سپریم ​کورٹ نے راجیو گاندھی کے قاتلوں کو رہا کر دیا، کانگریس کو فیصلہ نامنظور

0
713

سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں بھارت کے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے قتل کے تمام چھ مجرموں کو قبل از وقت رہا کر دیا۔ان میں ایک خاتون قیدی نلنی مروگن بھی شامل ہیں۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں ایک مجرم اے جی پیراری والن کا ذکر کیا جنھیں عدالت نے دستور کی دفعہ 142 کے تحت حاصل خصوصی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے رواں سال مئی میں رہا کر دیا تھا۔ اس مقدمے میں سات مجرموں کو سزائے موت سنائی گئی تھی۔

راجیو گاندھی کو 21 مئی 1991 کو تمل ناڈو کے سری پیرومبدور میں ایک انتخابی ریلی میں سری لنکا کی عسکری تنظیم ’ایل ٹی ٹی ای‘ کے ایک خود کش حملے میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ خودکش بمبار خاتون کا نام دھنو تھا جس نے راجیو گاندھی کو ہار پہنانے کے بہانے بم سے اڑا دیا تھا۔ اس وقت ان کی عمر 46 سال تھی۔

عدالت نے کہا کہ تمل ناڈو کابینہ نے 2018 میں گورنر سے سفارش کی تھی کہ وہ سزا یافتہ افراد کو رہا کر دیں۔ گورنر اس حکم کو ماننے کے پابند تھے۔

جسٹس بی آر گوئی اور جسٹس بی وی ناگ رتن کے بینچ نے فیصلے میں کہا کہ اے جی پیراری والن کے معاملے میں مئی میں دیے گئے عدالتی فیصلے کا اطلاق یہاں بھی ہوتا ہے۔ پیراری والن نے جیل میں 30 برس گزارے تھے۔

عدالت نے کہا کہ سزا یافتہ افراد نے جیل میں اطمینان بخش کردار کا مظاہرہ کیا، تعلیم حاصل کرکے ڈگری پائی، ایوارڈز پائے، کتابیں لکھیں اور سماجی خدمات میں بھی حصہ لیا۔ نلنی کے وکیل پی پوگالنتھی نے فیصلے پر اپنی خوشی کا اظہار کیاہے۔

سپریم کورٹ نے راجیو گاندھی کی بیوہ اور کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کی مداخلت پر 2000 میں نلنی کی سزائے موت کو عمر قید میں بدلا تھا۔ سونیا گاندھی کی بیٹی پرینکا گاندھی نے 2008 میں ویلور جیل میں نلنی سے ملاقات کی تھی۔ اس وقت انھوں نے کہا تھا کہ وہ نفرت اور انتقام میں یقینی نہیں رکھتیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY