ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کالعدم جیش محمد کے قائد مسعود اظہر پر سلامتی کونسل کی عائد کردہ پابندیوں کی تصدیق کردی۔
ایک بیان میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ اقوام متحدہ کی پابندی کمیٹی نے مولانا مسعود اظہر کو پاکستان اور چین کی جانب سے اعتراض ختم کیے جانے کے بعد پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا۔
انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کی کمیٹی نے مسعود اظہر پر پابندی کو پلوامہ حملے اور کشمیری حق خودارادیت سے منسلک کرنے کی تجویز مسترد کردی۔
ترجمان کے مطابق پاکستان اور چین کو مولانا مسعود اظہر کو مقبوضہ کشمیر کی صورت حال کے ساتھ جوڑنے پر اعتراض تھا، جسے تسلیم کیا گیا اور مسعود اظہر پر عالمی پابندیاں صرف جیش محمد سے تعلق کی بنیاد پر لگائی گئی ہیں۔
ترجمان کے مطابق پاکستان نے ہمیشہ کمیٹی کے تمام تکنیکی معاملات کا احترام کیا ہے، پاکستان نے کمیٹی کے سیاسی استعمال کی مخالفت کی ہے اور کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو دہشت گردی سے جوڑنے کی بھارتی کوشش کی مخالفت کی۔
ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ پاکستان اس سے قبل چین کے تعاون سے چار مرتبہ بھارتی کوششیں ناکام بنا چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ کشمیر کی جدوجہد آزادی سے مسعود اظہر کا تعلق ختم کرانا پاکستان کی کامیابی اور بھارتی کی ناکامی ہے












