سڈنی کی انڈین کیمیونٹی میں ایک خوبصورت جوال سال ڈاکٹر پریتی ریڈی کو مبینہ پہلے محبوب اور دوست ڈاکٹر ہرش نے اتوار کو پہلے پریتی کو قتل کیا پھر اس کے ٹکڑے کر کے سوٹ کیس میں بند کر کے اسی کی گاڑی کی ڈگی میں بند کر کے گھر چلا گیا۔ پریتی کے والدین نے اتوار کی شام سے لے پیر کی شام تک انتظار کیا اور فیس بک اپیل بھی کی لیکن کچھ حاصل نا ہوا تو پولیس کو اطلاع دی ۔ کل یعنی منگل کی رات کو پریتی لاش مل گئی ۔ تفتیش کے لئے ڈاکٹر ہرش سے رابطہ کیا گیا اور ٹھیک پولیس سے گفتگو کے کچھ گھنٹوں بعد ڈاکٹر ہرش نے اپنی گاڑی ٹریلیر سے ٹکرا دی اور گاڑی کے ساتھ خود بھی جل گیا ۔
دوستو یہ معمہ جلدی حل ہو جائے گا اور قصور اور بے قصور سب سامنے آ جایئں گے ۔۔۔۔۔پر دل یہ سوچ کر بہت اداس ہے کہ بتیس سالہ ڈاکر پریتی واپس نہیں آئے گی اور نا ہی چوتیس سالہ ڈاکٹر ہرش واپس آئے گا ۔ آج ان دو گھروں کے ساتھ ہر صاحب دل کے گھر میں ایک ماتم سا ہے ۔ والدین کیا سوچیں اور کیا نا سوچیں ۔۔۔ عمر بھر کی جدائی آ پڑی ہے ۔۔۔۔۔ دونوں گھروں کے اہل خانہ کو پرسہ دیتی ہوں ۔۔ ان کے غم میں شریک ہوں ۔۔۔۔
سوچنے کی بات یہ ہے کیا انسان کو محبت میں ناکامی کو اپنی انا کا مسلہ بنا لینا چاہیئے ؟
کہیں ایسا تو نہیں کہ آج کے طالب علم صرف کتابی باتیں پڑھ رہے ہیں اور علم حاصل کرنے کی طرف توجہ نہ اساتذہ کرواتے ہیں اور نہ طالب علم کا رجحان ہے ۔
حلم ۔۔ بردباری ۔۔ معاف کرنا ۔۔ ہر کسی کے لئے اچھا چاہنا ۔۔ تکلیف نا دینے والی سوچ کیسے عنقا ہو گئی ۔۔۔۔۔ ؟
دوستو ۔۔!
اپنے اندر ، اپنے گھر اور اطراف میں نظر دوڑایئے
خود غرضی جہاں جہاں ملے اس کو دیس نکال دے دیجئے
خدا را ۔۔۔ کیا ایسا ہو کہ پھر ایسا نا ہو ۔۔!
خود کو ۔۔اپنے بچوں ۔۔اپنوں ۔۔ غیروں ۔۔سب کو اپنی خود غرضی سے بچا لیجئے ۔۔!
ڈاکٹر نگہت نسیم














دردناک ۔ بے حد افسوس ہوا