امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت پر واضح کردیا ہے کہ ہم سکھ رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کے قتل پر ان سے مکمل تحقیقات دیکھنا چاہتے ہیں۔

واشنگٹن میں اپنی پریس بریفنگ کے دوران سکھ رہنما کے قتل کے معاملے پر ترجمان امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم بھارت کی جانب سے سکھ رہنما کے قتل سے متعلق تحقیقات کے نتائج کا انتظار کر رہے ہیں۔

امریکی ترجمان نے کہا کہ متعدد بار یہ بات کی گئی ہے کہ یہ ہمارے لیے ایک ترجیح رہی ہے اور آئندہ بھی رہے گی، امریکا اور پاکستان کے درمیان سکیورٹی پارٹنرشپ کو وسعت دیتے رہیں گے۔

طالبان کو اقوام متحدہ کی طرف سے امداد کے معاملے پر امریکی ترجمان میتھیو ملر کا کہنا تھا کہ شراکت داروں سے کہتے ہیں کہ یہ یقینی بنایا جائے کہ امداد ان لوگوں تک پہنچے جنہیں اس کی ضرورت ہے، ہم اس کی نگرانی کرتے رہتے ہیں۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

امریکہ نے ڈرون ہتھیاروں کی فراہمی کو مسترد کرتے ہوئے بھارت کو وارننگ جاری کردی۔

امریکہ نے بھارت کو 3 ارب ڈالر کے ڈرون کی فروخت روک دی، جون 2023 میں طے پائے جانے والے معاہدے کے تحت امریکہ نے 31 MQ-9A سی گارڈین اور سکائی گارڈین ڈرون ہندوستان کو فراہم کرنے تھے۔

امریکہ نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ گرپتونت سنگھ پنوں کو قتل کرنے کی سازش کی مکمل تحقیقات کروائی جائیں ، امریکی حکومت کاکہنا ہے کہ جب تک مودی سرکار گرپتونت سنگھ پنوں کے خلاف سازش کی مکمل تحقیقات نہیں کروائی جائے گی تب تک بھارت کو ڈرون نہیں بھیجے جائیں گے۔

3 بلین ڈالر کی مجوزہ خریداری میں ہندوستانی بحریہ کے لیے 15 سی گارڈین ڈرون شامل تھے جبکہ ہندوستانی فضائیہ اور فوج کو آٹھ ، آٹھ سکائی گارڈین ڈرون ملنے تھے۔

جون 2023 میں بھارتی حکومتی اہلکاروں کی جانب سے سکھ رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کو قتل کرنے کی کوشش کی گئی ، امریکی ذرائع کے مطابق گرپتونت سنگھ پر حملے سے ایک ہفتہ پہلے امریکہ اور بھارت کے مابین ڈرون خریداری کا معاہدہ طے پایا تھا اور پنوں کے قتل کی کوشش پر غصے کی وجہ سے یہ خریداری امریکی کانگریس میں مسترد ہوئی ہے۔

دی وائر کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی نمائندوں نے ڈرون کی فروخت کے لیے درکار قانون کارروائی کو منجمد کردیا ہے، نومبر 2023 میں بھارتی ایجنٹ کو امریکی ایجنسی کی جانب سے گرفتار کیا گیا جس کے بعد اس نے گرپتونت سنگھ کے قتل میں بھارتی حکام کے ملوث ہونے کا اعتراف کیا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY