گزشتہ ہفتے گوٹابایا راجا پاکسے کے ملک سے فرار ہونے کے بعد سری لنکا کی پارلیمان نے 6 مرتبہ وزیراعظم رہنے والے وکرما سنگھے کو صدر منتخب کر لیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق چھ مرتبہ وزیراعظم کے بطور خدمات انجام دینے والے وکرما سنگھے باقاعدہ طور پر صدارت کا منصب ایک ایسے وقت میں سنبھال رہے ہیں، جب سری لنکا شدید سیاسی اور معاشی بحران کا شکار ہے۔
رواں برس مئی میں سابق صدر گوٹابایا راجا پاکسے نے وکرما سنگھے کو وزیراعظم مقرر کیا تھا۔ انہیں امید تھی کہ ملک کی بدحال اقتصادیات کو کسی طرح سہارا دے پائیں گے تاہم سری لنکا کے دیوالیہ ہو جانے کے بعد شدید عوامی مظاہروں اور صدارتی محل تک پر حملوں کے بعد گوٹابایا راجا پاکسے ملک سے فرار ہو گئے تھے اور انہوں نے ایک ای میل کے ذریعے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا۔
اس وقت سنگھے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے بیل آؤٹ پیکیج کے سلسلے میں بات چیت میں مصروف ہیں جبکہ ان کے ساتھ ایک کمزور سی اتحادی حکومت ہے تاہم وہ عوامی سطح پر راجا پاکسے کی حکومت کا حصہ رہنے کی وجہ سے ووٹروں میں نہایت نامقبول ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق پارلیمان میں صدر کے عہدے کے لیے ہونے والی ووٹنگ میں وکرما سنگھے کو 134 ووٹ ملے جبکہ ان کے حریف اور سابق حکومت کے وزیر دُولاس الاپیروما کو 82 ارکان پارلیمان نے ووٹ دیا۔
انتخاب کے بعد وکرما سنگھے راجا پاکسے کی باقی ماندہ آئینی مدت پوری کریں گے جو 2024 میں پوری ہو گی۔ سری لنکا میں آئینی طور پر صدر کا انتخاب براہ راست عوام کرتے ہیں، تاہم آئینی مدت مکمل ہونے سے قبل اگر یہ عہدہ خالی ہو جائے تو ایسے میں صدر کے انتخاب کی ذمہ داری پارلیمان پر عائد ہوتی ہے۔
اس سے قبل سری لنکا کی تاریخ میں فقط ایک بار ہوا ہے، جب موجودہ اپوزیشن لیڈر کے والد رانا سنگھے پریماداسا کو قتل کر دیا گیا تھا اور پارلیمان کو صدر کے انتخاب کی ذمہ داری اٹھانا پڑی تھی۔ تب پارلیمان نے وزیراعظم دنگیری باندا کو صدر منتخب کیا تھا۔
2 کروڑ 20 لاکھ آبادی کے ملک سری لنکا کو اس وقت بنیادی ضرورت کی اشیاء مثلا ادویات، خوراک اور ایندھن کی قلت کا مسئلہ درپیش ہے اور اس بابت مکمل بے یقینی ہے کہ آیا نئی حکومت معیشت کو اس تباہ حال صورت حال سے باہر نکال پائے گی یا نہیں۔













