پارسیی قبیلے کی گلاب مزاج لڑکی ، اپنے محبوب کے ساتھ سفر میں اس حال میں تھی کے آخری لمحے جو ہمیشہ کی جدائی کی طرف کھینچے چلے جا رہے تھے نا صرف اس کی روح کو زخمی کر رہے تھے ۔ ۔ ۔ بلکہ سامنے بیٹھے پارس کے شہزادوں جیسے اس کے عاشق کے دل کو بھی چھلنی کر رہے تھے ۔ ۔ ۔ پر مرد تھا نا اور مرد بھی جنگجوؤں کے قبیلے کا ۔ ۔ ۔ اپنی انا بھی قائم رکھنی تھی سو اپنے آپ میں اس طرح مگن تھا جیسے کے درد سے خود کو بے نیاز کر چکا ہو ۔ ۔ ۔ لیکن آنکھوں میں تیرتی نمی کو چپھانے میں کامیاب نا ہو سکا ۔ ۔ ۔
یہ پریشاں حال محبوبہ ایک ایک لمحہ گنتی کہیں گم ہو گئی تو اس آواز پر چونکی جب محبوب نے کہا ” تم کیا کر رہی ہو ؟ جواباً کہا “کچھ نہیں” تو کہنے لگا تم حساب کر رہی ہو نا ؟
تو گویا ہوئی “ایک ایک لمحہ اس قدر تیز کیوں بھاگ رہا ہے ؟؟” تو جواب ملا کے تم نے محسوس کرنا آج شروع کیا ہے ۔ ۔ ۔ تو دل ہی دل میں رو دی کے محسوس تو اس لمحے سے کر رہی ہوں جب جب کہتے ہو کے “تمہیں میرے بغیر جینا ہے ہمت کرو ” ۔ ۔ ۔
یہ ایک بار پھر اپنی جدائی کے وبال کو خود پر پھیلتا دیکھ کر روتی ہوئی کہیں گم ہو گئی تو پھر آواز نے چونکایا ” اے لمحے گننے والی کہاں گم ہو ؟ ” تو کہنے لگی ایک احسان کرو گے آج ؟ پوچھا کیا ؟ کہتی ہے کیا اس سے ایک گھنٹہ اگلے سٹیشن تک سفر کو کچھ بڑھا سکتے ہو کے اس قدر جلد اس سفر کو ختم ہوتے دیکھ کر دل لرز رہا ہے اور کسی بچے کی طرح بلک رہا ہے ۔ ۔ ۔وہ محبوب جو خود پر ہر طرح کے بندھ باندھ کر بیٹھا تھا محبوبہ کی آنکھ میں ائی نمی کو سہہ نہیں سکا اور کہہ دیا ہے ٹھیک ہے ۔ ۔ ۔ لیکن اس سٹیشن سے ایک لمحہ وقت اگے نا لے کر جاؤں گا اور رابطے ختم کر دوں گا یہ اور اس سٹیشن پر اتار کر چلا جاؤں گا چاہے بات بیچ میں ہی کیوں نا رہ جائے ۔ ۔ ۔ !!
اور یہ سب کہتے ہوئے پارس کے شہزادوں جیسے کھلی پیشانی اور پیشانی ہر بکھرے بال اور روشن آنکھوں والے عاشق کا دل جیسے مٹھی میں تھا اور آواز کسی کنویں سے نکلتی محسوس ہو رہی تھی کے جدائی کا ساتھ ساتھ محبوب کو بیچ راستے بے بسی کے عالم میں چھوڑ دینے کا غم الگ گھول رہا تھا ۔ ۔ ۔ لیکن اظہار نہیں کرتا تھا کے اس نے محبت کا تقاضا بھی تو پورا کرنا تھا ۔ ۔ ۔ خود کی خواہش و خوشی پر اپنی محبوب کے سکوں کو ترجیح بھی تو دینی تھی ۔ ۔ ۔!!
اور محبوبہ تو ان آخری لمحات میں ایسے تھی کے جیسے اگر ایک آنسو بھی بلک کر گرایا تو وہ آنکھ سے نکل کر گال پر نہیں پھسلے گا سیدھا اس پارس کے شہزادے کے جگر و دل کو زخمی کر جائے گا ۔ ۔ ۔سو کچھ دیر اپنے آنسؤں پر بند باندھ دیا ۔ ۔ ۔ لیکن لڑکی تھی اور تھی گلاب کے مزاج کی نرم دل کب تک خود کو روک سکتی تھی آسنؤں کا ریلا ایک بار پھر بہہ نکلا ، تو شہزادے سے برداشت نا ہوا اپنی لاڈلی کا چہرہ اپنی طرف کر کے کہا میری طرف دیکھو میری جان ۔ ۔ ۔
میری آنکھوں میں اپنا عکس دیکھو ، اور دیکھو کہ تم کتنی خاص اور خوبرو ہو ، یہ آنکھیں تمہارا قصر ہیں ، تم اس کا مرکز و محور ہو ، اس کے گلستان کی خوشبو ہو ، اور مکینوں کیلئے سکون و راحت ہو ، اس قصر کی شان اور نام اور پہچان ہو ۔ ۔ ۔ اور اس کے مالک کا لُطف و حصار ہو ۔ ۔ ۔ تو اس کے بعد بھی کیا تم غمگین ہو ، کہ اس کا مالک چاہتا ہے کہ تمہیں مزید پاکیزہ اور خوشبودار کرے اور مزید مضبوط و بلند اور پُرکیف و پُر لُطف و پُرلذت کرے ۔ ۔ ۔
یہ الفاظ زخمی دل و جگر ہر فقط مرہم ہی نا تھے بلکہ اپنے اندر ایک مکمل سکوں کی وادی تھے کے جس میں اس کی محبوبہ نے اپنی ساری زندگی اس وقت کچھ دیر کو بیٹھ کر گزارنی تھی کے جب جب اس کو جدائی اور دوری کے بھڑئیے نے پھاڑ کھانا تھا ۔ ۔ ۔ !!
