سابق وزیراعظم نواز شریف کی والدہ اپنے بیٹے کو اسپتال جانے کےلئے منانے میں ناکام ہوگئیں۔
سابق وزیراعظم نواز شریف سے ان کی والدہ،بھائی شہباز شریف، صاحبزادی مریم نواز اور بھتیجے حمزہ شہباز نے ملاقات کی۔
نواز شریف نے اہلخانہ کے اصرار کے باوجود جیل سے اسپتال منتقل ہونے سے منع کردیا۔
والدہ نے نوازشریف کو جیل سے علاج کے لئے اسپتال منتقلی کے لئے منانے کی کوشش کی،تاہم سابق وزیرعظم نے اپنی والدہ سے کہا کہ ’ آپ دعا فرمائیں،جو اللہ کو منظور ہوا، ہو جائے گا۔
نواز شریف نے شہباز شریف سے گفتگو میں کہا کہ علاج کےلئے بھیک مانگی ہے نہ آئندہ مانگوں گا،علاج کے نام پر سیاست ہو رہی ہے، ایک سے دوسرے اسپتال گھمایا جارہا ہے،حکومت کا تضحیک آمیز رویہ قبول نہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ بیمار کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانا کم ظرفی ہے،وزرا ای سی ایل میں نام کے باوجود بیرون ملک جاسکتے ہیں جبکہ ملک کو جوہری طاقت بنانے والے کو اسپتال جانے کی اجازت نہیں۔
سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 5 میڈیکل بورڈز کی رپورٹس کے بعد بھی علاج شروع نہیں ہوا، تضحیک قبول نہیں اور عزت کی موت کو ترجیح دوں گا۔
نواز شریف نے ملاقات کے بعد والدہ سے گھر جانے کی التجا کی اور کہا کہ ماں جی آپ دعا فرمائیں،جو اللہ کو منظور ہوا وہ ہوجائےگا۔
سابق وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ دل کی تکلیف اور طبیعت کی خرابی کے باعث میاں صاحب اسپتال جانے پر راضی نہیں ہوئے،دادی،چچا اور میرے اصرار کے باوجود والد صاحب علاج کے نام تضحیک کا نشانہ بننے کو تیار نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ نوازشریف کی صحت ٹھیک نہیں،جمعرات کا دن ملاقات کےلئے مخصوص ہے مگر میاں صاحب طبیعیت کی خرابی کے باعث کسی سے بھی ملاقات نہیں کرسکیں گے۔
شہباز شریف نے بھی بڑے بھائی نوازشریف کی طبیعت ٹھیک نہ ہونے کی تصدیق کی اور کہا کہ سابق وزیراعظم کی صحت ٹھیک نہیں اور ان کو بازو میں درد کی بار بار شکایت سامنے آرہی ہے جو تشویشناک علامت ہے۔












