جڑواں ایک ہی حمل سے پیدا ہونے والی اولاد ہوتے ہیں۔ عام طور پر ایسے دو افراد کو کہا جاتا ہے جو ایک ہی دن پیدا ہوئے ہوں۔ ایسے افراد کی شکلیں بھی عموماً ملتی جلتی ہوتی ہیں۔ دو اکٹھے ہوئے شہروں کو بھی جڑواں کہا جاتا ہے جیسے راولپنڈی اسلام آباد۔
جڑواں بچے دو قسم کے ہوتے ہیں – یکساں اور فرٹرنل – جو بچے ایک جیسے ہوتے ہیں ان میں فرٹیلائیزیشن کے بعد بیضہ جب تقسیم ہونے لگتا ہے تو وہ بجائے ایک ہی جگہ اکٹھا رہنے کے دوالگ الگ خلیے بن جاتے ہیں جو دو مکمل بچوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں – ایسے بچے ہمیشہ ایک ہی جنس کے ہوتے ہیں اور ہم شکل ہوتے ہیں – فرٹرنل جڑواں کی صورت میں ماں کی اووری سے دو بیضے خارج ہوتے ہیں جو الگ الگ سپرم سے فرٹیلائیز ہوتے ہیں اور دو بچے بنتے ہیں جو ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں – ان کی جنس مختلف ہو سکتی ہے اور ان کی شکلیں بھی مختلف ہوتی ہیں – ایسے کیسز بھی موجود ہیں جن میں ان جڑواں بچوں کے باپ بھی مختلف تھے لیکن یہ بہت نایاب کیسز میں ہوتا ہے۔
امریکا میں جڑواں بچوں کی شرحِ پیدائش 1000 میں سے تقریباً 33 پیدائشیں جڑواں افراد کی ہوتی ہے
دنیا میں نائیجیرین قصبہ اگبو اوراایسا مقام ہے جسے جڑواں بچوں کا دارالحکومت کہا جاتا ہے
نائیجیریا میں ایک گاؤں ایسا ہے جہاں دنیا بھر میں سب سے زیادہ جڑواں بچوں کی تعداد موجود ہے، مقامی لوگ اس کی وجہ بھنڈی کے پتوں کو گردانتے ہیں۔
جرمن نشریاتی ادارے ڈی ڈبلیو کی رپورٹ کے مطابق اگبو اورا گاؤں میں واقع سکولوں میں بھی ہم شکل بچے تعلیم کے حصول کیلئے آتے ہیں۔ اگبو اورا میں واقع ایک سکول کے طالب علم کیہندے اوئیڈیپو کا کہنا تھا کہ یہ جڑواں بچوں کا دارالحکومت ہے، ہمارے گاؤں میں جڑواں بچوں کی تعداد بہت زیادہ ہے جس کی وجہ بہت زیادہ بھنڈی کے پتے کھانا ہے، اس کے علاوہ ہم لوگ کھانے میں کھجور والا تیل، پھلیاں اور کیلے استعمال کرتے ہیں۔
طالب علم کا کہنا تھا کہ اگر یہاں آنے والے سیاح بھی بھنڈی کے پتوں کا کھانے میں بہت زیادہ استعمال کریں تو وہ بھی ہم شکل بچوں کے والدین بن سکتے ہیں۔ قصبے میں تعینات گائنا کولوجسٹ کا کہنا تھا کہ کسی بھی قسم کی سبزی زیادہ کھانے سے جڑواں بچوں کی کثرت کی بات تاحال سائنسی اعتبار سے ثابت نہیں ہوسکی۔
ایکوجومی اولارینو اجو کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ خاندانی ورثہ ہوسکتا ہے کیوں کہ یہاں کہ افراد خاندان میں ہی شادیاں کرتے ہیں جس کے باعث امکان ہے کہ خاندانی جینز اس میں مؤثر کردار ادا کر رہے ہوں۔
ڈاکٹر نگہت نسیم














بہت معلوماتی اور انوکھا موضع ہے