ویٹیکن سٹی: پہلے روزکیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا کا انتخاب نہ ہوسکا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بدھ کو کیتھولک مسیحیوں کے نئے روحانی پیشوا کیلئے کانکلیو شروع ہوا جس میں تقریباً 70 ممالک سے کارڈینلز شریک ہیں۔
تاہم کچھ گھنٹوں بعد سسٹین چیپل کی چمنی سے کالا دھواں نکلتا دکھائی دیا، جو اس بات کی علامت ہے کہ کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا کے انتخاب کے لیے کارڈینلز کی پہلی ووٹنگ ناکام رہی۔
سینٹ پیٹرز اسکوائر میں ہزاروں افراد جمع تھے تاکہ دھوئیں کے اشارے کا انتظار کیا جا سکے، جو 133 کارڈینلز کے بند کمرے میں داخل ہونے کے تقریباً 3 گھنٹے اور 15 منٹ بعد نمودار ہوا۔
اب کارڈینلز سانتا مارٹا گیسٹ ہاؤس واپس جائیں گے، جہاں وہ انتخاب کے دوران مقیم ہیں اور جمعرات کو دوبارہ ووٹنگ کا آغاز کریں گے۔
نئے پوپ کے انتخاب کا طریقہ کار کیا ہے؟
پوپ کے انتخاب کیلئے جو لفظ کانکلیو استعمال کیا جاتا ہے اس کا لفظی مطلب تو چابی کے ساتھ تالہ لگانا ہوتا ہے تاہم درحقیقت کانکلیو وہ موقع ہوتا ہے جب کارڈینلز ویٹی کن کی ایک تالا لگی عمارت میں مقیم ہو کر پوپ کا انتخاب کرتے ہیں۔
یہ انتخاب سسٹین چیپل میں ہوتا ہے جہاں ہر کارڈینل انتخاب کے عمل کو خفیہ رکھنے کا حلف اٹھاتا ہے اور خفیہ بیلٹ کے ذریعے ووٹ دیتا ہے۔
80 سال سے کم عمر کے کارڈینلز سسٹین چیپل میں خفیہ ووٹنگ کرتے ہیں، جب تک کہ اُن میں سے کوئی دو تہائی اکثریت یعنی 89 ووٹ حاصل نہ کر لے۔
پوپ کے انتخاب کے لیے دو تہائی اکثریت حاصل ہونے تک ووٹنگ جاری رہتی ہے، ہر ووٹ کے بعد بیلٹ پیپرز کو خاص کیمیکلز کے ساتھ جلادیا جاتا جس سے سیاہ یا سفید دھواں نکلتا ہے جو سینٹ پیٹرز اسکوائر سے دیکھا جاسکتا ہے۔
چمنی سے نکلنے والا کالا دھواں اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ پوپ کا انتخاب نہیں ہوسکا جبکہ سفید دھواں نئے پوپ کے انتخاب کا اشارہ ہوتا ہے۔
بدھ کو سسٹین چیپل کی چمنی سے کالا دھواں نکلا جس کا مطلب ہے کہ پہلے روز کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا کا انتخاب نہ ہوسکا۔
یاد رہے کہ گزشتہ دنوں کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس 88 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
کیتھولک مسیحیوں کے نئے روحانی پیشوا کیلئے کانکلیو 7 مئی کو شروع ہوگا۔
کراچی سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے کارڈینل کوٹس بھی اس کانکلیو میں شرکت کیلئے روم پہنچ گئے ہیں۔کانکلیو کے آغاز تک ان کی میزبانی پاکستان میں طویل عرصہ تک خدمات انجام دینے والے فادر رابرٹ مککولک کریں گے۔
پوپ کے انتخاب کیلئے جو لفظ کانکلیو استعمال کیا جاتا ہے اس کا لفظی مطلب تو چابی کے ساتھ تالہ لگانا ہوتا ہے تاہم درحقیقت کانکلیو وہ موقع ہوتا ہے جب کارڈینلز ویٹی کن کی ایک تالا لگی عمارت میں مقیم ہو کر پوپ کا انتخاب کرتے ہیں۔
اس عمارت میں رہائش کے کمرے اور کھانے کی جگہ ہوتی ہے تاہم تالہ لگنے کے سبب کسی اور شخص کو آنے جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔
الیکٹرانک بلاک کیے جانے کی وجہ سے کارڈینلز کی باتیں باہر سنی بھی نہیں جاسکتیں۔عام طور پر کانکلیو 2 سے 4 روز تک جاری رہنے کا امکان ہوتا ہے تاہم روایت کے تحت یہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ کارڈینلز 266ویں پوپ کا انتخاب نہ کرلیں۔
جہاں تک کانکلیو کا تعلق ہے، یہ دو کتابوں کے طابع ہوتا ہے، ایک اصولوں یا آئین کی کتاب اور دوسری دعائیہ کتاب۔ آئین کی کتاب سینٹ جان پال دوم نے 1996 میں جاری کی تھی جس میں پوپ بینیڈکٹ نے سن2007 اور پھر سن 2013 میں ترمیم کی تھی۔
دعائیہ کتاب کی منظوری سینٹ پال دوم نے 1998میں دی تھی تاہم یہ سن 2005 میں ان کے انتقال کے بعد جاری کی گئی تھی۔تاحال یہ واضح نہیں کہ پوپ فرانسس نے اپنے انتقال سے پہلے اس دعائیہ کتاب میں کوئی تبدیلی کی تھی یا نہیں۔
کانکلیو کی رسومات کا آغاز 7 مئی کو مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بجے سینیٹ پیٹرز بیسلیکا میں اجتماعی دعا سے ہوگا جس میں عوام بھی شریک ہوں گے۔
اصولوں پر مبنی کتاب میں موجود طریقہ کار کے تحت اس اجتماعی دعا کے بعد کارڈینلز سہ پہر کو پالین چیپل میں جمع ہوتے ہیں اور پھر سسٹین چیپل کی جانب بڑھتے ہیں۔
ان کارڈینلز کو حلف لینا ہوتا ہے کہ وہ پوری دیانت اور احتیاط کے ساتھ ان اصولوں پر چلیں گے جو پوپ کے انتخاب کیلئے طے کردہ ہیں اور یہ بھی کہ الیکشن سے متعلق تمام امور کو خفیہ رکھا جائے گا۔
تمام کارڈینلز جب حلف اٹھالیں گے تو ویٹی کن میں مذہبی تقریبات کے سربراہ آرچ بشپ ڈیگو راویللی کہیں گے کہ وہ تمام کارڈینلز جو پوپ کے الیکشن میں براہ راست شریک نہیں، وہ سسٹین چیپل سے باہر چلے جائیں۔
اب کارڈینلز یہ فیصلہ کریں گے کہ آیا پہلی شام یعنی 7 مئی ہی کو پہلی ووٹنگ ہوگی یا نہیں۔روایت یہی ہےکہ پہلی شام ہی ووٹنگ کی جاتی ہے جس کے بعد بیلٹ پیپر کو ایسے کیمیکل ڈال کر جلا دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے سیاہ دھواں سسٹین چیپل کی چمنی سے اٹھتا دکھائی ہوتا ہے۔
پہلی شام کے بعد ہر روز 2 بیلٹ صبح اور 2،2 پہر میں اس دن تک کیے جاسکتے ہیں جب تک کہ کسی ایک امیدوار کو دو تہائی اکثریت حاصل نہ ہوجائے۔ اگر پوپ کا انتخاب چوتھے روز بھی نہ ہوسکے تو کارڈینلز ایک طویل دعائیہ تقریب کیلئے وقفہ لیتے ہیں۔
جس امیدوار کو دو تہائی اکثریت مل جائے یعنی ایک سو تینتیس میں سے نواسی ووٹ مل جائیں تو سینئر ترین کارڈینل پیترو پارولین ان سے پوچھیں گے کہ آیا آپ خود کو پوپ کے منصب پر فائز کیا جانا قبول کرتے ہیں۔
نومنتخب پوپ اگر اپنا انتخاب قبول کرلیں تو بیلٹ پیپر اور کارڈینلز کے نوٹس ایک ایسا کیمیکل ملا کر جلا دیے جاتے ہیں جس سے سفید دھواں سسٹین چیپل کی چمنی سے نمودار ہوتا ہے۔ یہ دنیا بھر کیلئے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ نئے پوپ کو منتخب کرلیا گیا ہے۔
آخر میں سینیئر کارڈینل ڈیکن ڈومینک ممبرٹی سینٹ پیٹرز بیسیلیکا کی مرکزی بالکونی پر جائیں گے اور اعلان کریں گے کہ پوپ موجود ہیں، ان کے الفاظ ہوں گے ہیبیمس پاپم۔
پوپ فرانسس کی تدفین کے بعد سے نئے پوپ کے انتخاب تک کا عرصہ سید وکانت یعنی خالی کرسی کہلاتا ہے۔ اس دوران سینٹ پیٹر سے منسوب وہ مسند خالی رہتی ہے جس پر پاپائے روم سینیٹ پیٹر کے جانشین کے طورپر بیٹھتے ہیں۔
سید وکانت کی علامت دو چابیاں اور ایک چھتری ہوتی ہے۔ جس کے بارے میں کیتھولک میسحیوں کاماننا ہے کہ اتھارٹی کے طورپر یہ حضرت عیسیٰ نے سینیٹ پیٹر کو دی تھیں۔ جب نئے پوپ کا انتخاب ہوگا توان چابیوں کی جگہ نئے پوپ کے علامتی سائن کو دے دی جائے گی۔
یاد رہے کہ گزشتہ دنوں کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس 88 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔
………………………………………………………
کانکلیو وہ موقع ہوتا ہے جب ویٹی کن کی ایک عمارت میں کارڈینلز جمع ہوتے ہیں۔
اس عمارت میں رہنے کے کمرے اور کھانے کی جگہ ہوتی ہے تاہم تالہ لگائے جانے کے سبب کسی اور شخص کو آنے جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔
الیکٹرانک بلاک کے باعث کارڈینلز کی باتیں باہر سنی بھی نہیں جا سکتیں،کانکلیو اس وقت تک جاری رہ سکتا ہے جب تک کارڈینلز نئے پوپ کا انتخاب نہیں کر لیتے۔
سسٹین چیپل کی چمنی سے سفید دھواں جاری ہو نے کا مطلب ہوگا کہ نئے پوپ کا انتخاب کرلیا گیا ہے۔











