ڈاکٹر نگہت نسیم تمہیں‌کینسر ہے !قسط نمبر 53

1
1867

میں سوچ رہی تھی کہ عام سی باتیں ہی تو ہی اہم ہوتی ہیں کہ کوئی انسان بھی تو اپنی مرضی کے حالات میں نہیں جیتا۔ زندگی کے اتار چڑھاؤ‌ ، کھانا جو ہم کھاتے ہیں ، ہوا جس میں ہم سانس لیتے ہیں اور وہ پانی جو ہم پیتے ہیں ہمیں ہر طرح سے متاثر کرسکتا ہے۔ دنیا جس تیزی سے گزر رہی تھی اس کی ترتیب اتنی ہی بگڑ رہی تھی جو ہماری جسمانی ، نفسیاتی اور روحانی کیمسٹری کے توازن کو خراب کر رہی تھی ۔۔ آئے دن نت نئے صحت کے مسائل پیدا ہو رہے تھے ۔ سو ہمیں اپنی حفاطت خود ہی کرنی تھی ۔۔۔ آسانیاں اپنے لیئے بھی بنانی تھیں اور خود سے وابسطہ لوگوں کے لئے بھی رکھنی تھیں۔

“‌When the body is at ease, there is no disease “‌

میں تو سوچے ہی جاتی جو آمنہ نہ آجاتی ۔۔ اس نے آتے ہی زندگی کو جیسے بحال سا کر دیا تھا ۔۔
میری ممو جان ۔۔ مجھے ماں کی طرح پیار کر رہی تھی ۔۔ کبھی ہاتھوں پر تو کبھی ماتھے پر بوسوں کی بارش برس رہی تھی ۔
آفتاب صبح بھی آئے تھے تو ان کے سوال اتنے نہیں تھے ۔۔بس انہیں یہی فکر رہتی کہ میں نے کچھ کھایا ہے کہ نہیں ۔
بیٹی مجھے نہلا دو ۔۔ ورنہ نرس پریشان ہو جائے گی ۔۔ میں نے آمنہ کوتفصیل بتائی کہ کتنی بار نرس آ کر پوچھ چکی تھی ۔

اچھا میں پہلے میں باتھ روم دیکھ لوں اور سامان رکھ لوں ۔۔پھر نہلاتی ہوں ۔ ۔۔ بیٹی سے بڑی کوئی نعمت نہیں ۔۔میں تشکر سے آمنہ کو تیزی سے کام کرتا دیکھ رہی تھی کہ اسے بھی جلدی تھی کہ میں شام سے پہلے نہا لوں ۔۔ اور وہ آفتاب سے کہہ رہی تھی کہ ممو نے لال ڈائری میں لکھا تھا کہ دونوں صورتوں میں شاور میں ہی دوں ۔۔ ممو یو آر سو ایموشنل ۔۔ چلو میری بچی ۔۔میری شہزادی ۔۔ آمنہ نے مجھے بستر سے اٹھاتے ہوئے میری نقل اتاری جیسے میں اسے بچپن میں نہلانے کے لئے پچکارتی تھی ۔۔ میں پیٹ پکڑ کر ہنسنے لگی ۔۔ اف ٹانکوں میں درد کی ٹیس سی اٹھی جسے میرے چھپانے کے باوجود آمنہ نے دیکھ لیا تھا ۔۔

اس نے بہت محبت اور آرام سے مجھے نہلا کر موسچرائزر لگایا ۔۔ میرے ہاتھوں کا مساج کیا ۔۔ میرے بال بنائے ۔۔جب وہ میری دو چوٹیاں گوندھ رہی تھی مجھے اسکول والی آمنہ یاد آگئی جو دو رنگوں کے ربن لگوایا کرتی تھی کہ وہ اس سے سب میں منفرد دکھتی ہے ۔۔ میں اسے بہت سمجھاتی کہ انسان منفرد اپنے کام اپنی سوچ کی وجہ سے ہوتا ہے دو رنگوں کے ربن باندھ کر نہیں ۔۔ شاید وہ سمجھ گئی تھی جبھی تو وہ اب اپنے دوستوں میں اور جاب پر سب سے الگ اور منفرد تھی ۔۔سب سے کم عمر اور کامیاب زمہ دار ٹیم مینجر تھی ۔

میں اسے سمجھا رہی تھی کہ بیٹی تم نے کتنی آسانی سے مجھے سنبھال لیا ہے ۔۔۔ اسی طرح خود کو بھی سنبھال کر رکھنا ۔۔زندگی بظاہر آسان لگتی ہے ۔۔جیسے ہم سانس لیتے ہیں۔۔ ہاتھ ہلاتے ہیں۔۔ چلتے ہیں ۔۔ لیکن زندگی کو آسان بنا کر رہنا بہت مشکل ہے بیٹی ۔۔
پھر اسے کیسے آسان بنا سکتے ہیں ممو جان
صرف شکرگزاری سے ۔۔ بس آج ہی سے ہم سب ایک شکرگزار کی طرح سانس لیں گے ۔۔ سوچو بیٹی کتنے ہی لوگ ہیں جن کی سانسیں گنی جا چکی ہیں۔۔ ہاتھ نہیں ہلا سکتے ۔۔ چل نہیں پاتے ۔ ہم کیسے نعمتوں کا کفران کر جاتے ہیں ۔ ہمیں تو اپنی ہر سانس کا شکرگزار رہنا چاہیئے ۔۔ایک سانس ہی تو ہے جو رب سے رابطے میں رہتی ہے ۔۔لیکن ہم کتنی آسانی سے اپنی آتی جاتی سانسوں کا شمار ہی نہیں کرتے ۔۔اس کی اہمیت ہی کو نہیں جانتے ۔
ممو آپ اب میڈیٹیشن کی طرف آ رہی ہیں ۔۔ آمنہ کی بات پر میں ہنس پڑی
آپ الفا سٹیٹ آف مائینڈ کو ہم سب سے زیادہ جانتی ہیں
جی بیٹی ۔۔ کیوں پوچھا
آج میں اپنے اسٹوڈنٹس کو بتا رہی تھی ۔۔ سونے سے پہلے الفا اسٹیٹ آف مائینڈ کے لئے یو ٹیوب پر الفا میوزک سنا کریں ۔۔ کیا ٹھیک کہا ممو جان
جی بیٹی ۔۔ میں آمنہ کو بتا رہی تھی ۔۔
الفا اسٹیٹ آف مایئنڈ دراصل میڈیٹیشن کی سائینس ہے بیٹی ۔۔۔نیورو سایئنس نے میڈیٹیشن پر ریسرچ کرتے ہوئے ثابت کیا ہے کہ میڈیٹیشن کی حالت میں زہن سب سے زیادہ پرسکون اور آرام میں ہوتا ہے ۔

Sleep Study

سے اسے واضح کیا گیا ہے جب ہم جاگتے ہیں تو “ بیٹا“ کی لہریں ( 14 اور 30 ​​ہرٹز) پیدا ہوتی ہیں ۔ نیند کے دوران ہمارے زہن کی “ تھیٹا “ لہریں (3 سے 8 ہرٹز) ہوتی ہیں جو میڈیٹیشن کو شروع کرتے وقت بھی دیکھی گئی ہیں ، جبھی تو میڈیٹیشن کے شروع کرتے ہی ہلکی ہلکی سئ غنودگی ہونے لگتی ہے ۔ لیکن “ الفا “ لہریں (8 سے 12 ہرٹز) اس وقت پیدا ہوتی ہیں جب ہم کوئی بہت پر سکون ہوتے ہیں یا خواب دیکھ رہے ہوں یا شعوری طور پر ذہن سازی

( Mindfulness )

کی پریکٹس کر رہے ہوں یا گہری میڈیٹیشن میں ہوں ۔

بیداری میں ہمارے دماغ کی “ الفا “ لہریں کم اور سست ہوجاتی ہیں ۔ اس لیئے کہتے ہیں کہ ہر گھنٹہ پر ہم جو بھی کام بھی کر رہے ہوں ایک منٹ کے لئے رک جائیں تاکہ اس وقفے میں الفا لہریں اپنے طول و عرض کو پھر بڑھا لیں اور ہم پرسکون ہو کر دوبارہ کام شروع کر سکیں ۔ نیورو سائینسدان کہتے ہیں جو پابندی سے میڈیٹیشن کرتے ہیں اور اپنے کاموں کے دوران ایک ایک منٹ کا وقفہ کرتے ہیں وہ اپنے دائیں دماغ

( Right side of Brain )

کی سرگرمی ( تخیل ، تخلیقی صلاحیت ، یاداشت ، الہام و وجدان ) کو اوج کمال تک لے جا سکتے ہیں ۔۔۔ یعنی صرف الفا اسٹیٹ آف مائینڈ کی تیکنیک سے ہم کیا کچھ نہیں کر سکتے ۔ آمنہ بیٹی اب یہ تمہاری زمہ داری ہے کہ اپنے اسٹوڈنٹس ، کولیگز اور اسٹاف کی دماغی صلاحیتوں کو بڑھانے میں ان کی مدد کرو ۔۔۔

رات کا کھانا آ چکا تھا اور نجیب اپنے آفس سے سیدھا ہوسپٹل پہنچا تھا ۔۔ان دونوں کے ہوتے ہوئے مزید ایسی باتیں کرنی کہاں ممکن تھیں ۔۔ نجیب اور آمنہ کی نوک جھونک چل رہی تھی اور کبھی کبھی وہ دونوں آفتاب کی بھی خبر لے لیتے جو جب سے آئے تھے کمرے کو ٹھیک کر رہے تھے ۔۔ پھولوں کے گلدستوں کی ترتیب ۔۔ برتنوں اور کپڑوں کی ترتیب ۔۔ سب جاری تھا ۔۔ اب بھلا میں نے کب یہ بے ترتیبی پھیلائی تھی ۔۔کچھ صبح ایمیلیا ، منیب اور جیسیکا آئے تھے اور اب نجیب اور آمنہ سب کچھ یہی کر رہے تھے ۔۔ آفتاب کو بھی مصروفیت چاہیئے تھی جو انہیں مل چکی تھی ۔

