آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ ماضی قریب میں بہت نقصان اٹھالیا، اب دشمن کی پسپائی اور ہماری کامرانی کا وقت ہے۔
یوم دفاع کے موقع پر جی ایچ کیو میں مرکزی تقریب سے خطاب میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ شہدا کا خون ہم پر قرض ہے ، جو قومیں شہدا کو بھول جاتی ہیں تاریخ کبھی انہیں معاف نہیں کرتی ،باوردی مجاہد ہوں یا عام شہری وطن کی پکار پر ہمیشہ لبیک کہاہے۔
انہوں نے کہا کہ فوج دہشت گردوں کو ختم کرسکتی ہے ، انتہا پسندی پر قابو پانے کیلئے ضروری ہے کہ ہر شہری ردالفساد کا سپاہی ہو ، جذبے کا تعلق صرف جنگ سے نہیں قومی ترقی کے ہر پہلو سے ہے، دین میں واضح حکم ہے کہ جہاد ریاست کی ذمےداری ہے ، جہاد ریاست کا حق ہے اور ریاست کے پاس رہنا چاہیے۔
آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ہم جانتے ہیں کہ پاکستان کا مطلب کیا ہے ، قومی اتحاد آج وقت کی اہم ضرورت ہے ، وطن کی بنیادوں میں لاکھوں شہدا کا خون شامل ہے ، یقین دلاتاہوں اس خون کی حرمت کا پاس رکھیں گے۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ہمارا دشمن جان لے ہم کٹ مریں گے لیکن ایک ایک انچ کادفاع کریں گے، ہم اس جنگ کو جو ہم پر مسلط کی گئی،منطقی انجام تک پہنچائیں گے، اب دنیا سے کہتاہوں ’’ورلڈ ڈومور‘ـ‘، عالمی طاقتیں ہاتھ مضبوط نہیں کرسکتیں تواپنی ناکامیوں کاذمےدارہمیں نہ ٹھہرائیں ۔
پاکستان امن پسند ملک ہے ، دشمن کوئی بھی حربہ آزما لیں ہم ہمیشہ متحد رہیں گے ، ہم سے زیادہ وسائل رکھنےوالے ملک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکے، ہم جنگ کے خلاف اوربرابری کی بنیاد پرتعلقات چاہتے ہیں ، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان سے زیادہ کسی ملک نے کردار ادا نہیں کیا ۔
آرمی چیف کا کہنا تھا کہ عالمی طاقتیں اگر ہمارا ساتھ نہیں دے سکتیں تو ہم پر الزام تراشی نہ کریں ، خدانخواستہ پاکستان ناکام ہوا تو خطہ عدم استحکام کا شکار ہوجائے گا، افغانستان کو اپنی بساط سے بڑھ کر سہارادینے کی کوشش کی ہے ،ہم دشمن کی تدابیر پر بھی نظر رکھے ہوئےہیں، دشمن بلوچستان کےحالات خراب کرناچاہتا ہے، بلوچستان کو اسی طرح خون دینے کو تیار ہیں جیسے اس کے بیٹوں نے دیا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY