بِسْمِ اللّٰهِ الرحمن الرحيم
وَ قُلۡ رَّبِّ اَدۡخِلۡنِیۡ مُدۡخَلَ صِدۡقٍ وَّ اَخۡرِجۡنِیۡ مُخۡرَجَ صِدۡقٍ وَّ اجۡعَلۡ لِّیۡ مِنۡ لَّدُنۡکَ سُلۡطٰنًا نَّصِیۡرًا
اور دعا کیا کریں کہ اے میرے پروردگار مجھے جہاں لے جا اچھی طرح لے جا اور جہاں سے نکال اچھی طرح نکال اور بنا اپنے پاس سےمیرے لئے سلطان النصیرا(ہمیشہ اور ہر جگہ مدد کرنے والا مددگار)
بنى اسرائيل اية-80
آج نصیر بھائ کےسوئم کی مجلس نے جہاں لفظ و معنی کے بے شمار در وا کردیے وہیں قران پاک کی آیت
“ھل جزا الاحسان الا الاحسان”
کی عملی تصویر بھی دیکھ لی ۔بزرگوں سے سنا تھا اور جب علامہ رشید ترابی صاحب پر مقالہ لکھ رہی تھی مختلف علم و ادب کے جید افراد کی گفتگو ریکارڈ کی تو جناب کی اسں مجلس کا بہت ذکر سنا بلکہ دھوم جو مصطفی زیدی مرحوم کے چہلم پر پڑھی گئ تھی۔گوکہ اس مجلس کی ریکارڈنگ نہیں مل سکی لیکن وہ مجلس ایک ادبی شہ پارہ قرار دی تمام اہل علم ودانش نے،
آج انہی کے فرزندِ رشید، جید شاعر نصیر ترابی سوئم و چہلم کی مشترکہ مجلس میں ڈاکٹر ماجد رضا عابدی نے آیات قرانی کے ساتھ گویا لفظ و معنی کی تہیں کھولتے ہوئے ایک سماں باندھ دیا اسم نصیر کو لے کر معنوی صفات کو بیان کرتے ہوئے نصرت کے اور اعانت کے مفہوم کو سمجھاتے ہوئے سلطان نصیر تک حاضرین اجتماعی شعور کو لے کر گیے اور غدیر میں جا کھڑا کیا گویا یوں محسوس ہوا کہ ایڑیوں کے بل بلند ہوکر ہم بھی وہ منظر آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور من کنت و کی آواز دل دھڑکن سے آرہی ہے۔جذبہ ولا نے آنکھوں کے سمندر میں طغیانی برپا کی، بلاشبہ گریہ میں نصیر بھائ کی فرقت کے گریے کے ساتھ گریہ عشق علی حاوی تھا اور اس حد تک حاوی تھا کہ وہیں اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ نصیر بھائ کے بابا کا جگمگاتا چہرہ بار بار چشم ِ تخیل میں ابھرا گویا داد دے ہوں واہ ماجد رضا عابدی حق ادا کردیا ۔۔۔
اور تخیل کیا۔۔۔۔وہ تو وہیں محو خرام ہیں حسینیہ سجادیہ ہی تو آخری مسکن ہے آپ کے بابا کا
آج نصیر بھائ آپ کی اس معنی خیزمسکراہٹ کا مفہوم سمجھ میں آیا جو میری پہلی کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے آپ کے لبوں پہ تھی کہ غزل میں کربلا کا رنگ زیادہ ہے ۔۔۔
پھر خود ہی جواب دے لیا تھا”بی بی تمہاری مجبوری ہے”
سو مجبوری تو آپ کی بھی تھی نصیر بھائ دیکھیے وہ تو قرض رکھتے ہی نہیں۔آج نصیر سے سلطان نصیر تک کے سفر نے معرفت کے کتنے ہی در بابصیرت حاضرین
پر وا کردیے ۔خود آپ کو بھی اپنی زندگی میں اپنی یہ معرفت نہیں ہوئ ہوگی۔ولی دکنی سے لے کر نصیر تک ایک ایک شاہکار شعر اور ہر ہر شعر پر نت نئے مفہوم، کب فضائل تمام ہوئے، گریز آیا اور مقتل شروع ہوا بس ہوش میں آئے تو زیارت ِ امام حسین ع لبوں پر جاری تھی ادھر آپ بھی سلطانِ نصیر کے قدموں میں اپنے بابا کے ہمراہ اس مجلس پر عش عش کراٹھے ہوں گے۔
وصیت آپ کی بھی انوکھی تھی نہ وقت تھا نہ موقع کہ استفسار کیاجائے کہ سوئم اور چہلم کی مجلس ایک ساتھ ہی کی جائے ۔
سو مصائب شہزادہ علی اکبر سے لبریز آخری بند جاری تھے جب میں پہنچی اوراس کے بعد مرزا دبیرکا قیامت خیز مرثیہ جو چہلم امام حسین ع سے منسوب ہے جب حیدرآباد دکن کی مخصوص طرز کے ساتھ پڑھا گیا تو قیامت کی رقت طاری ہوئ اور میں اپنے بچپن میں سنی گئ رشیدہ عابدی نظامی صاحبہ کےگھر کے عشرے کی مجالس میں پہنچ گئ ۔
ریحان ِ رثا ریحان اعظمی، میثم نقوی۔اسد جہاں اور دیگر نامور شعرا اور سلام گزار، شخصیات نے کلام پیش کیا ۔اسد جہاں کی مخصوص آواز میں چھنو لال دلگیر کے نوحے،
“گھبرائے گی زینب” نے شام ِ،غریباں کا سماں باندھ دیا۔
گھر آچکی ہوں لیکن ابھی تک فرشِ مجلس پہ ہوں۔نصیربھائ۔۔۔پروردگارآپ کے درجات بلند فرمائے اور آپ کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ قرار دے ۔تعزیت اور تسلیت اپنی جگہ لیکن سچ ہے علی والوں کی موت پربھی مودت کی ایسی سج دھج دیکھنے کو ملتی ہےکہ آنسوؤں کی خنکی بھی لو دینے لگتی ہیں اور فرش عزا اہل ولا کی خوشبو سے مہک اٹھتا ہےدل کے اندر سے کہیں استاد سبط جعفر کی آواز آتی ہے،
غسل میت نہ کہنا میرےغسل کو، اجلے ملبوس کو مت کفن نام دو
میں چلا ہوں علی سے ملاقات کو جس کی تھی آرزو وہ گھڑی آگئ
سچ ہے ۔۔۔آپ سج دھج سے جائیے۔آسمان ِ ولایت آپ پر،سایہ۔فگن رہے ۔قبر کی منزل ہو یا حشر کا میدان ریحان اعظمی
بھی تو آج یہی کہہ رہے تھے نا
میں ریحان ہوں لحد میں میرے سامنےعلی ہیں
ہیں غلام اور آقاکوئ درمیان نہیں ہے
جو علم اٹھا ریے ہیں یہ کبھی نہیں کہیں گے
کڑی دھوپ پڑ، رہی ہے کوئ آسماں نہیں ہے
ڈاکٹر ثروت رضوی













