وزیراعظم کا عہدہ سنبھالتے ہی اینڈی برنہم کا بجلی بلوں پر وی اے ٹی ختم کرنے کا اعلان

0
755

وزیرِاعظم کا عہدہ سنبھالنے کے اگلے روز ہی اینڈی برنہم نے یکم اکتوبر سے بجلی کے بلوں پر وی اے ٹی (ویلیو ایڈڈ ٹیکس) ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

برطانوی وزیرِاعظم نے گزشتہ روز ڈاؤننگ اسٹریٹ پر اپنی پہلی تقریر میں وعدہ کیا تھا کہ وہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجاتِ زندگی سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کا اعلان کریں گے۔

اینڈی برنہم نے کہا کہ اس فیصلے سے لوگوں کی جیبوں میں زیادہ رقم بچے گی اور امید بحال ہوگی، توقع ہے کہ اس اقدام سے انرجی ریگولیٹر آف جیم کے پرائس کیپ میں تقریبا 45 پاؤنڈ کی کمی آئے گی۔

اینڈی برنہم کے مطابق وی اے ٹی کی مد میں 850 ملین پاؤنڈ کی کمی کو 1.8 بلین پاؤنڈ کے ڈیجیٹل آئی ڈی منصوبے کو ختم کر کے پورا کیا جائے گا۔

یکم اکتوبر کو وی اے ٹی میں کٹوتی اسی وقت نافذ ہوگی جب نئی انرجی پرائس کیپ کا اطلاق ہوگا، یہ حد ہر تین ماہ بعد مقرر کی جاتی ہے اور اس سے یہ طے ہوتا ہے کہ ایک اوسط گھرانہ بجلی اور گیس کے لیے اوسطاً کتنی رقم ادا کرے گا، اس وقت یہ حد 1,663 پاؤنڈ ہے۔

اوسط بل میں 45 پاؤنڈ کی کمی گزشتہ برس کے بجٹ میں سر کیر اسٹارمر کی جانب سے دی گئی 150 پاؤنڈ کی رعایت کے علاوہ ہوگی، توقع ہے کہ اس فیصلے سے مہنگائی کی شرح میں 0.1فیصد کمی آئے گی۔

ڈاؤننگ اسٹریٹ کے مطابق اخراجاتِ زندگی میں مستقل کمی کے لیے مزید اقدامات کا اعلان آئندہ بجٹ میں کیا جائے گا، جو اس سال موسمِ خزاں میں متوقع ہے۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

برطانیہ کے نومنتخب وزیراعظم اینڈی برنہم نے تمام بالغ شہریوں کے لیے مجوزہ ڈیجیٹل شناختی  منصوبہ ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ان کے دفتر کے مطابق اس منصوبے پر خرچ ہونے والے وسائل اب مہنگائی، اخراجاتِ زندگی میں کمی اور عوامی فلاح پر صرف کیے جائیں گے۔

یہ منصوبہ سابق وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر کے دور میں متعارف کرایا گیا تھا، تاہم عوامی مخالفت اور لاکھوں دستخطوں پر مشتمل درخواست کے بعد اسے لازمی کے بجائے رضاکارانہ بنا دیا گیا تھا۔

دوسری جانب برنہم شمالی سمندر میں تیل اور گیس کی موجودہ ڈرلنگ منصوبوں کو آگے بڑھانے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔

ادھر اپوزیشن جماعت کنزرویٹو پارٹی کی رہنما کیمی بیڈنوک نے ان کی پالیسیوں کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کو ایسے رہنما کی ضرورت ہے جو مشکل فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

,,,,,,,,,,,,,,,,

برطانیہ کے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم نے کہا ہے کہ تعلیمی نظام میں تبدیلیوں سے نوجوان نسل کی مدد کریں گے۔

لندن میں اپنی سرکاری رہائش گاہ ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ آمد کے موقع پر عوام سے خطاب کرتے ہوئے اینڈی برنہم نے مزید کہا کہ آپ سب سے اپنی مدد کی درخواست کرتا ہوں، برطانیہ کو انڈسٹریلائز کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ برطانوی سیاست میں اصلاحات کے لیے کام کریں گے، دنیا کو دکھائیں گے کہ ہم ملک کا استحکام بحال کرسکتے ہیں۔

وزیراعظم اینڈی برنہم نے کہا کہ لوگ اس سیاست سے تنگ آچکے، ہم اسے تبدیل کریں گے، دس سالہ منصوبے کے تحت انڈسٹری کو بحال کریں گے۔

انکا کہنا تھا کہ مہنگائی کو کم کرنے کیلئے فوری اقدامات کریں گے، نئے کونسل گھر بنائیں گے، طلبہ کو ہر قسم کی مدد فراہم کریں گے۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

برطانیہ میں سیاسی قیادت کی ایک اور بڑی تبدیلی کے بعد لیبر پارٹی کے رہنما اینڈی برنہم نے باضابطہ طور پر ملک کے نئے وزیراعظم کا عہدہ سنبھال لیا۔

برطانوی میڈیا کے مطابق وہ گزشتہ 10 برسوں میں برطانیہ کے 7ویں وزیراعظم بن گئے ہیں، شاہ چارلس سوم نے بکنگھم پیلس میں اینڈی برنہم سے ملاقات کے بعد انہیں نئی حکومت بنانے کی دعوت دی جس کے ساتھ ہی اقتدار کی منتقلی کا آئینی عمل مکمل ہوگیا۔

56 سالہ اینڈی برنہم کو گزشتہ ہفتے لیبر پارٹی کا بلا مقابلہ رہنما منتخب کیا گیا تھا جس کے بعد سابق وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اپنا استعفیٰ شاہ چارلس سوم کو پیش کیا۔ برطانوی آئینی روایت کے مطابق حکمران جماعت اپنا رہنما تبدیل کرے تو عام انتخابات کے بغیر بھی نیا رہنما وزیراعظم بن سکتا ہے کیونکہ لیبر پارٹی کو پارلیمنٹ میں واضح اکثریت حاصل ہے۔

پیر کی صبح کیئر اسٹارمر نے ڈاؤننگ اسٹریٹ سے اپنی الوداعی تقریر کی، جس میں انہوں نے اقتصادی ترقی اور خالص امیگریشن میں کمی کو اپنی حکومت کی اہم کامیابیاں قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اینڈی برنہم کو ان کی مکمل حمایت حاصل ہے اور وزیراعظم کا منصب ان کی زندگی کا سب سے بڑا اعزاز رہا۔

اس کے بعد اسٹارمر بکنگھم پیلس پہنچے جہاں انہوں نے شاہ چارلس سوم کو اپنا استعفیٰ پیش کیا۔ ان کے روانہ ہونے کے بعد اینڈی برنہم شاہی محل پہنچے جہاں شاہ چارلس نے انہیں نئی حکومت تشکیل دینے کی باضابطہ دعوت دی۔ برطانیہ میں اس آئینی روایت کو ’کِسنگ ہینڈز‘ کہا جاتا ہے، اگرچہ موجودہ دور میں اس موقع پر حقیقتاً ہاتھ چومنے کی روایت پر عمل نہیں کیا جاتا۔

شاہی ملاقات کے بعد اینڈی برنہم ڈاؤننگ اسٹریٹ پہنچے جہاں انہوں نے وزیراعظم کی حیثیت سے قوم سے اپنا پہلا خطاب کیا اور ملک کے لیے اپنے وژن کا خاکہ پیش کیا۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,

برطانوی لیبر پارٹی کے نئے سربراہ کا اعلان کردیا گیا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق اینڈی برنہم برطانوی لیبر پارٹی کے بلامقابلہ لیڈر منتخب ہوگئے، اینڈی برنہم پیر کو برطانیہ کے نئے وزیر اعظم بن جائیں گے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق سر کیئر اسٹارمر پیر کو بادشاہ چارلس کو اپنا استعفا پیش کریں گے، اینڈی برنہم پیر کو 10 ڈاؤئنگ اسٹریٹ منتقل ہو کر اپنی کابینہ کا اعلان کریں گے۔

اینڈی برنہم نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ برطانیہ کو نئی راہ پر لے کر جائیں گے، سر کیئر اسٹارمر کے پارٹی اور ملک کیلئے ان کی شاندار خدمات پر شکرگزار ہیں۔

انہوں نے کہا لیبر پارٹی اس وقت مکمل طور پر متحد ہے، اتحاد کی طاقت عوام کو دکھائیں گے، پارٹی کی قیادت سنبھالنے اور آگے بڑھنےکےلیے تیار ہوں۔

یاد رہے کہ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے گزشتہ ماہ عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔

ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ پر پریس بریفنگ کے دوران برطانوی وزیراعظم کاکہنا تھا کہ بار بار یہ بتایا گیا ہماری پارٹی کمزورہوگئی اور ختم ہوگئی، میں پارٹی کی خواہش پر پارٹی لیڈر شپ سے مستعفی ہوتا ہوں۔

کیئر اسٹارمر کا کہنا تھا کہ آنے والے وزیراعظم کے ساتھ مکمل تعاون کروں گا، اقتدارکی منظم اور ہموار منتقلی یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کروں گا۔

واضح رہےکہ کیئر اسٹارمر نے 2024 کے عام انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی۔

برطانیہ میں لیبر پارٹی 4 جولائی 2024 کو دوبارہ برسرِاقتدار آئی، لیبر پارٹی نے عام انتخابات میں تاریخی کامیابی حاصل کی، 2024 میں لیبر پارٹی کی کامیابی سے 14 سال سے جاری کنزرویٹو پارٹی کے اقتدار کا خاتمہ ہوا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY