تاخیر سے ہی سہی لیکن سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان اسلم رئیسانی کو ڈگری کی اہمیت کا اندازہ ہو گیا، وہ پولیٹیکل سائنس میں ایم فل کر رہے ہیں۔
انہوں نے بلوچستان یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا، یہی نہیں انہوں نے 9 سال پہلے ڈگری سے متعلق دیئے گئے اپنے بیان پر معافی بھی مانگ لی۔
اسلم رئیسانی لینے تو کلاس آتے ہیں لیکن ایسا لگتا ہے جیسے کسی اجلاس کی صدارت کرنے آ ئے ہیں، ان سے پہلے ان کے مسلح محافظ یونیورسٹی پہنچتے ہیں،لیکن شاید یہ سیکیورٹی صوبے کی امن وامان کی صور حال کا تقاضہ ہے۔
یونیورسٹی میں بھی سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان کا میڈیا نے پیچھا نہ چھوڑا، مائیک لے کر سوال کر ہی ڈالا لیکن ایک محنتی طالب علم کی طرح شاید انہیں مائیک سے دلچسپی نہیں، کلاس لینے کی جلدی تھی۔
انہوں نے کہا کہ یہ میرا ذاتی معاملہ ہے،میں کلاس لینے جا رہاہوں تنگ نہ کریں اور یوں اپنے محافظوں کو باہر ہی چھوڑ کر اسلم رئیسانی کلاس لینے چلے گئے۔
تعلیمی ڈگری کے حصول کیلئے یونیورسٹی آنے والے یہ وہی اسلم رئیسانی ہیں جنہوں نے 9سال پہلے ڈگری سے متعلق ایسا بیان دیا تھا جو زبان زد عام ہوگیا تھا، انہوں نے کہا تھا کہ ’’ڈگری ڈگری ہوتی ہے اصلی ہو یا جعلی‘‘۔
9 سال بعد ہی سہی، اسلم رئیسانی کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو انہوں نے اپنے بیان پر قوم سے معافی مانگ لی اور خود جعلی نہیں ایک دم اصلی ڈگری لینے کے لیے بلوچستان یونی ورسٹی پہنچ گئے۔
کہنے والے کہہ رہے ہیں کہ اصلی ڈگری لینا شاید ووٹ لینے کی طرح آسان نہیں، اس کے لیے انہیں کلاسیں لینا پڑیں گی، ایک اچھے طالب علم کی طرح یونیورسٹی آنا ہوگا،لیکچر دینا نہیںسننا ہوگا، سرکاری فائلوں پر دستخط نہیں کرنے ہوں گے بلکہ اسائمنٹ کے رجسٹر بھرنے ہوں گے، دن رات پڑھنا ہوگا، تب جا کر اصلی ڈگری کا پھل ملے گا۔
64 سال کے سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان اسلم رئیسانی نے بہر حال یہ ثابت کر دیا ہے کہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے کوئی عمر نہیں۔












