طالبان امریکہ مذاکرات کا اگلا دور 18 فروری کو اسلام آباد میں

0
933

طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور 18 فروری کو اسلام آباد میں ہوگا جس کے دوران افغان طالبان کا وفد وزیر اعظم عمران خان سے بھی ملاقات کرے گا۔

افغان طالبان کے ترجمان، ذبیح اللہ مجاہد کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’اسلامی امارات اور امریکہ کے درمیان قطر میں مذاکرات ہو رہے ہیں اور طے شدہ معاہدے کے مطابق، مذاکرات کا اگلا دور 25 فروری کو دوحہ میں ہونا تھا‘‘۔

ترجمان نے مزید کہا کہ ’’لیکن، حکومت پاکستان کی دعوت پر مذاکرات کا ایک دور 18 فروری کو اسلام آباد میں ہوگا، جس میں اسلامی امارات کا مذاکراتی وفد وزیر اعظم عمران خان سے بھی ملاقات کرے گا‘‘۔

ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’’اس سے قبل قطر میں امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات ہوچکے ہیں اور پاکستان میں مذاکرات کے بعد 25 فروری کو دوبارہ دونوں فریقین قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مزید بات چیت کریں گے‘‘۔

ترجمان کے مطابق، ’’اس ملاقات میں پاک افغان تعلقات کے علاوہ افغان مہاجرین اور افغان کاروباری افراد کے مسائل کے حوالے سے بات چیت کی جائے گی‘‘۔

وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ وفد کی اس طرح کی پہلی ملاقات ہوگی۔ لیکن، تاحال حکومت پاکستان یا دفتر خارجہ کی جانب سے پوچھے جانے کے باوجود اب تک کوئی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔

اگر یہ ملاقات ہوتی ہے تو سال 2001 کے بعد طالبان وفد کی کسی پاکستانی وزیر اعظم سے یہ پہلی ملاقات بھی ہوگی۔

امریکی نمائندہٴ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد اس وقت چھ ملکی دورے پر روانہ ہیں جس میں یورپی ممالک کے ساتھ ساتھ پاکستان کا دورہ بھی شیڈول ہے۔

طالبان کی جانب سے اعلان کردہ مذاکرات کے لیے زلمے خلیل زاد بھی اسلام آباد پہنچیں گے۔ لیکن، ابھی تک امریکی حکام کی جانب سے بھی ان مذاکرات کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔

اطلاعات کے مطابق، پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کل جرمنی روانہ ہوں گے، جہاں اُن کی ملاقات افغان صدر اشرف غنی سے متوقع ہے۔

ادھر طالبان نے منگل کے روز 25 فروری کو دوحہ بات چیت کے لیے اپنی 14 رکنی مذاکراتی ٹیم کا اعلان کیا، جس کی سربراہی شیر محمد عباس ستانکزئی کریں گے، جس میں گوانتانامو بے کے امریکی حراستی مرکز میں قید رہنے والے سابق پانچ افراد شامل ہیں جنھیں امریکی سارجنٹ بووی برگڈہل سے تبادلے کے دوران 2014ء میں رہا کیا گیا، جو 2009ء میں اپنے اڈے سے بھٹک گئے تھے اور اُنھیں طالبان نے پکڑ لیا تھا۔

’ایسو سی ایٹڈ پریس‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق، وفد میں انس حقانی بھی شامل ہیں، جو حقانی نیٹ ورک کے سربراہ کے چھوٹے بھائی ہیں، جو طالبان کا ایک طاقتور دھڑا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY