نیب ریفرنسز: کیپٹن (ر) صفدر نے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کر دی

0
85

شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز کیس میں سابق وزیراعظم کے داماد کیپٹن (ر) صفدر احتساب عدالت میں پیش ہوئے اور حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ ضروری کام کی وجہ سے بیرون ملک جانا ہے، 15 روز کے لیے حاضری سے استثنیٰ دیا جائے، غیرموجودگی میں فیصل عرفان ایڈووکیٹ پیش ہوں گے۔

سابق وزیراعظم اور مریم نواز حاضری سے استثنیٰ کے باعث احتساب عدالت پیش نہیں ہوئے۔ نوازشریف کے اکاؤنٹ سے مریم صفدر سمیت دیگر افراد کو جاری چیکس کی تفصیلات عدالت میں پیش کر دی گئیں۔ استغاثہ کے گواہ ملک طیب کا بیان ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ گواہ کا کہنا تھا کہ مریم صفدر کو 13 جون 2015 کو 12 ملین روپے کا چیک، 15 نومبر 2015 کو 28.8 ملین روپے کا چیک جبکہ 14 اگست 2016 کو 19.5 ملین روپے کا چیک دیا گیا۔

کیپٹن (ر) صفدر نے احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا آزمائشیں ہمیشہ نیک لوگوں پر آتی ہیں، محب وطن سیاستدانوں کو آگے نہیں آنے دیا جاتا۔ انہوں نے کہا کچھ قوتیں پاکستان کو 70 سال پیچھے دھکیلنے کی کوشش کر رہی ہیں، اب ملک پر وہی راج کرے گا جو میڈ ان پاکستان ہوگا۔ ان کا کہنا تھا نوازشریف کومیڈ ان پاکستان ہونے کی وجہ سے نکالا گیا، دھرنے والوں سے معاہدہ کہیں اور سے ہوا، نواز شریف پاکستان کو آگے لے جانا چاہتے ہیں۔ کیپٹن (ر) صفدر نے کہا انرجی سیور لاہور اور یو پی ایس راولپنڈی میں لگ جاتا ہے، جےآئی ٹی کے 6 ہیروں کو درخواستیں دیں کہ عید کے بعد پیش ہو جاؤں گا۔

خیال رہے گزشتہ روز استغاثہ کے گواہ ملک طیب نے نواز شریف کے چیکوں کی ٹرانزیکشنز عدالت میں پیش کیں، نوازشریف کی جانب سے جمع اور کیس کرائے گئے چیک بھی عدالت میں پیش کر دیئے گئے۔ احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی ایک ہفتے کے لئے استثنیٰ کی درخواست منظور کی، جس کا اطلاق آج سے ہوگا، مریم نواز کی حاضری میں استثنیٰ کی تاریخوں میں ردوبدل کی درخواست مسترد کر دی گئی، ان کا استثنیٰ 15 دسمبر تک برقرار رکھا گیا جبکہ عدالت نے فلیگ شپ انویسٹمنٹ، العزیزیہ سٹیل ملز اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں پیش نہ ہونے پر حسن نواز اور حسین نواز کو اشتہاری ملزم قرار دے دیا جس کے بعد اب نیب آرڈیننس کے سیکشن 512 کے تحت ملزموں کے خلاف شہادتیں ریکارڈ کی جائیں گی۔

عدالت نے دونوں ملزموں کو پہلے ہی مفرور قرار دے کر ان کی جائیداد قرق کرنے کا بھی حکم دیا جاچکا ہے، نیب نے حسن نواز اور حسین نواز کی جائیداد کے حوالے سے رپورٹ بھی عدالت میں جمع کرائی تھی جس میں بتایا گیا کہ پاکستان میں دونوں ملزموں کی کوئی جائیداد نہیں ملی، اگر جائیداد کی تفصیلات سامنے آئیں تو عدالت میں پیش کی جائیں گی۔ ملزموں کے بینک اکاؤنٹس اور حصص پہلے ہی منجمد کئے جا چکے ہیں، نیب ریفرنسز سے متعلق جو گواہ نوازشریف کے خلاف شہادتیں ریکارڈ کرا رہے ہیں وہی حسن نواز اور حسین نواز کے خلاف بھی شہادتیں دیں گے اور گواہوں کے بیان بھی ریکارڈ پر لائے جائیں گے۔ حسن نواز، حسین نواز اور ان کے وکلا نیب ریفرنسز کی ایک بھی سماعت میں پیش نہیں ہوئے، جس پر عدالت نے دونوں ملزموں کے نا قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی برقرار رکھے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY