میں نباہت علی کو ایک طویل عرصے سے جانتا ہوں بلکہ اسوقت سے جانتا ہوں جب وہ نباہت شیریں تھی۔ تلخ تو وہ خیر اب بھی نہیں لیکن زیرک اور محتاط زیادہ ہو چکی ہے شاید وقت کی وجہ سے۔ مجھے فخر ہے کہ جب میں ریڈیو پاکستان کے تربیتی ادارے پاکستان براڈکاسٹنگ اکیڈمی میں انسٹرکٹر کے طور پر نئے آنے والے ریڈیو پروڈیوسروں کو پڑھا رہا تھا تو نباہت میرے اولیں شاگردوں میں سے تھی اور میں شروع سے ہی اسکی اہلیت صلاحیت کا معترف رہا ہوں۔
نباہت کی بڑی بہن بھی ہماری دوست ہیں اور ہمارے بعد شعبہ صحافت جامع پنجاب میں آئیں اور نباہت کے بہنوئی ناصر زیدی معروف شاعر ہمارے پرانے دوست بھی ہیں جبکہ نباہت کے شوہر نامدار احمد علی سید ایک مہذب دوستدار اور ٹی وی کے پروفیشنل ہیں
میں نے ذاتی طور پر نباہت سے درخواست کی ہے کہ وہ عالمی اخبار کے قلم کاروں کے قافلے میں شامل ہوں اور اپنی تحرہروں سے ہمارے قارئین کے دل و دماغ کو فکری رہنمائی دیں۔ مجھے خوشی ہے کہ انہوں نے میری درخواست قبول کی
مزید شکریہ اس بات کا بھی کہ میں نے انہیں دنیا کا مشکل ترین کام کہا یعنی اپنا تعارف لکھنا۔ نباہت نے بہت محتاط طریقے سے لیکن بہت ایمانداری سے اپنا مختصر تعارف ارسال کیا ہے جو آپ قارئین کی توجہ کے لیئے ہے
اگلے چند روز سے قارئین نباہت علی کے قلمی شاہکار پڑھ سکیں گے
شکریہ نباہت علی
صفدر ھمدانی
مدیر اعلیٰ
عالمی اخبار
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نباہت علی کا مختصر تعارف
شکیبؔ اپنے تعارف کے لیے یہ بات کافی ہے
ہم اس سے بچ کے چلتے ہیں جو رستہ عام ہو جائے
لکھنے کو تو تعارف میں اتنا ہی لکھنا کافی ہے لیکن میں روایت شکن کے ساتھ ساتھ روایت پسند بھی ہوں گو کہ دونوں کو ساتھ لیکر چلنا آسان نہیں لیکن خوش قسمتی سے ابھی تک تو دونوں کو نبھا رہی ہوں آگے کیا ہوتا ہے نہیں جانتی۔سو روایتی تعارف یہ ہے کہ دوسری بہت سی لڑکیوں کی طرح گریجویشن کیا ۔۔۔لیکن روایت توڑتے ہوئے اپنی پسند کے مضامین پڑھے اور ماسٹرز کے لئے بھی صحافت کا انتخاب اپنی مرضی سے کیا۔۔۔روایتی نوکری کرنا نہیں چاہتی تھی اس لیئے ریڈیو کا انتخاب کیا اور پورے روایتی انداز میں نوکری کو نبھایا۔۔۔۔وقت اڑا کر ٹیمز کے کنارے بسے شہزادوں اور شہزادیوں کے اس شہر میں لے آیا جسے لندن کہتے ہیں روایت نباھتے ہوئے۔. ملازمت کے تانے بانے وہیں سے جوڑنے چاہے جہا ں سے ٹوٹے تھےریڈیو پاکستان سے بی بی سی لندن۔۔۔لیکن پھر غیر روایتی طبیعت نے اکسایا کہ یہاں آکر بھی یہ سب کچھ کرنا ہے تو وہاں کیا برا تھا سو شعوری کوشش کر کے اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ وابستہ کر لیا جو میرے خیال میں اس دنیا کی واحد خوبصورتی ہیں ہوش وخرد سے بیگانہ یہ مخصوص افراد میرے لئے زندگی کا جواز ہیں
صرف زندہ رہنے کو زندگی نہیں کہتے
کچھ غم محبت ہو کچھ غم جہاں یارو













