گاہے گاہے بازخواں ایں قصہ پارینہ را ۔۔نصرت نسیم

0
1162

صبح تاریخ دیکھی 22 رجب توبیٹھے بٹھائے ماضی کے شب و روز، محفلیں، مہربان جیرے اورلذیذ پکوان یاد آگئے ذائقے زبان پر گھلنے لگے خوشبوؤں نے اپنے حصار میں لے لیا وہ خوشبوئیں جو روٹھ گئیں وہ ذائقے جو معدوم ہو گئے اورسماجی میل میلاپ،محفلیں رونقیں جو قصہ پارینہ ہوئیں مجھے یاد ہے 22 رجب کی نیاز کے لیے امی خصوصی اہتمام کرتیں تمام رشتہ داروں اور دوستوں کو کئ روز پہلے دعوت دی جاتی صبح سے تیاری شروع ہوتی بڑے کمرے میں سفید چادریں بچھا کر گاو تکیے لگادیے جاتے مرکز میں بڑی سی چوکی پر سیارے رکھ دیے جاتے اگر بتیاں سلگا دی جاتیں سب لوگ اکٹھے ہو جاتے تو امی بڑی سی کڑاہی چولہے پر دھر دیتیں اورجلدی جلدی پوریاں بیل بیل کر کڑاہی میں ڈال کر نکالتی جاتیں اس سلسلے میں میں چچی اورخالہ بھی ساتھ ساتھ پوریاں بنانے اورتلنے کے عمل میں ان کا ہاتھ باتیں اوردیکھتے ہی دیکھتے بڑی سی سینی پھولی پھولی پوریوں سے بھر جاتی تواس کے بعد حلوہ پکتا یقین مانیں حلوے اورپوریوں کی خوشبو میرے آس پاس گویا پھیل سی گئ ہے

گرما گرم یہ پکوان مرکز میں رکھی بڑی سی چوکی پر چن دیے جاتے دعائیں مانگی جاتیں اور پھر سب جیسے جی چاہے جتنا چاہیں کھائیں ایک دو پوریوں سے پیٹ تو بھر جاتا مگر نیت نہ بھرتی رجب کے آخری عشرے میں اپنے گھر کے علاوہ باری رشتے داروں کے گھر دعوتیں اڑای جاتیں میرے بچپن سے لے کر میری شادی کے بعد تک اللہ جنت نصیب کرے میری ساس بھی امام جعفر صادق کے نام کی یہ نیاز بڑے بڑے عقیدت و احترام سے دلواتیں پھر پتہ نہیں کیسے آہستہ آہستہ یہ نیاز یہ روایت ہمارے گھروں سے رخصت ہوئی کہ یہ بدعت ہے شرک ہے
بچپن میں ہماری خالہ ہرماہ با قاعدگی سے مشکل کشا کی نیاز بھی دلواتیں اکثر ہمیں پیسے دے کر کہتیں کہ خشک فروٹ کی دکان سے 5 نکل لے آو کھانے کے شوق میں بھاگم بھاگ 5 نکل لے آتے -جس پر فاتحہ پڑھ کر وہ مٹھی بھر بھر کر بچوں اوربڑوں میں تقسیم کر دیتیں
ایک اور نیاز غالبا “بی بی آسیہ کے نام کی دلوائی جاتی یہ ہمارے بہت بجپنے کی بات ہے کہ جب پھپھو اماں (ہماری رشتے کی نانی اماں )ہمارا ہاتھ پکڑ کر،مصلے میں رکھا اپنا شٹل کاک برقعہ اوڑھ کر تیز تیز قدموں سے چلتی ہوئی محلہ میاں خیل میں اپنی دوست کے گھر لے جاتیں ان کی یہ دوست بہت عمر رسیدہ، کمر خمیدہ ودکھی خاتون تھیں اوربڑے سے قدیم طرز کے بستے والے اتنے بڑے گھر میں اکیلی رہتی تھیں بڑے سے گھر میں ی سیدہ خاتون کسی پر اسرار کہانی کا کردار نظرآتیں جب ہمیں بٹھا کر وہ دالان کے بستے گرا دیتیں دروازہ بند کر دیتیں کہ اس نیاز کا پردہ ہے اس کو کوئی مرد نہیں کھا سکتااسکو گھر کے باہر بھی نہیں لے جا سکتے

مزید احتیاط کے طور پر اسی دالان میں پھپھو اماں اوروہ مل کر چوری کا آٹا گوندھ کر روٹ پکاتیں چوری بناتیں مٹی کی سانڑنک (پرات )
میں ڈال کر ہمارے آگے رکھ دیتیں کبھی کبھی اس پر دہی بھی ڈال دیتیں کھا چکنے کے بعد ادھر ہی دوسرے برتن میں ہمارے ہاتھ دھلواے جاتے اور اس پانی کو وہ پودوں میں ڈال آتیں تاکہ کوئی ایک ذرہ ذرہ بھی زمین پر نہ گرے اوربے ادبی نہ ہو دیسی گھی میں بنی چوری اوپر میٹھا دہی اتنی لذیذ چوری آج تک دوبارہ نہیں کھائی-اور خاص بات یہ کہ یہ صرف انہی سیدہ عابدہ خاتون کے ہاں اتنے اہتمام کے ساتھ کھائی پھر کہیں کسی جگہ کھانے کا موقعہ نہیں ملا ہاے کیسے کیسے لوگ تھے جنکے ساتھ ذائقے روایات، رکھ رکھاو اورعزت واحترام بھی رخصت ہوئے

SHARE

LEAVE A REPLY