پولیس نے برطانیہ کے بادشاہ چارلس کے بھائی اینڈریو ماؤنٹ بیٹن کو گرفتار کرلیا

0
1860

برطانوی بادشاہ چارلس سوم کے چھوٹے بھائی اینڈریو ماؤنٹ بیٹن کو سرکاری عہدے میں بدانتظامی کے شبے میں گرفتار کر لیا گیا۔

اینڈریو ماؤنٹ بیٹن پر الزام ہے کہ انہوں نے خفیہ سرکاری دستاویزات بدنام زمانہ امریکی مجرم جیفری ایپسٹین کو فراہم کیں۔

خبر رساں ادارے کے مطابق اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر کو جمعرات کے روز ٹیمز ویلی پولیس کے تفتیش کاروں نے حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی۔

پولیس رواں ماہ یہ اعلان کر چکی تھی کہ وہ ان الزامات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ اینڈریو نے بطور تجارتی ایلچی خدمات انجام دیتے ہوئے جیفری ایپسٹین کو سرکاری دستاویزات فراہم کیں۔

اینڈیرو ماؤنٹ بیٹن ماضی میں ایپسٹین سے متعلق کسی بھی غیر قانونی عمل کی تردید کرتے رہے ہیں اور ان سے دوستی پر افسوس کا اظہار کر چکے ہیں۔ تاہم امریکی حکومت کی جانب سے حالیہ دستاویزات کے اجرا کے بعد انہوں نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

یہ گرفتاری شاہی خاندان کے کسی سینئر رکن کی اس نوعیت کی پہلی گرفتاری ہے۔

شاہ چارلس نے اپنے بیان میں کہا کہ ’اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر کے بارے میں سرکاری عہدے میں بدانتظامی کے شبہے کی خبر گہری تشویش کا باعث ہے۔ حکام کو شاہی خاندان کی مکمل اور بھرپور حمایت حاصل رہے گی۔ قانون کو اپنا راستہ اختیار کرنا چاہیے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ قانونی کارروائی کے دوران مزید تبصرہ کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

خیال رہے کہ جیفری ایپسٹین سے متعلق تین ملین سے زائد صفحات پر مشتمل دستاویزات کے اجرا کے بعد اینڈریو ماؤنٹ بیٹن کے خلاف پولیس میں نئی شکایت درج کرائی گئی تھی۔ ان دستاویزات میں مبینہ طور پر یہ اشارہ ملا کہ 2010 میں انہوں نے ویتنام، سنگاپور اور دیگر ممالک کے سرکاری دوروں سے متعلق رپورٹس ایپسٹین کو بھیجی تھیں۔

بکنگھم پیلس نے پہلے بھی کہا تھا کہ وہ کسی بھی پولیس تحقیقات میں مکمل تعاون کرے گا اور بادشاہ نے اینڈریو کے طرزِ عمل سے متعلق سامنے آنے والے الزامات پر ’گہری تشویش‘ کا اظہار کیا تھا۔

……………………………………

ایپسٹین اسکینڈل کی تازہ دستاویز سامنے آنے پر سابق شہزادے اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونزر کو برطانیہ کے شاہی لاج سے نکال دیا گیا۔

برطانوی میڈیا کے مطابق امریکا کے سابق صدر کلنٹن اور خاتون اول ہلیری کلنٹن ایپسٹین معاملے پر کانگریس کے سامنے گواہی دینے پر تیار ہوگئےہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایپسٹین اسکینڈل کی تازہ دستاویز سامنے آنے پر سابق شہزادے اینڈریو ماونٹ بیٹن ونزر کو برطانیہ کے شاہی لاج سے نکال دیا گیا ہے جبکہ امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ اینڈریو ماؤنٹ بیٹن امریکا آکر ایپسٹین معاملےپر گواہی دیں۔

برطانوی پولیس اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ اس دور کے ڈیوک آف یارک شہزادہ اینڈریو سے جنسی تعلق کیلئے ایک اور لڑکی جہاز کے ذریعے برطانیہ لائی گئی تھی۔

برطانوی میڈیا کے مطابق اینڈریو کے بھائی اور برطانیہ کے بادشاہ چارلس نئی دستاویز میں سامنے آئے الزامات پر انتہائی تشویش کا شکار ہیں اور اینڈریو کو Sandringham بھیج دیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک ای میل میں اینڈریو نے کمسن بچوں سے زیادتی اور انسانی اسمگلنگ میں ملوث ایپسٹین سے کہا تھا کہ وہ اس کا پالتو جانور بننے کو تیار ہیں۔

اس حوالے سے میٹروپولیٹن پولیس نے برطانوی سیاستدان لارڈ مینڈلسن کیخلاف مجرمانہ تحقیقات کا بھی آغاز کردیا ہے، مینڈلسن پر الزام ہے کہ انہوں نے اہم معلومات جیفری ایپسٹین کو دی تھیں، لارڈ مینڈلسن دارالامرا کی رکنیت سے مستعفی ہوگئے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY