روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد وزیراعظم عمران خان روپے کی قدر میں کمی پر قابو پانے کے لیے کمیٹی قائم کردی۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس میں وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی گئی۔
اجلاس میں ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان(ای سی اے پی) کے اراکین نے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی کی وجوہات سے متعلق وزیراعظم کو آگاہ کیا۔
روپے کی قدر میں کمی پر قابو پانے کے لیے تشکیل دی گئی کمیٹی میں اسٹیٹ آف پاکستان (ایس بی پی) کے گورنر بھی شامل ہیں۔
کمیٹی فیصلہ کرے گی کہ ای سی اے پی کی تجاویز کے مطابق بیرون ملک سفر کرنے والے پاکستانی کو 10 ہزار ڈالر لے جانے کی اجازت کو کم کرکے 3 ہزار ڈالر تک محدود کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔
اجلاس کے بعد ڈان سے بات کرتے ہوئے ای سی اے پی صدر ملک کہا کہ انہوں نے اپنے وفد کے ہمراہ وزیراعظم سے بات چیت کی اور حکومت کو روپے کی قدر میں کمی پر قابو پانے کے لیے تجاویز پیش کیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے ان کی تجاویز پر غور کیا اور یقین دہانی کروائی کہ ان کی پیش کردہ تجاویز کی روشنی میں کارروائی کی جائے گی۔
ملک بوستان نے بتایا کہ وزیراعظم نے کہا تھا کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے پاکستان کو دنیا کے سامنے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔
ای سی اے پی صدر نے بتایا کہ انہوں نے وزیراعظم کو بتایا کہ ملک میں غیرملکی زرمبادلہ کی کمی نہیں لیکن اسے منظم کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے وزیراعظم کو آگاہ کیا کہ گزشتہ 23 برس میں پاکستان سے ایک سو 60 ارب ڈالر باہر بھیجے گئے جبکہ ملک کا مجموعی غیر ملکی گردشی قرضہ ایک سو ارب ڈالر تھا۔
ملک بوستان نے کہا کہ ڈالر کی منتقلی کے اکثر کیسز پشاور اور کوئٹہ سے رپورٹ ہوئے تھے، انہوں نے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کو اس مسئلے کا ذمہ دار قرار دیا۔
ای سی اے پی صدر کا کہنا تھا کہ جب افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا آغاز ہوا اس وقت پڑوسی ملک میں کوئی کمرشل بینک نہیں تھا اس لیے مقامی برآمد کنندگان کو افغانستان سے کرنسی لانے کی اجازت تھی اور انہیں بعدازاں اس رقم کو پاکستان کے بینکوں میں جمع کروانا ہوتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ لیکن وہاں بینک کھلنے کے باوجود مقامی برآمد کنندگان افغانستان سے رقم لاتے ہیں لیکن اسے پاکستان کے بینکوں میں جمع نہیں کرواتے، اس کے بجائے وہ دبئی اور یورپی ممالک کو غیر ملکی زرمبادلہ بھیجتے ہیں۔













