ہم دونوں وائلی پارک سے گھر پہنچے تو شام کے چار بج رہے تھے ۔جورجینا نے جیسے ہی گاڑی گھر کے گیٹ پر روکی تو آفتاب پودوں کو پانی دے رہے تھے ۔ انہوں نے پھول اورتحائف گاڑی سے اٹھاتے ہوئے جورجینا کا شکریہ ادا کیا ۔۔اور میرے ساتھ ہی گھر کے اندر آگئے ۔۔
کیسا رہا ۔۔؟
جی بہت شاندار ۔۔ پورا یونٹ خوش تھا ۔۔ ہم سب نے لنچ ایک ساتھ کیا ۔۔ پھر جورجینا مجھے وائلی پارک لے گئی ۔۔ اور بس بہت سی باتیں
تمہاری باتیں ہی تو ان کو مس ہو رہیں تھیں ۔۔ آفتاب ہنس رہے تھے
چائے ملےگی ۔۔ پلیز ۔۔ مجھے معلوم تھا کہ میں اب لاڈلی بن رہی ہوں
ضرور ۔۔ میں انتظار کر رہا تھا کہ تم آؤ تو مل کر چائے پیتے ہیں ۔۔لیکن کیا تم آج مالی کے پاس جاؤ گی
جی جی ۔۔ بہت ضروری ہے میرا جانا
لیکن تھک جاؤ گی نگہت ۔۔تمہارے لئے ٹھیک نہیں ہے
اگر نہیں گئی تو ۔۔ میرے لئے شاید ٹھیک نہیں ہو گا ۔۔ مجھے کچھ پوچھنا ہے مالی سے جو آمنے سامنے ہی پوچھ سکتی ہوں
ٹھیک ہے پھر میں تمہیں واٹل گرووکمیونٹی سینٹر ڈراپ کردونگا
پلیز نہیں ۔۔۔ میں خود جاؤنگی جیسے ہر جمعرات کو جاتی ہوں ۔۔ سمجھئے پلیز
چلو جیسے تم چاہو ۔۔ میں چائے لے کر آتا ہوں
جی جی ۔۔ جب تک میں جلدی سے اپنے اسٹاف کو اپنے آپریشن کی تفصیل بھیجج دوں ۔۔۔ وہ بہت پریشان تھے اور میراان سے وعدہ تھا کہ جاتے ہی بھیج دونگی ۔۔سوچیئے کل تین جون ہے ۔۔پورا ادن بون اسکین میں نکل جائے گا ۔۔ پھر ویک اینڈ پر بچے آ جایئں گے ۔۔ وہ تو کچھ نہ سوچنے دیتے ہیں اور نہ کچھ کرنے دیتے ہیں ۔۔ پھر پیر چھ جون کو آپریشن ہے
ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔۔۔آفتاب کچن میں چائے بنانے چلے گئے اور میں کمپیوٹر کو کھول کر بیٹھ گئی ۔۔ جانے کہاںسے اتنا سکون در آیا تھا ۔۔ اپنے کام مکمل کرنے کی لگن میرے وقت میں برکتیں بڑھا رہی تھی۔
چائے میرے سامنے رکھ رکھ کر آفتاب پھر پودوں کو پانی دینے چلے گئے اور میں اپنے کمپیوٹر کے ساتھ ۔۔
ہم انسان بہت خوش قسمت ہیں ۔۔۔ ہمارے پاس ہر وقت کچھ کرنے کے لئے کئی پل میسر ہوتے ہیں ۔۔ محبت کرنے والوں کی لمبی فہرست ہوتی ہے ۔۔ دعاؤں کے سائیبان بھی ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔۔ پھر بھی جو کبھی کبھار بارش کا کوئی چھینٹا گر جائے تو کتنا افسردہ ہو جاتے ہیں ۔۔ شکووں کی پٹاری کھول لیتے ہیں ۔۔ وہ لوگ جو ہمیں بھول چکے ہوتے ہیں انہیں یاد رکھنے والوں پر فوقیت دینے لگتے ہیں۔۔ان کے نہ پوچھنے کا ملال ہی نہیں جاتا ۔۔ مجھے اپنے کئی مریضاور دوست یاد آگئے جو صرف اس پر نظر رکھتے تھے کہ کیا ان کے پاس نہیںہے ۔۔ اور انہیں یہ یاد ہی نہیںرہتا کہ کیا ان کے پاس ہے جس کی شکرگزاری بہت بہت ضروری تھی ۔۔
اف ہم تمام عمر یہی تو نہیں جان پاتے کہ ہم سب روحیں ہیں ۔۔ ہم نے اپنے اپنے نام و مقام کا لباس پہنا ہوا ہے ۔۔ہمارا تعلق ایک دوسرے سے پیار ومحبت کا ہی ہے جو یوم الست سے طے ہے ۔ دنیاوی بھول بھلیاں ہمیں نفرتوںاور کدوروتوں کے جہاںمیںکہاں سے کہاں الجھائے رکھتی ہیں ۔۔۔۔۔ یا اللہ میںبھی ناں ۔۔ کہاں سے کہاں نکل گئی ہوں ۔۔ اور اصل کام پڑا ہوا ہے ۔
اسٹاف کو بچہ دانی نکلوانے کے آپریشن یعنی ہسٹیریکومی کے بارے میں بتانا تھا ۔۔ اب میں تیزی سی ان سب کے لئے لکھنا چاہتی ہوں تاکہ وقت پر میڈیٹیشن کے کلاس میں پہنچ پاؤں ۔
بچہ دانی یا رحم نکلوانے کا آپریشن دنیا میں سب سے زیادہ امریکہ میں ہوتا ہے اور سی سیکشن کے بعد کیا جانے والا دوسرا بڑا آپریشن ہوتا ہے ۔
بچہ دانی نکلوانے کی بنیادی وجوہات
1۔فائبرائڈ کا بننا
Fibroid
بچہ دانی نکالنے کی سب سے بڑی وجہ فائبروائڈز(ٹیومرز ) کا بننا ہے جو بعض اوقات کینسر کی وجہ بھی بنتے ہیں ۔لہذا اگر آپ کا معالج یہ تشخیص کرے کہ آپکی بچہ دانی کے پٹھوں میں ٹیومر بن رہے ہیں تو آگے جا کر اس بات کے قوی امکانات ہوتے ہیں کہ آپ کو بچہ دانی نکلوانی پڑے گی ۔
2۔اینڈومیٹروسس
Endometriosis
اینڈومیٹروسس سے مراد ہے کہ اینڈومیٹریل ٹشوز کا رحم کے اندرونی تہہ میں بننے کے بجائے رحم کی بیرونی تہہ پر بننا شروع ہو جانا ۔ جس کی وجہ سے( حیض میں بے قاعدگی ،حیض درد سے آنا ،خون کا زیادہ بہنا ) جیسے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں اور اگر یہ مسائل علاج سے دور نہ ہوں اور یہ مسائل شدت اختیار کر جائیں تو بالآخر ڈاکٹر بچہ دانی نکلوانے کا مشورہ دیتے ہیں۔
3۔رحم کا اپنی جگہ سے ہٹ جانا
Uterine Prolapse
اگر ٹشوز کے کمزور ہونے کی وجہ سے رحم اپنی جگہ سے ہٹ ( ٹل ) جائے تو بار بار پیشاب آنے کی شکایت اور بچہ کی پیدائش میں پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس کے علاوہ ہاضمہ خراب ہوتا ہے اورایسٹروجن لیول متاثر ہوتا ہے ۔ان تمام مسائل کی نوعیت جاننے کے بعد ڈاکٹز رحم نکلوانے کا مشورہ دیتے ہیں ۔
4۔کینسر
Uterine Cancer
دس فیصد بچہ دانی نکلوانے کا آپریشن بچہ دانی یا بیضہ دانیوں میں کینسر کے جراثیم پائے جانے کی وجہ سے کیا جاتا ہے ۔بعض دفعہ بیضہ دانیوں یا فیلوپیان ٹیوب میں کینسر ہونے کی وجہ سے بچہ دانی کو بھی نکال دیا جاتا ہے ۔لیکن بہت سے کینسر کے مریض صرف شعاؤں اور ہارمونل تھراپی کے علاج کے زریعے ہی ٹھیک ہو جاتے ہیں اور ان کا رحم نہیں نکالا جاتا۔

5۔ ہائپر پلاسیا
Uterine Hyperplasia
جب ایسٹروجن کثرت سے بننے لگے تو رحم کی بیرونی دیوار پر موٹی تہہ بننا شروع ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے حیض کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی خون مستقل بہتا رہتا ہے ایسے میں رحم نکلوانا ہی حل ہوتا ہے
بچہ دانی یا رحم کے کینسر کو ‘سائلینٹ کلر’ کہا جاتا ہے کیونکہ جب تک اس کینسر کا احساس ہوتا ہے اس وقت تک یہ پورے جسم میں پھیل چکا ہوتا ہے۔ اس کینسر میں بچنے کے امکانات بہت ہی کم ہوتے ہیں۔ جن لوگوں کو یہ مرض ہوتا ہے ان میں سے صرف تیس فیصد ہی پانچ سال تک زندہ رہ پاتے ہیں ۔۔۔ لیکن میں خوش قسمت تھی کہ مجھے گریڈ ٹو کا کینسر تھا۔
ہسٹریکٹومی کی کئی مختلف اقسام ہیں اور طریقہ کار مختلف طریقوں سے انجام دیا جا سکتا ہے۔
جزوی ہسٹریکٹومی
Partial Hystrectomy
جزوی ہسٹریکٹومی کے دوران، آپ کا ڈاکٹر آپ کے رحم کا صرف ایک حصہ ہٹاتا ہے۔ سرجری آپ کے گریوا کو برقرار رکھتی ہے۔
کل ہسٹریکٹومی
Total Hystrectomy
مکمل ہسٹریکٹومی کے دوران، آپ کا ڈاکٹر آپ کے گریوا سمیت آپ کا پورا بچہ دانی ہٹا دیتا ہے۔ اگر آپ کا گریوا ہٹا دیا جاتا ہے تو آپ کو سروائیکل کینسر کے لیے سالانہ پیپ ٹیسٹ کرانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ تاہم، آپ کو باقاعدگی سے شرونیی امتحانات کرواتے رہنا چاہیے۔
ہسٹریکٹومی اور سیلپنگو اوفوریکٹومی
Hystrectomy Salpingo Oophrectomy
اس سرجری کے ساتھ، آپ کا ڈاکٹر آپ کے بچہ دانی کے ساتھ ساتھ آپ کی ایک یا دونوں بیضہ دانی اور فیلوپین ٹیوبوں کو ہٹاتا ہے۔ اگر آپ کے دونوں بیضہ دانی کو ہٹا دیا جاتا ہے تو آپ کو ہارمون ریپلیسمنٹ تھراپی کی ضرورت پڑ سکتی ہے، کیونکہ مینو پاز کی تکالیف سے عورتیںپریشان ہو جاتی ہیں۔
ریڈیکل ہسٹریکٹومی
Radical Hystrectomy
آپ کا گائناکولوجسٹ آپ کی پورا بچہ دانی، آپ کے رحم کے اطراف کے ٹشو، آپ کی گریوا، اور آپ کی اندام نہانی کے اوپری حصے کو ہٹاتا ہے۔ یہ عام طور پر صرف اس وقت کیا جاتا ہے جب کینسر موجود ہو۔
ہسٹریکٹومی کئی طریقوں سے کی جا سکتی ہے۔
آپ کے پیٹ میں ایک چیرا کے ذریعے
Abdominal Hystrectomy
یہ ہسٹریکٹومی کا سب سے عام طریقہ ہے، جو تمام طریقہ کار کا تقریباً 65% ہے۔ پیٹ کے ہسٹریکٹومی کے دوران، آپ کا گائناکالوجسٹ آپ کے پیٹ میں چیرا لگا کر آپ کے بچہ دانی کو ہٹاتا ہے۔ چیرا عمودی یا افقی ہوسکتا ہے۔ دونوں قسم کے چیرا اچھی طرح ٹھیک ہوتے ہیں اور تھوڑا سا داغ چھوڑتے ہیں۔
آپ کی اندام نہانی کے ذریعے
Vaginal Hystrectomy
اندام نہانی کے ہسٹریکٹومی کے دوران، آپ کا گائناکولوجسٹ آپ کی اندام نہانی کے اندر چھوٹے چیر کے ذریعے آپ کے بچہ دانی کو ہٹاتا ہے۔ کوئی بیرونی کٹوتی نہیں ہے، اس لیے کوئی داغ نظر نہیں آئے گا۔
کی ہول سرجری کا استعمال
Laparoscopic Hystrectomy
