مجیب الرحمان شامی نے جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کی زندگی کے پہلوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا تعلق بہاولپور سے ہے او ر ان کی عمر تقریبا 50سال کے قریب ہے ،وہ کافی پڑھے لکھے انسان ہیں ،انہوں نے کراچی بنوریہ سے تعلیم حاصل کی ۔انہوں نے کہا کہ مسعود اظہر عربی زبان پر قدرت رکھتے ہیں اورانہوں نے جہاد پر کتابیں بھی لکھی ہیں ۔
مجیب الرحمان شامی کا کہناتھا کہ مسعود اظہر اپنے لڑکپن میں افغان اور کشمیر جہاد میں بھی شریک رہے ۔سری نگر میں مجاہدین کے دو گروپس آپس میں ٹکر ار ہے تھے تو مسعود اظہر دونوں گروپوں کے درمیان صلح کروانے کیلئے سری نگر پہنچ گئے لیکن وہاں مخبری ہو گئی اور بھارتی سیکیورٹی فورسز نے انہیں گرفتار کر لیا جس کے بعد انہوں نے تقربیا 5سال بھارتی جیل میں گزارے ۔
1999میں ان کو چھڑانے کیلئے کوششیں شروع ہوئیں اور اغواءکاروں نے سیاحوں کو اغواءکر لیا اور مطالبہ کیا کہ مسعود اظہر کو چھوڑا جائے لیکن بھارتی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے اغواءکاروں کو مار گرایا اور یہ کوشش ناکام ہوئی۔اس کے بعد بھارت کا جہاز اغواءہوا جسے افغانستان کے شہر کابل لا یا گیا اور یہاں پر بھارتی حکومت مجبور ہو گئی مسعود اظہر کو چھوڑنے کیلئے کیونکہ مسافروں کی زندگیاں خطرے میں تھیں ۔
مسعود اظہر رہا ہونے کے بعد چوری چھپے پاکستان آ گئے کیونکہ یہاں ان کیخلاف کوئی مقدمہ نہیں تھا ،پاکستان آنے کے بعد انہوں نے عوامی سرگرمیاں شروع کر دیں اور کراچی میں اجتماعات سے خطابات بھی کیے ،اس کے بعد ان کی سرگرمیاں بھی محدود ہو گئیں اور شائد ایک بار وہ نظر بند بھی ہوئے ۔2001میں بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ ہوا اور اس میں ان کا نام آیا ،ممبئی حملوں میں ان کا نام براہ راست نہیں آیا لیکن ان کا کیس ہائیکورٹ میں چلا گیاان کیخلاف ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے وہ رہا ہو گئے ۔
اب بھارت پلوامہ حملے کا ذمیدار بھی انہیں کو قرار دے رہا ہے













