معزز قارئین! 26 فروری کی رات پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے ایک پہاڑی مقام بالا کوٹ سے ملحقہ بیابان میں رات تین بج کر تیس منٹ پر گراے گئے بم اور اس کی اہمیت پر اختصار کے ساتھ ایک تجزیہ کرتے ہیں۔ یہ تجزیہ انڈین ائیر فورس کے ایک ریٹائرڈ پائلٹ محترم جناب ‘راج تیاگی’ صاحب کے آرٹیکل سے ماخوذ ہے۔ انھوں نے یہ آرٹیکل ‘ہیرالڈو گوا- انگلش نیوز ڈیلی کو، نام نہاد سٹرائک کے سولہ گھنٹے بعد لکھ کر پوسٹ کیا تھا۔ ہم اس نام نہاد سرجیکل کی حقیقت و مقاصد کو اس آرٹیکل کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
آپ فرماتے ہیں۔ ” میں صبح پانچ بجے ‘گرو گرام’ میں اپنے گھر جاگا تو مجھے بتایا گیا کہ ہندوستانی ائیر بیس ‘اونتی پور’ سے میراج-2000 طیاروں نے پرواز کر کے پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خواہ میں، دو سو کلو میٹر دور، قصبہ بالا کوٹ میں ‘جیش محمد’ کے تربیتی کیمپ کو تباہ کر دیا ہے اور تین سے دھشت گرد ہلاک کر دیے ہیں۔ اس حملہ میں 1000 کلو گرام تک بم گراے گئے۔ میں ہندوستانی عوام کے جوش و خروش اور پاگل پن پر حیران ہو رھا تھا کہ وہ یوں خوش ہو رھے تھے جیسے ان ہزار کلو گرام کے بموں نے پاکستان کو ہی دنیا کے نقشے سے مٹا دیا ہو۔
مجھے توقع تھی کہ میرا یہ مضمون لکھتے وقت تک عوام پر حقیقت آشکار ہو چکی ہو گی اور پاگل پن بھی معدوم ہو چکا ہو گا۔ مجھے یہ بالکل مناسب محسوس ہو رھا ہے کہ میں بالکل حقیقی اور درست تجزیات کی روشنی میں عوامی جذبات پر ٹھنڈا پانی ڈالوں۔۔۔تاکہ ایک جعلی طور پر دی گئی خوشی میں کوئی جان ہی ضائع نہ ھو جائے۔
سب سے پہلی بات۔۔۔جس ہدف کو چنا گیا اس سے کسی بھی قسم کا کوئی فوجی فائدہ نہیں مل سکتا۔ یاد رہے یہ سٹرائک حکومت ہندوستان کی سابقہ چالبازیوں کی ایک کڑی کے سوا کچھ بھی نہیں۔۔۔اور اسے محض سیاسی پراپیگنڈا ٹول سے زیادہ کچھ بھی نہیں سمجھا جا سکتا۔
چلئے سب سے پہلے سمجھ لیتے پیں کہ سرجیکل سٹرائک کرتے ہوے مطلوبہ ہدف کی شناخت کیسے کی جاتی ہے؟ دیکھا جاتا ھے کہ ہدف کی نوعیت ‘نرم کھال’ کی ہے یا ‘سخت کھال’ کی۔ نرم کھال سے مراد جیپ، ٹرک و دیگر عام گاڑیاں۔ اگر ہدف نرم کھال ہو تو جہاز پر لگی 30 ملی میٹر دھانے کی مشین گنوں کے برسٹ ایسے اھداف کو منٹوں میں کچرا بنا دیتے ہیں۔ اگر ہدف میں ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں ہوں تو پھر 58 ملی میٹر کے فولاد شکن راکٹوں کی مناسب بوچھاڑیں ہدف کی یقینی تباہی کے لئے کارگر ہتھیار ھے۔
یاد رہے! لیزر گائڈڈ بم اس وقت بہترین ہتھیار ہے جب ہدف میں ریڈیو یا ریڈار سٹیشن ہو۔۔۔وہ بھی سگنلز کے اخراج کے وقت یا پھر زمین پر انسانی مددگار کی طرف سے نصب کئے گئے ‘بیکن’ کی صورت میں۔ عمارتوں یا ہتھیار بند فوجیوں کی صورت میں ہدف پر بڑے بم گرانا ہی مقاصد کا بہترین ذریعہ بن سکتا ھے۔
بالا کوٹ پر میراج طیاروں نے ایک ہزار کلو گرام بم پھینکے تو اس کا مطلب ہے ہدف کا تعین اور مقصد کا حصول بالکل واضع تھا۔۔۔یعنی نہ وہاں کوئی جیپیں تھیں نہ ٹرک نہ خیمے نہ عمارتیں نہ ہی کوئی ہتھیار بند جتھے۔ تو پھر ہمارے پائلٹوں کے علم میں تھا کہ ہدف اور مقصد صرف ایک ہٹ دھرم دشمن کو محض دھمکانا تھا یا مقصد اس سے بھی ہٹ کر کچھ اور تھا۔۔۔جو یقیننا سیاسی حکومت کے پراپیگنڈا ایجنڈے کو تقویت پہنچانا تھا۔ پبلسٹی سٹنٹ تھا۔ محض تھوڑی سی ٹھوں ٹھا! یہی وجہ تھی کہ پہلے سے ہی تیار خبریں ٹھیک ساڑھے تین بجے ایکٹرانک اور پرنٹ میڈیا ھاوسز کو ارسال کرنے میں دیر نہیں کی گئی۔
ہم خفیہ ذرائع سے یہ بات پہلے ہی جانتے ہیں کہ جیش محمد کا ہیڈ کوارٹر بہاولپور میں ھے اور وہاں سٹرائک کا مطلب ہوتا چار پانچ بھارتی طیاروں کی ایف 16 کے ہاتھوں یقینی تباہی۔ جب کہ بالا کوٹ ایک دور دراز علاقہ تھا۔
پھر ہمیں اس پھس پھسے حملے کو خفیہ رکھنا لازم تھا۔ اب ہمارا سخت جان دشمن یو این او میں قانونی اخلاقی فتح مندی کا دعوی کر سکتا ھے جس کا انکار ہمارے پاس نہیں۔
قصہ مختصر! مجھے سمجھ نہیں آتی ہماری عوام کو کیا ہو گیا ہے؟ کیا ہم ایک جنونی، غیر مہذب اور احمق قوم تو نہیں بن چکے؟ مجھے محسوس ہوتا ہے ہم ہندوستانی کسی کارٹون فلم سے نکلے کردار ہیں اور ہم ایسے ہی کارٹون سیاستدانوں کو ووٹ دے کر اپنے سروں پر مسلط کر لیتے ہیں۔
غازی جی۔حسین
شیخوپورہ۔ پاکستان۔