کی ہول (لیپروسکوپک) ہسٹریکٹومی کے ساتھ، آپ کا ماہر ڈاکٹر آپ کے پیٹ میں چھوٹے چیر لگاتا ہے، پھر آپ کے بچہ دانی کو دیکھنے کے لیے لیپروسکوپ ، ایک لمبی، پتلی ٹیوب جس میں روشنی اور کیمرہ ہوتا ہے۔ ایک بار جب آپ کا گائناکالوجسٹ آپ کی بچہ دانی کو دیکھ لیتا ہے، تو وہ آپ کی بچہ دانی کو ہٹانے کے لیے دوسرے چیر کے ذریعے آلات داخل کریں گے یا کبھی کبھی آپ کے بچہ دانی کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ دیں گے، پھر ایک وقت میں ایک ٹکڑا ہٹا دیں گے۔ یہ طریقہ کار روبوٹک سرجری کے ذریعے بھی انجام دیا جا سکتا ہے۔ روبوٹک سرجری کے ساتھ، چھوٹے روبوٹک بازو، جو آپ کے ماہر امراض چشم کے زیر کنٹرول ہوتے ہیں، چیروں کے ذریعے داخل کیے جاتے ہیں۔ آسٹریلیا میں صرف چند گائناکالوجسٹ اس قسم کی سرجری میں تربیت یافتہ ہیں۔
بہترین طریقہ کون سا ہے؟
آپ کے لیے بہترین طریقہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ آپ سرجری کیوں کر رہے ہیں اور دیگر عوامل، جیسے کہ آپ کی عام صحت، پچھلی سرجریز اور آپ کے ماہر امراض نسواں آپ کے لئے کیا فیصلہ کرتا ہے ۔ اگر آپ کو یوٹیرن پرلاپسس ہے تو، آپ کے پیٹ کو کھولنے کے مقابلے میں اندام نہانی کی ہسٹریکٹومی ایک آسان طریقہ ہو سکتا ہے۔ اندام نہانی کی ہسٹریکٹومی مناسب نہیں ہوسکتی ہے اگر آپ کو پچھلی سرجری یا بچہ دانی بہت بڑی ہو اور دسرے اعضاء سے چپکنے والی ہو۔
تجربات یہ بتاتے ہیں کہ کی ہول سرجری کروانے والی خواتین کے مقابلے میں پیٹ کی سرجری کروانے والی خواتین کو زیادہ تکلیف ہوتی ہے اور ان کے زخم بھی دیر سے بھرتے ہیں۔
روبوٹک کی ہول سرجری ، روبوٹک مدد کے بغیر کی جانے والی کی ہول سرجری کے مقابلے میں کوئی بہتر نتیجہ نہیں دیتی ہے ۔ بس کی ہول سے زیادہ مہنگی ہوتی ہے ۔
بعض اوقات کی ہول ہسٹریکٹومی پیٹ کی کھلی سرجری میں بدل جاتی ہے کیونکہ آپ کے گائناکالوجسٹ کو کینسر جیسے ایک اور مسئلہ کا پتہ چلتا ہے یا پچھلی سرجری کی وجہ سے اعضاء
آپس میں جڑ جاتے ہیں اور انہیں علیحدہ کرنے میں کسی ایک کوبھی دائمی نقصان پہنچنے کا خطرہ ہو سکتا ہے۔
سرجری کے منفی اثرات
Side Effects of Surgery
1۔ دس سے چالیس فیصد خواتین یہ شکایت کرتی ہیں کہ اس سرجری کے بعد انھیں جنسی ملاپ میں لطف محسوس نہیں ہوتا ۔
2۔ بچہ دانی نکلوانے کے بعد بعض اوقات فرج سکڑ جاتا ہے جس سے خواتین کو ملاپ کے دوران تکلیف ہوتی ہے یا خون بہنے کی شکایت ہو جاتی ہے۔
3۔ اگر رحم کے ساتھ بیضہ دانیاں بھی نکال دی جائیں تو اس ہی صورت میں حیض آنا بند ہوتا ہے وگرنہ مینو پوس ( حیض کی بندش) ہونا لازمی اور ضروری نہیں ۔اگر رحم کے ساتھ بیضہ دانیاں اور ٹیوب بھی ہٹا دی جائیں تو اس آپریشن کو بڑ اآپریشن تصور کیا جاتا ہے ۔چونکہ بیضہ دانیاں ہی ہارمون ( ایسٹروجن اور پروجیسٹرون ) بناتی ہیں جن سے ہڈیوں کی صحت اور جنسی صحت میں توازن رہتا ہے اور اگر بیضہ دانیاں ہٹا دی جائیں تو رفتہ رفتہ جنسی صلاحیت اور لذت میں کمی آنے لگتی ہے۔
