ــــــــــــــــــــــ
امام المتقین سے ایک شخص نے سوال کیا کہ ہمیں تقویٰ کے متعلق بتائیے ۔ ۔ ۔ امام نے دو تین باتیں بیان کر دیں لیکن شخص اصرار کرتا رہا کہ نہیں اور کہیے امام نے کچھ اور بھی مختصراََ تفصیل بیان کرتے ہوئے تقویٰ کی ایک جھلک دکھا دی ۔ ۔ ۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مجمع میں چیخ و پکار بلند ہوئی اور جس نے سوال کیا تھا اس کی ایک الگ قسم کی آہ سُنائی دی اور وہیں اس کی روح پرواز کر گئی ۔ ۔ ۔ جس پر امام نے فرمایا کہ مجھے اسی بات کا ڈر تھا ۔ ۔ ۔
تقویٰ کے اصل حصار کو درک کرنا اور برادشت کرنا آسان نہیں ہے سو میں اختصارََ عام فہم اور سادہ انداز سے چند باتیں عرض کرتا ہوں ۔ ۔ ۔
کسی شے کو سمجھنے کا بہترین طریقہ اس کی ضد سے سمجھنا ہے ، یعنی کہ روشنی کو تاریکی سے سمجھا اور درک کیا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ اگر تاریکی نہ ہوتی تو روشنی کا احساس تک نہ ہوتا ۔ ۔ ۔
تقویٰ کی ضد ” طغویٰ ” ہے ۔ ۔ ۔ قرآن میں ایک لفظ استعمال ہوتا ہے طاغوت ، اس لفظ کا مادہ یہی ” طغویٰ ” ہے ۔ ۔ ۔ سُنی ہوئی بات ہے کہ دریا میں طغیانی آگئی یعنی دریا میں پانی کیلئے جو حدیں مقرر تھیں ، پانی ان حدوں کو پامال کرتے ہوئے باہر نکل آیا ۔ ۔ ۔ سو طغویٰ یعنی حد سے نکلنا ۔ ۔ ۔ اور تقویٰ یعنی حد میں رہنا ۔ ۔ ۔
اب یہ حد کیا ہے ۔ ۔ ۔عقلی اعتبار سے حد یقینََ وہی ہے جو کسی شے کے بنانے والے نے اس شے کیلئے مقرر کی ہو ۔ ۔ ۔ انسان کو خدا نے بنایا ۔ ۔ ۔ انسانی وجود میں جسم ، عقل ، روح ، نفسیات ، جذبات ، تصورات ، احساسات وغیرہ پائے جاتے ہیں ۔ ۔ ۔
صرف جسم کی بات کرتے ہیں ۔ ۔ ۔
لیکن اس سے پہلے ایک لفظ سمجھ لیں وہ ہے ” عبد ” ۔ ۔ ۔ عبد یعنی غلام ، البتہ نہ کام کرنے والا غلام ، بلکہ ایسا غلام جس کا اپنا آپ بھی اپنا نا ہو ۔ ۔ ۔ یعنی کہ انسان خدا کا ایسا عبد ہے جس کا اپنا آپ بھی اس کا اپنا نہیں ہے ، بلکہ خدا کی طرف سے اس کے پاس بحیثیتِ امانت موجود ہے ۔ ۔ ۔ یعنی انسان کا جسم ، عقل ، روح ، دل ، تصورات وغیرہما سب کچھ ہی خدا کی امانت ہیں ۔ ۔ ۔ جبکہ انسان تمام کا تمام خدا کی ملکیت ہے ۔ ۔ ۔
اپنے عبد ہونے کا اظہار عبودیت کہلاتا ہے ۔ ۔ ۔ عبودیت کیلئے جو علامتی اشیاء ہیں وہ عبادت کہلاتے ہیں ۔ ۔ ۔
اب انسان جو کہ عبد ہے اور مکمل طور پر اللہ کی ملکیت ہے ۔ ۔ ۔ اللہ چاہتا ہے کہ انسان اس کا اظہار کرے کہ وہ عبد ہے ، یعنی کہ اپنی عبودیت کا اظہار کرے ۔ ۔ ۔ اور اس کا اظہار تقویٰ کی حد میں کرے ۔ ۔ ۔
مثلاََ آپ کا جسم جو کہ مکمل طور پر اللہ کی ملکیت اور آپ کے پاس اللہ کی امانت ہے ، اگر اس کو زرا برابر بھی اللہ کی مقرر کردہ حد یعنی تقویٰ سے نکالا تو یہ اللہ کے ساتھ خیانت ہو گی اور بے تقوائیت ہو گی ۔ ۔ ۔
آپ جسم کو کسی بھی قسم کا نقصان دیتے ہیں ،تو یہ خیانت ہے ، چونکہ یہ جسم آپ کی چیز نہیں ہے کسی اور کی ہے ۔ ۔ ۔ اور اس نے کسی خاص کام کیلئے دی ہے ۔ ۔ ۔ اب اگر اس امانت کو آپ اس خاص مقصد کے علاوہ اپنے کسی ذاتی خواہش کیلئے استعمال کریں گے تو خیانت ہو گی ، یا اس کو زرا برابر نقصان بھی پہنچائیں ، ایسا نقصان جو اس چیز کی ہدف تک رسائی میں روکاٹ بنے ،تو یہ خیانت اور بے تقوائیت ہو گی ۔ ۔ ۔ یہ تقویٰ کی حد ہے ۔ ۔ ۔ یعنی کہ جو شے جس کام کیلئے ملی ہے اس امانت سمجھ کر اس ہی کام کیلئے استعمال کیا جائے ۔ ۔ ۔ اور کسی ایسی کام کیلئے استعمال نہ ہو کہ اس نقصان پہنچے اور ہدف تک رسائی اور پہنچ کیلئے ناکارہ ہو جائے ۔ ۔ ۔
مثلاََ کوئی ایسی چیز کھائیں جو جسم کیلئے نقصان دہ ہے ، یہ خیانت اور بے تقوائیت ہے ، کسی ایسی حالت میں لیٹے بیٹھیں یا چلیں جو جسم کیلئے نقصان دہ ہے یہ خیانت ہے بے تقوائیت ہے ، مثلاََ زیادہ میٹھا اگر جسم کیلئے نقصان دہ ہے تو یہ بے تقوائیت اور خیانت ہے اگر کوئی سافٹ ڈرنگ ہڈیوں کیلئے مضر ہے تو بے تقوائیت ہے اللہ کے ساتھ خیانت ہے ،آلتی پالتی مار کر بیٹھنا ، یا فوم پر لیٹنا اگر جسم کیلئے نقصان دہ ہے تو یہ بے تقوائیت ہے خیانت ہے ۔ ۔ ۔ یہ تو فقط جسم کا معاملہ تھا ۔ ۔ ۔ اس حد کے احاطے کیلئے یہ بے حد چھوٹی اور غیر محسوس کاموں کا تذکرہ کیا ہے ۔ ۔ ۔
یوں ہی معاملہ ہے آپ کی سوچ ، فکر ، عقل ، روح ، تصورات ، نفسیات ، احساسات ، جذبات ، رحجانات ، ترجیحات وغیرہ کا ۔ ۔ ۔ جو بھی شے آپ کو اللہ کی طرف سے امانت ملی ہے اور جس مقصد کیلئے ملی ہے اگر اس مقصد کے علاوہ کسی اور کام میں استعمال کیا گیا یا کوئی ایسا نقصان پہنچایا گیا جو مقصد میں رکاوٹ کا باعث ہو ، یہ بے تقوائیت اور خیانت ہے ۔ ۔ ۔
