عسکریت پسند گروپ طالبان نے امریکا سے کہا ہے کہ وہ افغان تنازعے کے حل کی بات چیت کے ساتھ سنجیدہ رہے۔ یہ بات ختم ہونے والے اسلامی مہینے رمضان اور عیدالفطر کے موقع پر طالبان کے لیڈر ملا ہیبت اللہ اخوند زادہ نے اپنے خصوصی پیغام میں کہی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا کو مذاکرات میں دلیل اور تفہیم کی پالیسی اپنانے کے علاوہ طالبان کی مذاکرات کی تجویز کو قبول کرے۔ طالبان مذاکراتی عمل میں پیش رفت کے حوالے سے تمام غیر ملکی افواج کے انخلا کو اہم خیال کرتے ہیں۔ طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا آخری دور مئی میں مکمل ہوا تھا۔












