چوبرجی چوک میں ایک شاعرہ جھونپڑی میں اپنی زندگی کے دن بسر کررہی تھی پھر ایک دن ہمارئے چند صحافیوں کی رحمی حس بھڑکی اور انھوں نے اس خاتون کی مدد کے لئیے فیس بک پہ اور اخبارات میں خبریں چلانا شروع کیں اور ان خبروں کو پڑھ کر حکومت کے ایک وزیر علیم خان نے اسکی مدد کا وعدہ کیا اور اسے چوبرجی سے اٹھا کر پاگل خانے پہنچا دیا اور اب یہ شاعرہ اس پاگل خانے میں ماہی بے آب کی طرح تڑپ تڑپ کرمررہی ہے
وہ ہر آنے جانے والے سے مدد کے طلب گار ہے میری آپ تمام پڑھنے والوں سے التماس ہے اپنے پیارئے نبی محمد صلی الللہ علیہ و آلہ وسلم کے صدقے اس خاتون کو وہاں سے آزاد کروائیں اور وہ صحافی جو اس کی مدد کے لئیے نکلے تھے اور راستہ میں اسے چھوڑ کر الگ ہوگے ان سے گزارش ہے فقط نمبر بازی کے لئیے مدد کرنا الللہ اور اس کے رسول کو بھی پسند نہیں ہے۰
آشر محمود













