پتہ ہے زندگی میں کبھی کبھی سب رستے بند دکھائی دیتے ہیں اور انسان کا لگتا ہے کہ شاید اب اسکے بعد کوئی رستہ باقی نہیں رہا مگر دراصل وہ بند گلیاں۔۔۔وہ دیواروں میں چنا ہوا سا سفر انسان کے یقین کا امتحان ہوتا ہے جب بظاہر امید کی کوئی کرن کہیں سے دکھائی نہیں دیتی اور انسان بڑا محو اپنے رب سے ہمکلام ہوتا ہے۔۔۔
شاید وہ ہی کلام رب اپنے بندے سے ہمیشہ کرنا چاہتا ہے جسمیں انسان کو سوائے رب کے نہ کسی سے واسطہ ہو نہ امید نہ ہی یقین۔۔۔جب وہ اسکا بندہ اس سے اپنے حالت و واقعات ایسے ہی بنان کرنے لگے جیسے اسے بہت پاس ۔۔۔بہت قریب سے محسوس کر رہا ہو۔۔۔اور یہ بند گلیاں۔۔۔انسان کو رب سے ایسے ہی جوڑنے آتی ہیں۔۔۔تاکہ انسان اپنے رب سے کلام کرنا سیکھ کے۔۔۔اپنا درد اپنی تکلیف کہنا سیکھ لے۔۔۔اور جب وہ اپنی ہر مشکل اسکے سپرد کر دیتا ہے تو پھر وہ وہ بھی عطا کرتا ہے جو اسکے بندے کی چاہ تھی اور وہ بھی جو اسکی اپنی چاہ تھی۔۔۔
رب کریم سے تعلق اس سے گفتگو ۔۔۔۔ایک حسین اور انمول رشتہ ہے اپنے دکھوں کے شکر گزار رہییے کہ وہ ہمیں رب سے بات کرنا۔۔۔اس پر ہقین رکھنا سیکھاتے ہیں۔۔۔اور ان لمحوں سے حسین لمحے بھلا کیا ہوں گے جب خدا ہو اسکے حبیب ص اور انکی آل کا واسطہ ہو اپنی بات ہو اور رب سے ایک حسین رشتے کا ۔۔۔اس ٹوٹے ہوئے تعلق کا ایک از سرنو آغاز ہو۔۔۔
رب کی محبت دلوں کو نرم رکھتی ہے اور آنکھوں کو نم رکھتی ہے اور روحوں کو عجز و انکساری کی دولت سے سرفراز کرتی ہے۔۔۔۔بس یہی تعلق گر مظبوط ہو جائے تو انسان کبھی بے چین اور پریشان نہیں ہو۔۔۔
مصیبت صرف تب عزاب بنتی ہے جب ہمارے یقین کو وہ ہم سے چھین لیتی ہے۔۔۔
ہم سے دعا کی استطاعت اور استقامت چھین لیتی ہے۔۔۔اور جب یہ ہو تو یہی اصل زوال ہے۔۔۔اور انسان کی منزل کمال ہے زوال نہیں اور کمال کی کنجی اخلاقیات کا اوج ہے اخلاص کا جمال ہے۔۔۔اور انسان کے شفاف ہونے کی دلیل ہے۔۔۔کہ اسنے خود کو مایوسی اور بے یقینی سے دھندلا نہیں دیا آلودہ نہی کیا۔۔۔
ہمیں اپنے اندر کہ یقین سے اپنے ظاہر اور باطن کے ساتھ ساتھ اپنے ارد گرد کو بھی روشن معطر اور ہجھلملاتا بنانا ہے۔۔۔
ہمیں یقین رکھنا ہے۔۔۔ہمیں پرواز کرنی ہے۔۔
ہمیں جینا ہے اور جینے کا اک احساس بننا ہے۔۔۔
ہمیں روشنی بن کر اک آغاز ہونا ہے۔۔۔
ہمیں خوشبو کے لہجے میں ایک آواز بننا ہے۔۔۔
فائزہ عباس