اگر آپ کا دنیاوی تعلیم حاصل کرنا لازم ہے اور آپ نہیں کر رہے تو بے تقوائیت ہے ، آپ کا وقت ضائع کرنا بے تقوائیت ہے ،آپ کا روڈ پر ایک خالی ریپر پھینکنا بے تقوائیت ہے ، ملکی سیاست میں حق بات نہ کرنا بے تقوائیت ہے ، بے خبر رہنا بے تقوائیت ہے ، زیادہ سوتے رہنا بے تقوائیت ہے ، جذباتی لذت لینا بے تقوائیت ہے ، سوشل پلیٹ فرم پر بلا ضرورت اور بلا احتیاطِ واجب کے ، لائیک تک کرنا بے تقوائیت ہے ۔ ۔ ۔ اور اللہ کے ساتھ خیانت ہے ۔ ۔ ۔
اس لیے کلامِ محمدی یہ کہتا ہے کہ مومن خیانت نہیں کر سکتا ۔ ۔ ۔ اس بات سے خود کی احاطہ کر لیں کہ مومن ہونے کیلئے کتنا زبردست راستہ طے کرنا اور کیسی وسیع حد مٰن رہنا درکار ہے ۔ ۔ ۔
جب انسان تقویٰ کے حصار میں ہوتا ہے ، تب ہی وہ مقامِ عبد تک رسائی پا سکتا ہے ۔ ۔ ۔ تب ہی وہ عبد بن سکتا ہے ۔ ۔ ۔ تقویٰ کے بغیر آپ کہیں اور پہنچ جائیں گے ، مقامِ عبودیت تک نہیں پہنچ سکتے ۔ ۔ ۔ سو یہ وہ مقام ہے جہاں انسان تقویٰ کے حصار میں اپنی عبودیت کا اظہار کرتا ہے اور عبد کہلاتا ہے ۔ ۔ ۔
اس سے پچھلی منزلوں میں ایک مقام ہے ، تسلیم ہونے کا ، البتہ اخلاص سے تسلیم ہونے کا ۔ ۔ ۔ اس مقام پر انسان جہنم کے خوف ، کسی دنیاوی نقصان کے خطرے کے پشِ نظر گناہ ترک نہیں کرتا ، بلکہ اس لیے ترک کرتا کہ وہ بذاتِ خود اس کے بلند انسانی وجود کیلئے عیب ہے ۔ ۔ ۔
خالص تسلیمگی کے مقام پر موجود ایک نوجوان کا حقیقی واقعہ سنیے ۔ ۔ ۔
خالص تسلیمگی کے مقام کا حامل ایک خوبصورت نوجوان بازار میں اپنے ہاتھ سے بنائے ہوئے ٹوکرے بھیجنے جاتا ہے تاکہ رزقِ حلال کا اہتمام کر سکے ، ایک گھر سے گزرتا ہے جہاں بے حد حسین دو شیزہ کھڑی اس نوجوان کو دیکھ لیتی ہے ۔ ۔ ۔ آواز دیتی ہے کہ وہ ٹوکری خریدنا چاہتی ہے سو نوجوان گھر کے اندر آتا ہے ۔ ۔ ۔ گھر کے اندر آتا ہے تو وہ لڑکی دروازہ بند کر لیتی ہے اور نوجوان سے اظہار کرتی ہے کہ اس کی خواہش پوری کرے نہیں تو شور مچا دے گی کہ اس نوجوان نے عزت لوٹنے کی جسارت کی ہے ۔ ۔ ۔ نوجوان اس گناہ سے بچنے کیلئے گھر کے اندر ہی بھاگتا ہے اور بھگتا بھگتا چھت کی طرف نکل جاتا ہے ۔ ۔ ۔ گھر کئی منزلہ ہے چھت بلند ہے اور زمین کافی دور ہے ، سو چھلانگ لگائی تو موت یقینی ہے ۔ ۔ ۔ لیکن وہ پھر بھی چھلانگ لگا دیتا ہے ۔ ۔ ۔اسی وقت پروردگار اپنے فرستادہ کو امر کرتا ہے کہ جا اسے ہوا ہی میں پکڑ لے ۔ ۔ ۔ زمین سے کچھ فاصلہ اوپر کو نوجوان کو دو ہاتھ اپنی آغوش میں سنبھال لیتے ہیں ۔ ۔ ۔ زمین پر سلامت پہنچ کر یہ نوجوان گھر کی طرف بھاگتا ہے ۔ ۔ ۔ گھر داخل ہو کر بیوی اس سے سوال کرتی ہے کہ گھر میں تو کھانے کو کچھ بھی نہیں ہے ، کیا ٹوکریاں نہیں بکیں ۔ ۔ ۔ نوجوان کہتا ہے اللہ خیر کرے گا ۔ ۔ ۔ دونوں کمرے کے اندر جاتے ہیں تو اچانک روٹیوں کی خوشبو محسوس ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ فوراََ باہر کو آتے ہیں دیکھتے ہیں کہ تندور سے آگ بلند ہے اور پکی پکائی روٹیاں تندور میں موجود ہیں جبکہ ہانڈی کی جگہ پر برتن میں پک چکا سالن موجود ہے ۔ ۔ ۔
خالص تسلیمگی کا یہ مقام عبد کے مقام سے بہت پہلے کا ہے ۔ ۔ ۔
عبد کا مقام یہ ہے کہ ملیشیا کا ایک جوان طالبعلم السید سے ملنے آتا ہے اور کہتا ہے کہ السید بہت پریشانی اور بے سکونی ہے ۔ ۔ ۔ السید جواب میں کہتے ہیں کہ حرام چھوڑ دیں ۔ ۔ ۔ جوان کہتا ہے کہ السید حرام تو چھوڑ رکھا ہے ۔ ۔ ۔ السید اشارے سے انہیں قریب بلاتے ہیں اور کان میں کچھ کہتے ہیں ۔ ۔ ۔ کان کی کہی سن کر جوان کا چہرہ زرد ہو جاتا ہے اور اضطراب و خوف کے عالم میں اُٹھ کر فوراََ وہاں سے چلا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ بعد میں جب اس سے سوال ہوتا ہے کہ السید نے کان میں کیا کہا تھا ۔ ۔ ۔ تو جواب ملتا ہے کہ السید نے کہا تھا ” اگر حرام چھوڑ رکھا ہے ، تو کل رات کو جو کر رہے تھے وہ کیا تھا ” ۔ ۔ ۔
عبد کا مقام تو یہ ہے کہ جب عبد جب تسبیح کرتا ہے تو مسجد کے در و دیوار کھڑکیاں اور موجود ہر شے وہی تسبیح باآواز بلند کرتی ہے ، جسے مسجد میں بیٹھا ہر خاص و عام شخص سُنتا ہے ۔ ۔ ۔
یہ ہی عبد اولیاء اللہ ہیں ۔ ۔ ۔ اہلِ معرفت ہیں ۔ ۔ ۔ جن کو آپ روز دیکھتے ہیں لیکن شناخت نہیں کر پاتے ۔ ۔ ۔ کہ آپ آنکھیں ہی نہیں رکھتے ۔ ۔ ۔ اور اپنے تصورات میں اولیاء اللہ کا ایک خاص عکس بنا رکھا ہے ان کے حُلیے سے لے کر مقام گھر لباس چہرے افعال اور ہر شے کے متعلق ایک خاص تخیلاتی عکس قائم ہے ۔ ۔ ۔ اور سمجھتے ہیں کہ یہ جہاں جائیں کرامات و معجزات اور انسانی عقل کو عاجز کرنے والے افعال انجام دیتے پھریں گے ، جبکہ ایسا نہیں ہے ۔ ۔ ۔ ضرورت نہ ہو تو پوری زندگی یہ کام نہیں کریں گے ، اگرچے ایسا کرنے کا اختیار رکھتے ہوں گے ۔ ۔ ۔ یہ نفوسِ الزکیہ ہیں ۔ ۔ ۔ یعنی زمین پر موجود پاک ترین نفوس ۔ ۔ ۔ جو ہر زمانے میں موجود ہیں ۔ ۔ ۔ ایک نفس الزکیہ کے متعلق پیش گوئی ہے کہ اسے کعبہ کے پاس رکن و مقام کے درمیان والی جگہ پر قتل کیا جائے گا اور اس کا خون بہایا جائے گا ۔ ۔ ۔ یہ بڑی علامات میں سے ہے ۔ ۔ ۔
زمانے کی حجت جب شہداءِ کربلا کو سلام کرتا ہے تو کچھ ان الفاظ میں کرتا ہے ۔ ۔ ۔ ” السلام علیک یااولیاء اللہ ” ۔ ۔ ۔ یعنی سلام ہو آپ پر اے اللہ کے اولیاء ۔ ۔ ۔
شہداءِ کربلا کی زندگی اُٹھا کر دیکھیں ایک بھی معجزہ نہیں ملے گا لیکن پھر بھی یہ ولایتِ الہیٰ کے حامل ہیں ۔ ۔ ۔ یہ اللہ کے خاص ولی ہیں ۔ ۔ ۔ یہ مقامِ عبودیت پر فائز ہیں ۔ ۔ ۔
ِعبد سے آگے کا ایک اور مقام ہے جہاں انسان ” عبد الصالح ” بن جاتا ہے ۔ ۔ ۔ صالح نیکی کو نہیں کہتے نہ ہی نیک انسان کو کہتے ہیں ۔ ۔ ۔ مثلاَ ایک شخص کو کرایے کی ضرورت ہے آپ اسے کھانا کھلا دیں ، یہ آپ نے اس کے ساتھ نیکی کی ۔ ۔ ۔ لیکن اگر آپ اسے کرایہ مہیا کریں تو یہ صالح فعل ہے ۔ ۔ ۔ صالح انسان یعنی وہ جو مطلوبہ ہدف میں مددگاری کرے ۔ ۔ ۔عبد الصالح یعنی کہ وہ عبد جو صالح ہے ۔ ۔ ۔
قرآن میں ایک عبد الصالح کا تذکرہ ہے ، جو خدا کی جانب سے مستقبل کے معاملات کی صالح شجرہ کاری پر مامور ہے ۔ ۔ ۔ اور مخفی حکمتوں کی خبر دیتا ہے ۔ ۔ ۔
زمانے کی حجت ، جب امام حسین ابن علی کے علمدارِ لشکر ، قمر بن ہاشم زہرۃ الولایہ ، ” عباس بن علیؑ ” کو سلام کرتے ہیں تو ان الفاظ میں کرتا ہے ۔ ۔ ۔
” السلام علیکَ ایُھا العبد الصالح ” ۔ ۔ ۔ خود احاطہ کر لیں کہ یہ کون سا مقام ہے ۔ ۔ ۔
سو تسلیم ہونے کے اولین منازل سے لے کر عبد الصالح تک کا مرحلہ تقویٰ ہی کے حصار میں طے ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ اس کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے ، اور جو اس گمان میں ہے ، وہ نری جہالت کا شکار ہے ۔ ۔ ۔
اولیاء اللہ تمہارے درمیان ہی موجود ہیں ، جب کہ تم شعور نہیں رکھتے ۔ ۔ ۔ اور تمہارے لیے اس مقام کے دروازے کھلے ہیں ، جب کے تم بہانہ سازی اور رزق کی فکر میں لگے ہوئے ہو ۔ ۔ ۔
سوال ہوا کہ فلاں شخصیت کے دوست تو پانی پر چل سکتے تھے لیکن فلاں شخصیت کے دوست پانی پر نہیں چل سکتے ۔ ۔ ۔ جواب ملا کہ پہلی شخصیت کے دوست فکرِ رزق سے بے نیاز تھے ، جب دوسری شخصیت کے کچھ دوست رزق کی فکر میں سرگرداں تھے ۔ ۔ ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــ
جسٹن سنو ۔ ۔ ۔
انتخاب…. فائزہ عباس