رات کے نو بجنے والے تھے ۔۔ سب گھر جانے کے لیئے تیار تھے ۔۔ میں نے آمنہ سے کہا کہ جب میں گھر آؤں گی تو میرے لئے باتھ روم کے نزدیک والا کمرہ جو کبھی اس کا ہوا کرتا تھا میرے لئے تیار کر دے ۔۔۔ جانے کیوں مجھے لگ رہا تھا کہ ڈاکٹر برلنگ کل مجھے گھر جانے کا کہہ دیں گے ۔۔ آج کے سارے ٹاسک مکمل ہو چکے تھے ۔۔ میں اس طرح خوش ہو رہی تھی جیسے ہوم ورک مکمل کر لیا ہو ۔۔۔ اور بس اب چھٹی ملنے والی تھی ۔۔گھر جانا تھا۔۔
جی ممو جان ۔۔سب کچھ ویسے ہی ہوگا جیسا آپ چاہتی ہیں ۔
کچھ ہی دیر میں سب خداحافظ کہہ کر جا چکے تھے اور میں کمرے میں اکیلی رہ گئی ۔۔۔ نرس نے کمرے کا ٹمریچر بڑھا دیا تھا ۔۔دوا دی جا چکی تھی ۔۔بس اب سونا باقی تھا ۔۔ میں نے کانوں میں ایئر بڈز لگا لیئے ۔۔ شیرانز ڈاگا کی گائیڈڈ میڈیٹیشن میری پسندیدہ ترین تھی ۔۔ ہیل یور باڈی

(Heal Your Body ) 

شیرانز ڈاگا کہہ رہے تھے ۔۔ہمارا جسم ایک کرشمہ ہے جو پچاس سے ستر ٹرلین خلیات سے مل کر بنا ہے ۔ ایک ایک خلیہ بظاہر منفرد اور الگ الگ خصوصیات کا حامل ہے لیکن جب یہ خلیات ایک جٹ ہو کر کام کرتے ہیں تو معجزات رونما ہوتے ہیں ۔ یہ لائٹ کی سپیڈ سے بھی زیادہ تیز تر پیغام رسانی کا کام کرتے ہیں ۔ اگر ہمارا جسم ایک یونیورس ہے تو اس کا حاکم ہمارا دماغ ہے ۔ اور ہمارا دماغ ہمارے تابع ہے ۔۔ ہن جو چاہے اپنے جسم کے ساتھ کر سکتے ہیں ۔۔ یعنی ہم اپنے جسم کو مزید بہتر بنا بھی سکتے ہیں ۔۔برباد کرنا چاہے تو وہ بھی کر سکتے ہیں اور اگر موجودہ حالت میں برقرار رکھنا چاہے تو وہ بھی رکھ سکتے ہیں ۔ ۔۔یہ سب کچھ ہماری سوچ ، برتاؤ اور خوراک پر منحصر ہے کہ ہم اپنے ساتھ کیسا سلوک کرنا چاہتے ہیں ۔۔۔

مجھے لگا جیسے شیرانز ڈاگا کی آواز مدھم ہوتی جا رہی ہے ۔۔ شاید میں دوا کے اثر میں آ چکی تھی یا میڈیٹیشن کی گہرائی میں اتر رہی تھی ۔۔ بس اتنا یاد ہے کہ وہ کہہ رہے تھے کہ ایک سیکنڈ میں ہمارے جسم کے پچیس ملین خلیات ٹوٹ کر ختم ہو جاتے ہیں اور اتنے ہی نئے خلیات پیدا ہو جاتے ہیں ۔۔۔ یوں ہمارا جسم 98 فیصد ایک سال سے بھی کم عرصے میں نیا ہو جاتا ہے ۔۔ لیکن خلیات کی معلومات نہیں بدلتیں ۔۔ ان کے اندر وہی جسمانی ، زہنی کیفیات رہتی ہیں ۔۔ کیونکہ ہم خود کو بدلنا نہیں چاہتے ۔۔ آگے مجھے کچھ یاد نہیں انہوں نے کیا کہا۔۔

جاری ہے
ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

1 COMMENT

  1. ماشااللہ بہتری کی طرف سفر رواں ہے۔ بہت معصوم اور پیاری لگ رہی ہ3
    اسی طرح لمحہ لمحہ تمہارے اوپر کرم فرمائے۔ آمین اللہ ہمہ آمین پیاری بیٹا

LEAVE A REPLY