طالبان رہنماؤں اور افغانستان کی حزبِ اختلاف کے رہنماؤں نے دعویٰ کیا ہے کہ ماسکو میں ہونے والے مذاکرات میں ’زبردست پیش رفت‘ ہوئی ہے۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ محض کھوکھلا دعویٰ دکھائی دیتا ہے کیوں کہ ان مذاکرات میں افغان حکومت شامل نہیں تھی اور نہ ہی جنگ بندی کا اعلان ہوا۔
قدامت پسند اسلامی عسکریت پسندوں نے ماسکو کے مرکز میں واقع پلش ہوٹل میں 2 روز سے زائد وقت قیام کیا جہاں انہوں نے متعدد افغان سیاستدانوں سے ملاقات کی جن میں افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی اور سابق جنگجو قائد عطا محمد نور شامل ہیں۔
جاری کردہ مشترکہ اعلامیے میں فریقین کا کہنا تھا کہ انہوں نے ’پیداواری اور تعمیری‘ مذاکرات کیے اور ممکنہ جنگ بندی سمیت مختلف معاملات مثلاً اسلامی نظام کی مضبوطی اور خواتین کے حقوق پر غور کیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق ’دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی لیکن کچھ مسائل پر مزید بات چیت کی ضرورت ہے‘۔
خیال رہے کہ طالبان کابل حکومت کو امریکا کی کٹھ پتلی حکومت قرار دیتے ہیں جنہیں ایک اور مذکرات سے علیحدہ رکھا گیا، لہٰذا یہ نا ممکن دکھائی دیتا ہے کہ مذاکرات سے کوئی لچک دار نتیجہ برآمد ہو۔
واضح رہے کہ افغان صدر اشرف غنی نے رمضان المبارک کے آغاز میں ملک بھر میں جنگ بندی کی پیشکش کی تھی جسے طالبان سے مسترد کردیا تھا۔












