پاکستان میں موضوعاتی مرثیہ کا ارتقا‘‘۔ شہزادہ منتظر مہدی کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری ملنے پر مبارکباد

0
1142

مرثیہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ عربی لفظ رثا سے مشتق ہے ۔ویسے تو مرثیہ کی ابتدا حضرت آدم ؑ سے ہی ہو گئی تھی،مگر اس کو فروغ واقعہ کربلا کے بعد حاصل ہوا شاید اسی لیے اس صنف سخن کو ایک مذہبی صنف سخن میں شمار کیا جاتا ہے جب کہ ایسا ہر گز نہیں ۔دور جدید میں مرثیہ ایک ایسی نظم کی شکل اختیار کر چکا ہے جو ادب برائے زندگی ہے اور خاص طور پر اُردو زبان میں سب سے اعلیٰ ادب شاید اب مرثیہ ہی میں تخلیق ہو رہا ہے ۔

عربوں میں مرثیہ اگرچہ یونانیوں کے بعد آیا مگر اس کو خاص مقام تب حاصل ہوا جب واقع کربلا وقوع پزید ہوا اس وقت سب سے پہلا مرثیہ اپنے بھائی کی لاش پر بی بی زینبؑ نے پڑھا۔عربوں کے بعد ایرانیوں میں یہ صنف در آئی اور متحثم کاشی نے شاہ ایران طھماسب کے کہنے پر ۷بند کا مرثیہ لکھا مگرایران میں یہ صنف وہ مقام حاصل نہ کر سکی جو اسے برصغیر میں حاصل ہوا،ایرن کے شیخ آزاری اسفرائنی نے واقع کربلاپر پہلا مرثیہ لکھا اور اسی نے برصغیر میں بھی قصیدے اور مرثیے لکھے۔ اُردو مرثیہ کی ابتدا اُردو زبان کے ساتھ ہی ہو گئی تھی۔پہلے مرثیہ کے لیے کوئی خاص شکل متعین نہیں تھی اسےمثنوی ،مربع ، مثلث ، مخمس وغیرہ میں لکھا جاتا تھا جیسے کہ اشرف بیابانی کی مثنوی ’’نوسر ہار‘‘ کا قابل ذکر ہے ۔اسی طرح برہان الدین جانم ؔکو بھی پہلا مرثیہ نگار تسلیم کیا جاتا ہے ۔فضلی ؔ کی ’’کربل کتھا‘‘ اورملا واعظ کاشفی کی ’’روضتہ شہدا‘‘بھی مرثیہ ہی کی ایک کڑی ہے ۔

مرثیہ کا باضابطہ دور عہد جہانگیری سے برصغیر میں شروع ہوتا ہے ۔مرثیہ کو مسدس کی شکل میں مرزا محمد رفیع سودا نے متعین کیا ، یہ وہ دور تھا جب کہا وت مشہور تھی کہ ’’بگڑا شاعر مرثیہ گو‘‘ ۔مگر میر ضمیر ؔنے اپنے دور میں اس کے قوائد وضع کیے ،جن کی پیروی بعد میں انیس ؔ اور دبیرؔ نے بھی کی اور اس صنف کو وہاں پہنچا دیا کہ اب اس کہاوت’’ بگڑا شاعر مرثیہ گو‘‘ کی جگہ مرزااسد اللہ خان غالب ؔ جیسے شاعرکو بھی یہ کہنا پڑا کہ اگر میرؔ انیس سے بہتر میں مرثیہ لکھ سکوں تو یہ حق ہے مجھے مگر اس کے لیے مجھے ایک اور جنم درکار ہوگا ،میں ا س میدان کا مرد نہیں ہوں۔شیخ امام بخش ناسخؔ اپنے شاگردوں کو کہا کرتے تھے کہ اگر اُردو زبان سیکھنی ہو تو میرخلیقؔ کے گھرانے سے سیکھو۔انیسؔ نے ایسے ہی نہیں کہا تھا کہ’’پانچویں پشت ہے شبیرؑ کی مداحی میں ‘‘۔خلیقؔ انیسؔ کے والد تھے اور خلیق کے والد میرحسنؔ اور ان کے والد میر ضحاک ؔ تھے جن کے جد امجد میر امامیؔ شاہجہاں کے دور میں ایران سے ہجرت کر کے برصغیر آئے تھے اور یہ سارا گھران ہی ادبی اور زباندانی میں مہارت رکھتا تھا۔انیسؔ کے نواسے پیارے صاحب رؔشیدنے ہی ساقی نامہ کی روایت مرثیہ میں شامل کی۔

موضوعاتی مرثیہ کو ہندو شاعر جن کے بارے مشہور ہے کہ آخری عمر میں مسلمان ہوگئے تھے دلورام کوثری نےرواج دیا ان کی وجہ شہرت نعت تھی مگر انہوں نے پہلا موضوعاتی مرثیہ ’’قرآن اور حسینؑ‘‘ ۱۹۱۵ء میں لکھا ۔جب برصغیر پاک وہند میں تقسیم ہوا تو اس وقت پاکستان آنے والے شعرا نے اس صنف کو مزید ترقی دی اور دبستان کراچی اور لاہور کے شعرا میں جوش ؔ ملیح آبادی نے مرثیہ میں سلام کی روایت کو بڑھاوا دیا۔

دبستان لاہور کے شعرا میں سہیلؔ بنارسی ، قیصر بارہوی ، اور وحید الحسن ہاشمی جیسے لوگوں نے مختصر مرثیہ کی طرح ڈالی ۔ ایک وقت تھا لوگ ۲۵۰ یا ۳۰۰ بند کا مرثیہ جم کر سنتے تھے مگر اس عہدے جدید میں لوگوں کو اتنی فرصت بھی نہیں کہ ۴۰ یا ۵۰ بند کا مرثیہ بھی سن سکیں۔آہستہ آہستہ مرثیہ کی صنف زوال پزید ہورہی ہے ۔پہلے وقتوں میں کوئی بھی اسٹیج ایسا نہیں ہوتا تھا جس پر ذکر حسینؑ ہو پر مرثیہ نہ ہو مگر آہستہ آہستہ یہ صنف مخصوص مجالس ،خاص نشستوں ،اور ذاتی وذیلی جگہوں تک محدود ہو کر رہ گئی اور اب اس کی جگہ نوحہ نے زیادہ ترقی کی اور مرثیہ کو پیچھے چھوڑ دیا ۔یہ صنف آج کے شاعر سے یہ تقا ضا کرتی ہے کہ اس کو اس کا عروج لوٹا جائے ۔پاکستان میں یہ کام سرکاری سطح پر تو شاید اب بھی جاری ہے ۔

اس ہفتے پاکستان کے صوبہ پنجاب میں موجود فیصل آباد کی جی سی یونی ورسٹی نے ایک پی ایچ ڈی اسکالرشہزادہ منتظر مہدی جو کہ پیشہ کے لحاظ سے ایڈووکیٹ ہیں کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری سے نوازا جس کے مقالہ کا موضوع تھا’’پاکستان میں موضوعاتی مرثیہ کا ارتقا‘‘۔ اس مقالہ میں شہزادہ منتظر مہدی نے باسٹھ شعرا کو اپنے مقالہ کا حصہ بنایا جنہوں نے موضوعاتی مرثیہ کو فروغ دیا ہے ان شعرا کے مختصر تعارف کے بعد ان کے ۱۲۳ موضوعاتی مرثیوں پر بحث کی ہے اور بنیادی مآخذ میں ۴۹ کتب جب کہ ثانوی مآخذ میں ۶۹ کتب کے ساتھ ۴ لغات ۸ رسائل اور تین ویب سائٹس جن میں ای مرثیہ خاص طور پر قابل ذکر ہے کو بطور حوالہ پیش کیا ہے۔

مرثیہ جیسی صنف جو کہ تنزلی کا شکار ہے اس میں نئی روح پھونکنے اور جدید خطوط پر استوار کرنے کی منتظر مہدی کی یہ کوشش کابل ستائش ہے جس کو پاکستان کے ادبی حلقوں میں بھی سرہا گیا ہے ۔میرا ذاتی خیال ہے کہ ایسی مزید کوششوں کی مرثیہ جیسی صنف کو ضرورت ہے ۔میں عشاق مرثیہ اور ادبی برادری کے ساتھ ساتھ عالمی اخبار لندن کی طرف سے شہزادہ منتظر مہدی کو اس خدمت پر شاباش اور مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

مدیر اعلیٰ عالمی اخبار

صفدر ہمدانی

 

SHARE

LEAVE A REPLY