برطانیہ کے دارلحکومت لندن میں فلسطین نواز حامیوں نے غزہ میں جنگ بندی کی اپیل کے لیے مسلسل ۵ویں ہفت بڑی ریلی نکالی۔پولیس نےیہ تعداد ستر ہزار لیکن مختلف ذرائع نے تین لاکھ تک بتائی ہے
ریلی کے مطالبات سے اتفاق نہ کرنے والے حلقوں کے احتجاج کے پیش نظر اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔ اسٹاپ دی وار کولیشن کے زیرِ اہتمام “نیشنل مارچ فار فلسطین” میں یومِ جنگ بندی کے موقع پر برطانیہ کی جنگ کے ہلاک شدگان کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی جس کے بعد مارچ 1100 جی ایم ٹی پر مرکزی لندن میں دی سینوٹاف جنگی یادگار سے روانہ ہوا۔
اسرائیل کے مطابق مظاہرین کے ایک بڑے ہجوم نے سیاہ، سرخ، سفید اور سبز فلسطینی پرچم لہرائے اور “غزہ پر بمباری بند کرو” کے فلک شگاف نعروں والے پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے۔ اس سے صرف ایک ماہ پہلے حماس کے حملے میں 1,200 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے اور 240 افراد کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔حماس کے زیرِ انتظام ساحلی علاقے میں وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیل کی جوابی فوجی مہم کے پانچ ہفتوں کے نتیجے میں غزہ میں 11,000 سے کچھ زیادہ افراد شہید ہو چکے ہیں۔جیسے ہی مارچ شروع ہوا تو مظاہرین نے “آزاد فلسطین” اور “اب جنگ بندی” کے نعرے لگائے۔
سینٹرل لندن میں ہفتے کے روز فلسطین کی حمایت میں ہونے والے مارچ کے بعد 6 افراد کو چارج کر دیا گیا۔ میٹروپولیٹن پولیس نے مجموعی طور پر 29 افراد کو پبلک آرڈر، نسلی بنیاد پر آفنسز اور پولیس افسر پر حملہ کرنے کے شبہ میں گرفتار کیا تھا۔ پولیس فورس کا کہنا ہے کہ افسران پر فائر ورک پھینکا گیا تھا اور حماس کی حمایت کیلئے پمفلٹ فروخت کئے گئے۔ کمانڈر کیرن فائنڈلے کا کہنا ہے کہ میٹروپولیٹن پولیس نفرت کی وجہ سے ہونے والے کسی بھی جرم کے حوالے سے ہر موقع پر موثر کارروائی کرے گی۔ مارچ میں شریک لوگوں کی اکثریت نے پرامن احتجاج کیا۔ مختلف گروپس الگ الگ تھے، جن میں سے کچھ کا رویہ مکمل طور پر ناقابل قبول تھا۔ ہفتے کو اس احتجاجی مارچ کیلئے 1,300 سے زائد پولیس آفیسرز ڈیوٹی انجام دے رہے تھے اور جہاں انہوں نے مزید خلل کو روکنے کیلئے ضروری مداخلت کی۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم نے ان پولیس آفیسرز کے خلاف تشدد میں اضافہ دیکھا اور چار پولیس اہلکار اس وقت زخمی ہوئے جب ان کی جانب فائر ورک پھینکا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس صورت حال کے باوجود تمام پولیس آفیسرز نے بہادری کے ساتھ اپنے فرائض سر انجام دیئے۔ میٹ کائونٹر ٹیررازم کمانڈ نے کہا کہ ہم کسی بھی تعطل کو روکنے کیلئے اپنے رسپانس میں تیز تر رہیں گے اور مظاہروں میں اٹھائے جانے والے کسی بھی ایسے پلے کارڈ پر موثر کارروائی کریں گے، جو اشتعال انگیز ہو اور اس سے نسلی منافرت کو ہوا ملتی ہو یا اس سے کسی کالعدم تنظیم کی حمایت کرنے کا ارادہ دکھائی دیتا ہو۔ انہوں نے کہا کہ یہ آفنسز ہیں اور ایسے کسی بھی بینر یا میٹریل کا میٹ کاؤنٹر ٹیررازم کمانڈ جائزہ لے گی۔













