تارکین وطن یورپ تک پہنچنے کے لئے کئی زمینی و سمندری راستوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں تازہ اعداد و شمار کے مطابق اگرچہ یورپ کی طرف ہجرت کافی حد تک محدود ہوگئی ہے تاہم قطعی طور پر ختم نہیں ہوئی۔

یورپی یونین کی بارڈر سیکورٹی ایجنسی فرنیکس کے مطابق اس سال یورپ پہنچنے والوں میں تقریباً 26فیصد بچے،16فیصد عورتیں اور58 فیصد مرد شامل ہیں۔

یورپ پہنچنے کیلئے پناہ گزین مختلف راستے اختیار کرتے ہیں، 7سے8 راستے ایسے ہیں جنہیں آج بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ ان راستوں میں مغربی بلقان، بحیرہ روم کا مشرقی راستہ، مشرقی یورپی ممالک، وسطی بحیرہ روم ، مغربی بحیرہ روم اور مغربی افریقہ کا راستہ شامل ہیں۔

ان راستوں سے یورپ میں داخل ہونے والوں میں جنگ زدہ عرب ممالک عراق اور شام، ایشیائی ممالک پاکستان، افغانستان اور ایران اور افریقہ کے غریب ممالک کے شہری ہیں۔

یاد رہے کہ پناہ کی غرض سے یورپ پہنچنے کی کوشش کے دوران2016 میں5ہزار سے زائد جبکہ2015میں ساڑھے3ہزار سے زیادہ افراد ہلاک یا لاپتا ہوگئے تھے۔

2016ء میں سب سے خونریز راستہ وسطی بحیرہ روم سے گزرنے والا سمندری راستہ ثابت ہوا تھا۔ جنوری سے دسمبر تک ایک لاکھ18ہزار 436تارکین وطن سیاسی پناہ کی غرض سے اس راستے سے گزر کر یورپ پہنچے

SHARE

LEAVE A REPLY