طالبان کے حملوں میں 40 سے زیادہ افغان سیکورٹی اہل کار ہلاک

0
878

اطلاعات کے مطابق طالبان نے ایک ایسے موقع پر شمالی افغانستان میں الگ الگ حملوں میں سرکاری فورسز کے 40 سے زیادہ اہل کاروں کو ہلاک کر دیا، جب منگل کے روز ماسکو میں افغان جنگ کے سیاسی حل کے لیے طالبان اور افغان حزب مخالف جماعتوں کے درمیان مذاکرات شروع ہوئے ہیں۔

سرکاری عہدے داروں نے کہا ہے کہ شورش پسندوں نے یہ مہلک ترین حملے منگل کی صبح قندوز کے صوبائی دارالحکومت کے قریب کیے۔

صوبائی کونسل کے ڈپٹی چیئرمین سیف اللہ امیری نے افغان میڈیا سروس کو بتایا کہ حملے میں کم ازکم 25 فوجی اور تین پولیس اہل کار ہلاک جب کہ 20 کے لگ بھگ زخمی ہوئے۔

کابل میں وزارت دفاع کے عہدے داروں نے منگل کی صبح طالبان کے ایک بڑے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حملہ آوروں کو جلد ہی پسپا کر دیا گیا، جس میں 22 عسکریت پسند ہلاک اور بہت سے زخمی ہوئے۔

وزارت دفاع نے سرکاری فورسز کی ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے لیکن تعداد نہیں بتائی۔

طالبان کے ترجمان ذبح اللہ مجاہد نے قندوز میں عسکریت پسندوں کے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ افغان نیشنل آرمی کے 30 سے زیادہ فوجی ہلاک ہوئے۔

طالبان نے ایک قریبی صوبے بغلان میں ایک پولیس چوکی کو بھی نشانہ بنایا۔ افغان میڈیا نے شناخت پوشیدہ رکھتے ہوئے سیکورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اس حملے میں کم ازکم 10 اہل کار ہلاک ہوئے۔

افغان عہدے دار شاذ و نادر ہی اپنے سیکورٹی اہل کاروں کی ہلاکتوں کی تعداد بتاتے ہیں، لیکن پچھلے مہینے افغان صدر اشرف غنی نے کہا تھا کہ 2014 میں ان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اب تک 4500 سے زیادہ افغان سیکورٹی اہل کار مارے جا چکے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY