سخت شرائط پوری کرنے کے باوجود بین الاقوامی مالیاتی (فنڈ) آئی ایم ایف حکام پاکستانی اقدامات سے تاحال غیرمطمئن دکھائی دے رہے ہیں۔ پاکستان کیلئے آئی ایم ایف قرض پروگرام کی بحالی مزید کھٹائی میں پڑگئی۔
آئی ایم ایف کے 17 مئی تک اجلاس کے ایجنڈے میں پاکستان کو شامل نہیں کیا گیا۔ آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ میٹنگز کا شیڈول جاری کردیا گیا تاہم 17 مئی تک اجلاس کے ایجنڈے میں پاکستان شامل ہی نہیں۔ آئی ایم ایف پاکستان کی بیرونی فنانسنگ کی یقین دہانیوں سے غیرمطمئن ہے اور زرمبادلہ ذخائر دو ماہ کی درآمدات کے مساوی کرنے کا نیا مطالبہ بھی کر دیا۔
وزارت خزانہ ذرائع کے مطابق 2 ماہ کی درآمدات کے مساوی زرمبادلہ کی رقم 11 سے 12 ارب ڈالر بنتی ہے۔ دوست ممالک کے بعد پاکستان نے مزید ایک ارب ڈالر کی فنانسنگ کی یقین دہانی کرائی ، آئی ایم ایف پھر بھی مطمئن نہیں۔ پاکستان کو 30 جون تک 3.7 ارب ڈالر کےقرضے واپس کرنےہیں ، اس لئے دوست ملکوں سےمزید تعاون درکار ہوگا۔
پاکستان آئی ایم ایف پروگرام کے نویں اقتصادی جائزہ کی بیش تر شرائط پوری کر چکا۔ حکومت نے170 ارب روپے کے ٹیکس عائد کئے، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے علاوہ مارکیٹ بیسڈ ایکسچینج ریٹ پالیسی اختیار کی گئی مگر پھر بھی قرض پروگرام تاحال بحال نہیں ہوا۔
یاد رہے کہ اسٹاف لیول معاہدہ 9 فروری سے تاخیر کا شکار ہے۔ اسٹاف لیول معاہدہ نہ ہونے کے باعث عالمی مالیاتی اداروں سے فنڈنگ نہ ملنے کا خدشہ ہے جبکہ بجٹ سازی کا شیڈول بھی متاثر ہو رہا ہے۔













