امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ شام سے امریکی فوجی انخلا کے باوجود ترکی اور شامی کردوں دونوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کوئی نہ کوئی حل نکال لیا جائے گا۔ امریکی وزیر خارجہ نے یہ بیان متحدہ عرب امارات کے اپنے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ہفتے کے روز دیا۔
دوسری جانب انقرہ حکومت نے اپنے مزید فوجی دستے اور عسکری ساز و سامان شامی علاقے ادلب کے قریب ترک سرحد پر پہنچا دیے ہیں۔ ادلب شامی کردوں کا ایک مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ جنگ زدہ ملک شام کے یہ کرد وہاں امریکا کے اتحادی ہیں۔ لیکن ترکی انہیں اپنے ہاں ممنوعہ دہشت گرد تنظیم کردستان ورکرز پارٹی کا اتحادی اور اس لیے دہشت گرد قرار دیتا ہے۔











