وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے نواز شریف کی ضمانت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیماری یا عدالت سے ضمانت لینا تو بہانہ ہے، اصل مقصد تو لندن جانا ہے۔
اسلام آباد میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں عدالتیں آزاد ہیں، نواز شریف کو علاج کے لیے عدالت نے 6 ہفتوں کا ریلیف دیا لیکن اگر اس دوران وہ سیاسی مقاصد میں لگے رہے اور صحت پر توجہ نہیں دی تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیماری یا عدالت سے ضمانت لینا بہانہ ہے اصل نشانہ لندن جانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شریف برادران کو سوچنا چاہیے کہ جو عدالت کو نہیں راضی کرسکے وہ عوام کو کیسے راضی کریں گے کیونکہ عدالتیں حقائق پر چلتی ہیں اور جو حقائق سامنے آرہے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جھوٹے پروپیگینڈے کے ذریعے عوام کو ورغلانے کا سلسلہ دم توڑ چکا ہے اور عوام اس بیانیے کے ساتھ نہیں ہیں۔
فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ اب بھی وقت ہے کہ اپوزیشن عوامی مفاد میں آگے بڑھے، ہم نے پارلیمنٹ کو چلانا ہے، ادارے اپنا کام کرتے ہوئے فیصلے کریں جبکہ حکومت اور اپوزیشن عوام کو ریلیف دینے کے لیے مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لاپتہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف لندن میں سیر و تفریح کرتے نظر آتے ہیں لیکن جیسے ہی نیب کی بات آتی ہے تو بیماری کا چکر چل پڑتا ہے۔
اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پاکستان کو بدلنے کی بات کی ہے اور اس کے لیے مثبت قدم اٹھانا شروع کردیے ہیں۔
ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا کہ صحت اس ملک میں بڑا مسئلہ ہے، وزیر اعظم عمران خان نے ادویات کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹس لیا تھا، جس پر انہوں نے ہدایت کی ہے کہ ادویات کی قیمتیں کم کی جائیں۔
اس موقع پر معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ میرے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ مجھے ایسے لیڈر کے وقت میں کام کا موقع ملا جس کا وژن بہت واضح ہے کہ کس طرح عام فرد کو سہولت پہنچانی ہے۔
ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ ہم نے پاکستان کے شعبہ صحت میں انقلاب برپا کرنا ہے، صرف چھوٹی اصلاحات نہیں بلکہ ہم نے اس میں تبدیلی لانی ہے، ہم نے شعبہ صحت میں ایسا نظام رائج کرنا ہے جس کی بنیاد بلاتفریق صحت کی فراہمی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ریاست کی ذمہ داری عوام کی بنیادی ضرورت کی دیکھ بھال کرنا ہے، شعبہ صحت میں یہ ذمہ داری ہمارے اوپر ہے، بلاتفریق صحت کی سہولیات کے لیے بنیادی صحت پر توجہ دینی ہوگی۔












