حُسین شناسی کا سفر۔30۔ طویل عزائی نظم ، ڈاکٹر نگہت نسیم

0
738

قسط تیس

امام حسین(ع) نے پوچھا
اس بستی کا نام کیا ہے؟
عرض کیا
اس کا نام “عقر (کربلا کا ایک ٹکڑا ) ” ہے
۔امام (ع) نے فرمایا:
“خدا کی پناہ مانگتا ہوں عقر سے!”
پس ساتھ ساتھ چلتے رہے حتی کہ “کربلا” پہنچ گئے
حر اور اس کے ساتھی
امام حسین(ع) کے سامنے آکر کھڑے ہوگئے
اور انہیں سفر جاری رکھنے سے باز رکھا
پنج شنبہ (جمعرات) دو محرم الحرام سنہ 61 ہجری کو
امام حسین(ع) اور آپ کے اصحاب کے ساتھ
کربلا میں اتر گئے
کربلا میں پڑاؤ ڈالنے کے بعد
امام حسین(ع) نے
اپنے فرزندوں، بھائیوں اور اہل خاندان کو اکٹھا کیا
اور ان سب پر ایک نگاہ ڈالی
اور فرمایا:
خداوندا!
ہم تیرے نبی(ص) کی عترت اور خاندان ہیں
جنہیں اپنے شہر و دیار سے نکال باہر کیا گیا ہے
اور پریشان حال
اپنے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حرم سے نکالا گیا ہے
؛ اور
پروردگار
بنو امیہ نے
ہمارے خلاف جارحیت کی
خداوندا!
پس ان سے
ہمارا حق لے لے اور ظالموں کے خلاف ہماری نصرت فرما”
اس کے بعد
آپ نے اصحاب کی طرف رخ کیا اور فرمایا
“ لوگ دنیا کے غلام ہیں
اور دین صرف ان کی زبانوں تک محدود ہے
اس وقت تک دین کی حمایت و پشت پناہی کرتے ہیں
جب تک ان کی زندگی فلاح و رفاہ میں ہو
اور جب بھی بلاء اور آزمائش کی گھڑی ہو تو دیندار بہت قلیل ہیں “
اس کے بعد
امام حسین علیہ السلام نے
سرزمین کربلا کو
جس کا رقبہ 4×4 میل تھا
قبیلہ بنی اسد کے لوگوں سے 60 درہم کے عوض خرید لیا
اور ان پر
شرط رکھی
کہ
ان کی شہادت کے بعد
آپ کی قبر کی طرف لوگوں کی راہنمائی کریں گے
اور تین دن تک ان کی پذیرائی اور ضیافت کا اہتمام کریں گے
دو محرم سنہ 61 ہجری کو
امام حسین(ع) اور اصحاب کے سرزمین کربلا پر اترنے کے بعد
حر بن يزيد ریاحی نے ایک خط عبید اللہ بن زیاد کے لئے لکھا
اور اس کو
اس امر کی اطلاع دی
حرکا خط موصول ہونے پر
عبید اللہ بن زیاد نے
ایک خط امام حسین علیہ السلام کے نام بھیجا
جس میں اس نے لکھا
” اے حسین !
کربلا میں تمہارے پڑاؤ ڈالنے کی خبر ملی
امیر المؤمنین یزید بن معاویہ نے
مجھے حکم دیا ہے
کہ
چین سے نہ سؤوں اور پیٹ بھر کر کھانا نہ کھاؤں
جب تک
تمہیں خدائے دانائے لطیف سے ملحق نہ کر دوں
یا پھر
تمہیں اپنے حکم
اور یزید کے حکم کی
تعمیل پر آمادہ نہ کر لوں ”
امام حسین علیہ السلام نے پڑھنے کے بعد
خط کو ایک طرف پھینک دیا
اور فرمایا
” جن لوگوں نے
اپنی رضا اور خوشنودی کو
خدا کی رضا اور خوشنودی پر مقدم رکھا
وہ ہرگز فلاح نہ پاسکیں گے”
ابن زیاد کے قاصد نے کہا
“یا ابا عبداللہ!
آپ خط کا جواب نہیں دیں گے؟
فرمایا:
“اس خط کا جواب اللہ کا دردناک عذاب ہے
جو
بہت جلد
اس کو اپنی لپیٹ میں لے گا ”
قاصد ابن زیاد واپس چلا گیا
اور امام حسین(ع) کا کلام اس کے سامنے دہرایا
اور عبید اللہ نے
امام علیہ السلام کے خلاف
جنگ کے لئے لشکر تشکیل دینے کا حکم دیا
امام حسین علیہ السلام
کچھ دیر توقف کے بعد
اپنے اصحاب اور اہل بیت کے سامنے
یہ خطبہ ارشاد فرمایا
” امابعد
معاملات نے ہمارے ساتھ جو صورت اختیار کر لی ہے
وہ آپ کے سامنے ہے
یقیناً دنیا نے رنگ بدل لیا ہے
اور بہت بری شکل اختیار کر گئی ہے
اس کی بھلائیوں نے منھ پھیر لیا ہے
نیکیاں ختم ہوگئی ہیں
اور اب اس میں
اتنی ہی اچھائیاں باقی رہ گئی ہیں
جتنی کسی برتن کی تہہ میں باقی رہ جانے والا پانی
اب زندگی
ایسی ہی ذلت آمیز اور پست ہوگئی ہے
جیسا کہ
کوئی سنگلاخ اور چٹیل میدان
آپ دیکھ رہے ہیں
کہ
حق پر عمل نہیں ہو رہا
اور کوئی باطل سے روکنے والا نہیں ہے
ان حالات میں
مرد مومن کو چاہیے
کہ
وہ خدا سے ملنے کی آرزو کرے
میں جانبازی اور شجاعت کی موت کو ایک سعادت سمجھتا ہوں
اور ظالموں کے ساتھ زندگی گزارنا
میرے نزدیک ذلت اور حقارت ہے
لوگ دنیا کے غلام ہیں
اور دین صرف ان کی زبانوں پر رہتا ہے
یہ بس اس وقت تک دین کے حامی ہیں
جب تک
ان کی زندگی آرام اور آسائش سے گزرے
اور جب امتحان میں ڈالے جائیں تو دیندار بہت کم رہ جاتے ہیں”

جاری ہے

SHARE

LEAVE A REPLY