وہ اس پاگل لڑکی کو اکثر ہی سمجھاتا رہتا تھا کے ہم دونوں ہی ایک دوسرے کے عاشق اور ایک دوسرے کے معشوق ہیں ،خدا نا خواستہ ایسا نہیں کے محبت صرف تم نے کی ہو اور میں بے پرواہ ہوں یا صرف میں نے کی ہو اور تم بے پرواہ ہو نہیں ایسا نہیں ہے، ہم دونوں نے ایک دوسرے کی خواہش و خوشی پر دوسرے کے لیے قربانی کا جذبہ رکھا ہے ۔ ۔ ۔ اور خود اس پارس کے شہزادوں جیسے نے محبت کرنا ہی اس سب کچھ نثار کر دینے والی لڑکی سے سیکھا تھا ۔ ۔ ۔ اور پھر ایک ایسا انسان جس نے محبت پر کبھی یقین نا کیا تھا جب محب بنا ، جب عشق کیا اور محبوب بنا تو عشق بھی غضب کا کیا ۔ ۔ ۔ سب کچھ اپنی خوشی ، اپنا سکون ، اپنا لطف و حصار اور اپنا دل جگر تک وارتا گیا اور اپنے عشق کرنے والی کے گرد اپنی پاکیزہ محبت کا حصار مضبوط سے مضبوط تر کرتا گیا ۔ ۔ ۔ کے اس نے خود کوبھی اس جدائی میں جلانا تھا جس میں اپنی محبوبہ کو تڑپتا ہوا دیکھنا تھا ۔ ۔ ۔
محبوبہ کا غم دوری کا غم تھا ، نا ملنے کا غم تھا ، اور جدائی کا غم تھا ۔ ۔ ۔ ۔ اور اس شہزادے کا غم فقط دوری و جدائی اور ناملنے کا نا تھا اس کا غم تو اور بھی درد ناک تھا ، کے وہ اختیاری بے بسی کے ہاتھوں تڑپ رہا تھا ۔ ۔ ۔ وہ اپنے دل کی سب سے خاص انسان سے بے بسی کے عالم میں جدا ہوا تھا ۔ ۔ ۔اور جاتے جاتے پھر بھی اس درد سے بلکتی کو کہہ گیا
” میری محبت کا حصار ہمیشہ سے ہمیشہ کے لیے تمہارا ہی رے گا میری جان ” ۔ ۔ ۔ “میں تمہارا ہی رہوں گا چایے کتنا بھی دور رہوں ” اور یوں نا ختم ہونے والا جدائی اور ہجر کا سفر شروع ہوا اور وہ چلا گیا ۔ ۔ ۔ !!
—————
غم یہ کیسے ہیں ہوتے ، کیا دیکھتا ہے دور سے ۔ ۔ ۔!!
تھک گیا رشتے ڈھوتے ، آ پوچھ دل مزدور سے ۔ ۔ ۔!!
جو دھوپ کے سائے میں کھلنا چاہے اگر ۔ ۔ ۔ !!
میرے دل سے تو جو ملنا چاہے اگر ۔ ۔ ۔ !!
لے چمکتے ہوئے دل نرم پتھر سے مل ۔ ۔ ۔!!
سنگِ مرمر کا دل ، سنگِ مرمر کا دل ۔ ۔ ۔!!
پیار ہونا مرض ہے ، جتنا ہوا ہے یہ مجھے ۔ ۔ ۔!!
درد کو درد بھی اتنا ، ہوا ہے یہ مجھے ۔ ۔ ۔!!
راستے میں رکھ دیا دل اور چوٹیں کھائے گا ۔ ۔ ۔!!
آیا ہے دل لینے والا ، جان لے کر جائے گا ۔ ۔ ۔!!
جو روتے ہوئے ہسنا چاہے اگر ۔ ۔ ۔!!
آنسو آنکھوں میں رکھنا چاہے اگر ۔ ۔ ۔!!
لے چمکتے ہوئے دل نرم پتھر سے مل ۔ ۔ ۔!!
سنگِ مرمر کا دل ، سنگِ مرمر کا دل ۔ ۔ ۔!!
تو جہاں ہو دل یہ تیرے پاس ہوتا ہے میرا ۔ ۔ ۔ !!
میرے دل کو بھی نہیں احساس ہوتا ہے میرا ۔ ۔ ۔!!
“تو” نہیں تو “میں” نہیں ہوں ، “میں” نہیں تو “ہم” نہیں۔ ۔ ۔!!
ایک بس تو ہی نہیں اور کوئی غم نہیں ۔ ۔ ۔ !!
جو نام دل پے میرا لکھنا چاہے اگر ۔ ۔ ۔ !!
تو بھی بن مول بکنا چاہے اگر ۔ ۔ !!
لے چمکتے ہوئے دل نرم پتھر سے مل ۔ ۔ ۔!!
سنگِ مرمر کا دل ، سنگِ مرمر کا دل ۔ ۔ ۔!!
جسٹن سنو۔ ۔ ۔
انتخاب :فائزہ عباس













