وفاق اور بلوچستان حکومت نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت گزشتہ روز خصوصی اجلاس ہوا جس میں کوئٹہ میں نہتے شہریوں پر بزدلانہ حملے کی پرزور مذمت کی گئی۔
اجلاس میں شہدا کے خاندانوں سے دلی ہمدردی و تعزیت کا اظہار کیا گیا جبکہ آئی جی بلوچستان پولیس نے اجلاس میں ریلوے پھاٹک دھماکے کی ابتدائی رپورٹ پیش کی۔
اس موقع پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ وفاقی حکومت دکھ کی گھڑی میں بلوچستان حکومت کے ساتھ کھڑی ہے، شہدا کی عظیم قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے ہر مشکل گھڑی میں بلوچستان کے ساتھ دینے پر وزیر داخلہ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے،، شہدا کے خاندانوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب ریلوے ٹریک پر دھماکا ہوا تھا جس میں 3 ایف سی اہلکاروں سمیت 14 افراد شہید اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔
…………………
کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب ریلوے ٹریک پر زوردار دھماکے کے نتیجے میں 3 ایف سی اہلکاروں سمیت 14 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔
پولیس کے مطابق دھماکا چمن پھاٹک کے قریب ریلوے ٹریک پر ہوا، دھماکا اس قدر شدید تھا کہ اس کی گونج سے قریبی عمارتوں کے شیشے اور کھڑکیاں ٹوٹ گئیں، دھماکے سے ٹرین کو اور قریب کھڑی 10 گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔
ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے کے بعد پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس کو کوئٹہ اسٹیشن پر ہی روک لیا گیا ہے۔
دھماکے کے بعد سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور ڈاکٹرز اور طبی عملے کو طلب کر لیا گیا ہے۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق ریلوے ٹریک پر دھماکے کے 20 سے زائد زخمیوں کو سول سنڈیمن اسپتال منتقل کیاگیا۔
معاون وزیراعلیٰ بلوچستان شاہد رند نے بتایا کہ چمن پھاٹک دھماکے میں جاں بحق افراد کی تعداد 14 ہوگئی ہے، دھماکے کے شہداء میں ایف سی کے 3 جوان بھی شامل ہیں، دھماکے میں زخمی ہونے والی متعدد خواتین اور بچوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
شاہد رند کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں نے نہتے شہریوں کو نشانہ بنایا، سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے، شواہد اکٹھے کرنے اور تحقیقات کا عمل جاری ہے، عوامی مقامات کو نشانہ بنانا دہشت گردوں کی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے۔













