سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ ملک میں یا تو قومی احتساب بیورو (نیب) چلے گا یا معیشت چلے گی، دونوں ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔
آصف علی زرداری نے ان خیالات کا اظہار اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کیا جس میں ان سے پوچھا گیا تھا کہ ملک کی معاشی صورتحال کو کیسے دیکھ رہے ہیں؟
ایک صحافی نے پی پی پی کے شریک چیئرمین سے سوال کیا کہ کیا پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت 5 سال کی مدت پورے کرے گی؟ جس پر آصف علی زرداری نے مسکراتے ہوئے کہا کہ خدانخواستہ۔
ان سے صحافی نے مزید پوچھا کہ مولانا فضل الرحمٰن کی تحریک میں شامل ہوں گے؟ جس پر آصف علی زرداری نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا کہ انشااللہ۔
ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ حمایت کرتے ہیں کہ نواز شریف باہر جائیں؟ جس پر آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ اللہ سب کو صحت دے، ان کو اگر ضرورت ہے تو چلے جائیں اور وہ کہاں جائیں گے؟
اس سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ نے منی لانڈرنگ کیس میں آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے انہیں عبوری ضمانت میں 15 مئی تک کی توسیع دے دی۔
ساتھ ہی عدالت نے نیب سے تحریری جواب طلب کیا کہ آصف علی زرداری کے خلاف کتنی انکوائری چل رہی ہیں؟
دوران سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ کیا کسی انکوائری میں وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے؟ جس پر پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ پارک لین انکوائری میں آصف زرداری کے وارنٹ گرفتاری چیئرمین نیب نے جاری کئے۔
اس سے قبل 10 اپریل 2019 کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے جعلی بینک اکاونٹس کیس میں سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کی عبوری ضمانت میں 29 اپریل تک توسیع کی تھی













