پوری دنیا میں تپ دق کا عالمی دن چوبیس مارچ کو منایا جا رہا ہے، جسکا مقصد عالمی سطح پراس مہلک مرض سے متعلق آگاہی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ایسے اقدامات بھی اٹھاناہےاور جس سے اس مرض سے مکمل چھٹکارا حاصل کیا جا سکے۔

تمام ترکوششوں کے باوجود مرض پر قابو نہ پایا جا سکااور یہی وجہ کے دنیا کی 33 فیصد آبادی کسی نا کسی طرح مرض سے متاثر ہورہی ہے۔دنیا میں ٹی بی کے مریضوں کی تعداد میں 9 اور ہلاکتوں میں 20فیصد اضافہ ہوا ہے، مریضوں میں سے 57 فیصد مردجبکہ34 فیصد خواتین اور 9 فیصد بچے شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق جنگوں فضائی و ماحولیاتی آلودگی اور گندگی کے باعث مرض ختم ہونے کی بجائے مزید بڑھنے لگا ہے اور ایک مریض کم از کم12 سے 15 افراد کو متاثر کر رہا ہے۔عالمی سطح پر مرض کے بڑھنے کا انداز اس امر سے بآسانی لگایا جا سکتا ہے کہ ایک ہی سال میں تپ دق کے مریضوں کی تعداد میں 9 اور مرض سے ہونے والی ہلاکتوں میں 20 فیصد اضافہ ہوا۔

2014 کے دوران ٹی بی کے مریضوں کی تعداد 96 لاکھ تھی جو 2015 میں بڑھ کر ایک کڑور 4 لاکھ ہو گئی، جبکہ مرض سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 15 لاکھ تھی جو2015 میں بڑھ کر18 لاکھ ہو گئی، جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہ ہو گا کہ مرض نہ صرف ختم نہیں ہو پا رہا بلکہ پھر سے بڑھنے لگا ہے۔

مرض سے متاثرہ ممالک میں بھارت سر فہرست ہو چکا ہے، جبکہ انڈونیشیا دوسرے،چین تیسرے،نائیجیریا چوتھے اور پاکستان پانچویں نمبر پر ہے، جبکہ جنوبی افریقہ چھٹا متاثرہ ملک ہے۔تپدق کے عالمی دن کے حوالے سے جنگ ڈیولپمنٹ رپورٹنگ سیل نے مختلف ذرائع سے جو اعدادو شمار حاصل کیے ہیں اُس کے مطابق عالمی سطح 61 فیصد مریضوں کا تعلق اولین چھ متاثرہ ممالک سے ہے۔

یہ امر قابل زکر ہے کہ صرف 2 ہی برسوں میں اولین متاثرہ ممالک میں مرض کی شرح 54 سے 61 فیصد ہو گئی۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق2015 کے دوران ایک ہی سال میں18 لاکھ افراد مرض کے باعث ہلاک ہوئے جو گزشتہ ڈیڑھ عشرے میں ایک ہی سال میں سب سے بڑی تعداد ہے۔

یہ امر تکلیف دہ ہے کہ 2015 کے دوران 10 لاکھ بچے بھی تپ دق کے مریضوں کی فہرست میں شامل ہو گئے، جبکہ سال بھر میں 70 ہزار بچے جان سے گئے۔تپ دق کی گلوبل رپورٹ 2016 کے اعدادوشمار کے مطابق عالمی سطح پر 2015 کے دوران مرض میں مبتلا ہونے والے کل مریضوں میں سے 57 فیصد مردجبکہ34 فیصد خواتین اور 9 فیصد بچے شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 2020 تک مرض سے ہونے والی ہلاکتوں کو 35 فیصد جبکہ نئے مریضوں کی تعداد میں 20 فیصدکمی لانا ہے لیکن عملی طور پریہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان جو ٹی بی سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں 5 ویں نمبر پر ہے۔اس میں بھی سالانہ نئے مریضوں کی تعداد میں 4 لاکھ 30 ہزار کا اضافہ ہوا ہے۔

ملک میںاس مرض کا شکارافراد میںبدریج اضافہ ہورہا ہے، جس کی بنیادی وجہ اگر ایک طرف ملک میں آلودگی اور گندگی ہے تو دوسری جانب غربت کے باعث بھی مرض میں اضافہ ہو رہا ہے

SHARE

LEAVE A REPLY