مجھے یقین ہے کہ عارف والا کو اب محمد فیاض کی وجہ سے بیرون ملک شہرت مل جائے گی۔ اللہ کرے ایسا ہی ہو
چند روز پہلے یہ خبر نشر ہوئی کہ عارف والا کے ایک نوجوان فیاض کے خلاف مقدمہ درج کر کے گرفتار کیا گیا ہے اور اس پر الزام ہے کہ اس نے مقامی طور پر ایک چھوٹا طیارہ بنایا جسے وہ اڑانے والا تھا کہ گرفتار کر لیا گیا
قانون اور زمینی حقائق اپنی جگہ کہ فیاض کے اس اقدام سے دوسرے لوگوں اور خود اسکی اپنی جان کو خطرہ ہو سکتا تھا اور یوں بھی پرواز کرنے والی کوئی چیز باقاعدہ لائسنس کے بغیر اڑائی نہیں جا سکتی
اس حقیقت کے باوجود میں یہ سوچ رہا ہوں کہ وطن عزیز میں کیا کوئی ادارہ ہے جو اس عام نوجوان کی ایسی کمال صلاحیت سے فائدہ اٹھا سکے کہ اس نے مقامی سامان کے ساتھ یہ طیارہ بنایا ہے
اللہ نہ کرے کہ کوئی بیرونی ملک کی کمپنی اس دماغ کو ہمارے ہاں سے لے اُڑے۔۔ کاش ملک کا ایوی ایشن اس سے ملاقات کرے اسکی اہلیت کا تجزیہ کرے اور اس سے کوئی بڑا کام لے سکے
اب تازہ خبر اس طرح ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عارف والا میں چھوٹا طیارہ بنانے والے محمد فیاض کو اس کا جہاز واپس کردیاگیا۔
جہازڈی پی او پاکپتن ماریہ محمود کی ہدایت پر واپس کیا گیا۔
محمد فیاض کا کہنا ہےکہ وہ اپنا تیار کردہ جہاز واپس ملنے پر بے حد خوش ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سول ایوی ایشن کی ٹیم جہاز کے جائزے کے ساتھ محمد فیاض سے بھی ملے گی۔
محمد فیاض کو31 مارچ کواس کا اپنا بنایا ہواجہاز اڑانے کی کوشش کرنے پر پکڑا گیا تھا۔
پولیس نے محمد فیاض کو گرفتار کرکے اس کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔
عدالت نے محمد فیاض کو تین ہزار روپے جرمانہ کرکے رہا کردیا تھا۔
صفدر ھمدانی













