مریضِ مطالعہ کو جلد شفا مل جائے گی۔ وہ ایک عرصے تک ردو کد کا سہارا لیتے رہے لیکن آخر کار انہوں نے اس فقیر کی عزت رکھ لی اور مجھے یہ اعزاز مل گیا کہ اب یہ کتاب جب آپ دوستوں کے زیر مطالعہ ہے تو اسکے ثواب کا کچھ حصہ خالق لوح و قلم میرے نصیب میں بھی لکھے گا۔
میں اس امر سے آگاہ ہوں کہ نام کا شخصیت پہ یا تو کوئی اثر نہیں ہوتا یا پھر اُلٹ اثر ہوتا ہے۔ ماں باپ نام عالم علی رکھتے ہیں اور موصوف کا علم سے دور دور کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ تا ہم ایسے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے جو اپنے نام کی لاج رکھتے ہیں اور ہمارے شمس جیلانی ایسے ہی گنتی کے لوگوں میں سے ایک ہیں جو شمس از روئے کار نمایاں بھی ہیں اور شمس از روئے مطالعہ و تخلیق بھی۔اس شمس کی روشنی ذہن سے قرطاس پر نمودار ہو کے اپنے قارئین کے اذہان کو منور کرتی ہے۔
شمس بھائی شش جہت شخصیت اور ہمہ صفت موصوف ہیں اور انکی ذات کا بہترین پہلو دوسرے کی عزت کرنا ہے اور سیکھنے سکھلانے میں کسی قسم کا بُخل نہ کرنا ہے اور اسی باعث وہ اپنے حلقوں میں ہی نہیں بلکہ اپنے مخالفین کے حلقوں میں بھی عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔شمس بھائی کی کالم نگاری اس دور کے نوے فیصد اُن کالم نگاروں سے بالکل الگ ہے جو روزنامچہ کی طرح کالم نگاری کرتے ہیں اور جنکو نہ کالم نگاری کی ہیئت معلوم ہے اور نہ یہ علم ہے کہ کالم نگاری کوئی چڑیا ہے یا آبی جانور۔ شمس بھائی کو کالم نگاری اور واقعہ نگاری کے درمیان واقعی فرق معلوم ہے وگرنہ اس بے بصر عہد میں شاعری اور کالم نگاری کون ہے جو نہیں کرسکتا۔ میں ایک ایسے کالم نگار کو بھی جانتا ہوں جوکہ کالم نگاری کو قالم نگاری لکھتا ہے جیسے آج کا مقبول اور معروف شاعر غزل کو گجل کہتا ہے۔نصراللہ خان اردو صحافت کی تاریخ میں ابن انشا کے بعد سب سے بڑے فکاہیہ کالم نگار گزرے ہیں ان سے صحافت کے استاد ڈاکٹر طاہر مسعود نے پوچھا کہ ایک اچھے کالم کی کیا پہچان ہے ؟یعنی اس میں کون سی خوبیاں ہونی چاہئیں ؟۔
نصر اللہ خان نے جواب دیا کہ کالم کی سب سے بڑی خوبی یہ ہونی چاہیے کہ آپ اس کے ذریعے ملک وقوم کے مسائل حل کرنے میں لوگوں کی اس طرح مدد کریں کہ وہ سوچنے سمجھنے اور کچھ کرنے پر تیار ہو جائیں۔ کالم کا طنز اتنا بھاری نہیں ہونا چاہیے کہ پڑھنے والے کا ذہن بھاری ہو جائے بلکہ اسے بڑے سلیقے کے ساتھ پیش کرنا چاہیے ۔ اداریے اور کالم میں یہی بنیادی فرق ہے ۔ اداریہ ایک سیدھی چال ہے جبکہ کالم میں وہی باتیں ہوتی ہیں لیکن انداز ذرا مختلف ہوتا ہے ۔ یہ ایک ہلکی پھلکی مزہ دینے والی تحریر ہوتی ہے جس کا انداز یوں ہوتا ہے کہ جیسے آپ کسی کی چٹکیاں لے کر اسے سمجھانے کی کوشش کریں۔ لطیفے اور الفاظ سے کھیلنا، کسی کی محرومی کا مذاق اڑانا، کالم نویسی کے احاطے میں آتا ہے اور نہ صحافت کے ۔عالی جناب نصر اللہ خان کا فرمایا ہوا پتھر پہ لکیر ہے اور خود نصر اللہ خان چراغ حسن حسرت جیسے جید کالم نگار کو اپنا رہنما کہتے تھے۔ دراصل مسلہ یہ ہے کہ اب جس کے ہاتھ میں قلم کی جگہ کمپیوٹر کا کی بورڈ ہے وہ اور کچھ نہیں تو کالم نگار ضرور ہے۔ ایک وقت یہ تھا جب کالم لکھنے والے فقط کالم لکھتے تھے لیکن اب تو صحافی بھی کالم نگار ہے اور اخبار کا مدیر تو کالم نگار ہونا اپنا پیدائشی حق سمجھتا ہے۔ اس صورت حال نے خالص کالم نگاری کو نقصان پہنچایا ہے لیکن شمس جیلانی جیسے کالم نگاروں نے اس اندھیرے میں ایک روشن چراغ کا کردار ضرور ادا کیا ہے۔ زیر نظر کتاب میں جب آپ ان ایک سو ایک کالموں میں موضوعات کا تنوع دیکھیں گے تو آپکو شمس بھائی کے ذہن کی زرخیزی پر ایمان لانا پڑے گا۔ انہوں نے چونکہ اپنی عملی زندگی ایک دیندار اور ایماندار شخص کے طور پر گزاری ہے ،انکی اس زندگی کا عکس انکے کالموں میں موجود ہے۔ وہ پہلے کالم نگار ہیں جنہوں نے تاریخِ اردوا دب میں ایک نیا اسلوب روشناس کرایا ہے جس میں ان سے پہلے کسی نے قلم آزمائی نہیں کی وہ ہے لطیف پیرائے میں قرآن اور اسوہ حسنہ (ص)کو ا نتہائی کامیابی سے پیش کرنا جو کہ ان کی زندگی کا مشن ہے۔
ہمارے نشریاتی دوست ڈرامہ نگار عارف وقار نے اپنے ایک مضمون میں ایک خوبصورت بات کی ہے اور میں نے سوچا کہ اسے آ پ کے ساتھ شیئر کیا جائے۔ عارف وقار کہتے ہیں۔۔۔۔146146کالم نگاروں کی بے شمار قسموں میں ریٹائرڈ افسروں کی قبیل سب سے صبر آزما ہے 145145 اِن کے کالم146146پدرم سلطان بود145145 سے شروع ہو کر146146پسرم سلطان است145145پر ختم ہوتے ہیں۔ اِن میں سے بعض سابقہ ملازمینِ سرکار نے کالم نگاری کا شغل محض اس لئے اختیار کیا ہے کہ جب تین چار سو کالم اکٹھے ہو جائیں گے تو انھیں آگے پیچھے جوڑ کر ایک سوانح عمری تیار کر لی جائے گی۔ کالموں سے کوئی آمدنی ہو یا نہ ہو خود نوشت تو پرانے تعلقات کے بل بوتے پر ہر سرکاری لائبریری میں جائے گی۔۔۔ اور لیجئے یہ تازہ خبر بھی سن لیجئے کے ایٹمی شہرت کے مالک، وطن کے بطلِ جلیل ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے بھی کالم نگاری کا اعلان کردیا ہے ۔ اعلانات تو خیر انھوں نے پہلے بھی بہت سے کئے لیکن اس اعلان پر تو انھوں نے عمل بھی کردکھایا اور ملک کے وسیع الاشاعت اخبار میں انکا پہلا کالم شائع بھی ہوگیا ہے ۔ اگر آپ سوچ رہے ہوں کہ اُن کی تو انگریزی کو بھی146146بابو انگلش145145 کہہ کر چھیڑا جاتا ہے ، چہ جائیکہ وہ اُردو میں خامہ فرسائی کریں، تو حضور آپکی معلومات کے لئے عرض ہے کہ عبدالقدیر خان کی اُردو دیکھ کر بڑے بڑے کالم نگاروں کے طوطے اُڑ جائیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔عارف وقار کی اس تحریر پر تبصرے کی گنجائش نہیں۔مجھے خوشی ہوئی کہ میں نے کسی روایتی کالم نگار کے لیئے دوستی اور محبت کے ناطے کوئی چند توصیفی جملے نہیں لکھے ہیں بلکہ ایک صاحب طرز استاد کالم نگار کے معیاری اورمنتخب کالموں پر اپنی طالب علمانہ رائے دی ہے۔
اب اگر میں شمس جیلانی کے مطبوعہ کالموں میں سے خفیہ گوشے اجاگر کرنے کے لیئے کالموں سے اقتباسات لکھنے لگوں تو یہ بذات خود ایک الگ کتاب بن جائے گی اور یوں بھی میرا فلسفہ ادب یہ ہے کہ یہ حق قاری کا ہے کہ وہ خود کتاب کو پڑھے اور اپنی رائے قائم کرے۔ مجھ جیسے لوگ کیوں انگلی پکڑ کر انکو اس طرف مائل کریں کہ وہ اپنی رائے میں ہماری مرضی بھی شامل کر لیں۔
میں برادر بزرگ محسن و محبی شمس جیلانی کو کالموں کے اس مجموعے پر اپنی طرف سے اور عالمی اخبار کی طرف سے دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں اور میری دعا ہے کہ انکا قلم اسی طرح جوان رہے اور انکے افکار نمو پاتے رہیں۔ انکے کالموں کے اس مجموعے کا مطالعہ قارئین کو بہت سی دنیاؤں سے متعارف کروائے گا۔

دعا گو
صفدر ہمدانی
سرے۔ بینسٹیڈ۔ برطانیہ

SHARE

LEAVE A REPLY