4۔ اس سرجری کو کرانے کے بعد ۲۵ پاؤنڈ تک وزن بڑھ سکتا ہے جو کہ ایک سال تک مشکل سے کم ہوتا ہے۔اس آپریشن کے بعد خواتین کو جن مسائل کا سامنہ کرنا پڑتا ہے ان میں وزن میں کمی یا زیادتی ،فرج کا سکڑنا ،پیشاب کا انفیکشن ،آنتوں کا سکڑنا ،خون کا جمنا ،ہڈیوں کا بھر بھرا ہونا ، بیضہ دانیوں میں رسولی ہونا شامل ہیں۔
5۔ خواتین جلد تھکنے ،کمر کے درد،جوڑوں کے درد میں مبتلا ہو سکتی ہیں ۔
6۔ بعض خواتین میں فیملی ہسٹری اور وزن کی بڑھ جانے سے زیابطیس ہونے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔
7۔ بعض خواتین نفسیاتی طور پر اس بات کو قبول نہیں کر پاتیں کہ وہ کبھی ماں نہیں بن پائیں گی ۔جس سے وہ جزباتی طور پر عدم استحکام کا شکار ہو جاتی ہیں ۔ جس سے انہیں ڈیپریشن ہوجاتا ہے ۔
آپ سب کے لئے ایک لنک ہے جس میں یہ آپریشن کیسے کرتے ہیں، دیکھ سکتے ہیں ۔بشکریہ ایچ سی ایف
https://www.hcf.com.au/preparing-for-hospital/hysterectomy
میں نے آخر میں اپنے دوستوں کو پھر یاد دہانی کے طور پر لکھا کہ کہ ڈاکٹر برلنگ نے مجھے کی ہول سرجری کی یقین دہانی کروائی ہے ۔ ہاں میرے پاس بہت سارے رسک فیکٹرز ہیں جیسے امی ابا جی کو زیابطیس تھی اور میرا وزن بہت آسانی سے بڑھ جاتا ہے۔ جہاں تک ڈیپریشن کی بات تھی وہ مجھے نہیں ہو سکے گی کیونکہ میں روشنی میں کھڑی تھی ۔۔میرے سامنے رستے واضح ہو گئے تھے ۔۔ میرے ساتھ آفتاب ۔۔میرے بچے ۔۔ میرے دوست ۔۔ میرے مسیحا میرا ہاتھ پکڑے کھڑے تھے ۔۔میں دعاؤں کے سائیبان میں محفوظ کھڑی تھی ۔۔مجھ پر شفا ، نور کی طرح برس رہی تھی ۔۔ اور میں اس انجانے سفر پر چل پڑی تھی ۔۔جس کا ہر پل نیا تھا ۔۔منفرد تھا ۔۔زندگی جیسا ہو رہاتھا ۔۔ اور میں پر اعتماد تھی۔
چھ بج رہے ہیں نگہت ۔۔۔ آفتاب نے مجھے یاد دلایا
میری میڈیٹیشن کلاس میں 30 منٹ باقی تھی ۔۔ اور مجھے تیارہو کر وہاں پہنچنا بھی تھا
مالی کے لئے بہت محبت سے سفید سوٹ لیا تھا ۔۔ انہوں نے مجھے علم جیسی دولت دی تھی اور میرے پاس شکریہ کے لئے الفاط ہی کم تھے ۔۔کبھی کبھی تحفہ محبت کی زبان ہوجاتا ہے ۔۔ نہیں جانتی کہیں یہ میرے دل کا ماننا ہی نہ ہو ۔۔۔ میں نے مسکراتے ہوئے سوٹ کو گفٹ بیگ میں رکھتے ہوئے سوچا ۔۔ لیکن مالی جانتی تھی کہ مجھے ان سے کتنی محبت ہے ۔۔ میری احسانمندی ان سے کیسے چھپ سکتی ہے ۔۔ انہوں نے ہی بتایا تھاکہ محبت کا وائی فائی سسٹم ہر سسٹم سے الگ ہوتا ہے ۔۔اس کی کال کبھی ڈراپ نہیں ہوتی ۔۔
جاری ہے
ڈاکٹر نگہت نسیم














ھر ھر چیز کی مکمل وضاحت کی ہے