حسن عباس زیدی ( 1922- 2000 )انگریزی ادب کے استاد اور اردو کے مستند شاعر تھے ۔
حالاتِ زندگی
سید حسن عباس زیدی کی پیدائش 1922میں برست، فرید پور ،برطانوی ہندوستان میں ہوئی۔ والد سید ظفر عباس پولیس میں ملازم تھے۔ ان کا تعلق سادات باہرہ ضلع مظفر نگر یو پی سے تھا۔ سید حسن عباس زیدی اپنے والدین کے اکلوتے بیٹے تھے۔ ابتدائی تعلیم کرنال سے ہوئ۔ اس کے بعد علی گڑھ یونیورسٹی سے بی اے، ایل ایل بی کیا۔ علی گڑھ سے فارغ ہونے بعد شیعہ کالج لکھنؤ میں انگریزی کے لیکچرار مقرر ہوئے۔ البتہ تقسیم ہند کے بعد 1950 میں پاکستان آئے اور لاہور میں قیام کیا اور وہاں کے سنٹرل ماڈل ہائ اسکول میں انگریزی کے استاد کی حیثیت سے پڑھایا۔ پانچ برس بعد سرگودھا آ گئے اور ایک ہائ اسکول کے پرنسپل ہوئے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد 1986 لاہور منتقل ہو گئے۔
شعر و سخن
حسن عباس زیدی صاحب نے لکھنؤ کالج میں تدریس کے سلسلہ میں میں قیام کے دوران دیگر شعر وادب کی اہم شخصیات کی صحبت میں شعر کہنے شروع کیے۔ سید حسن عباس زیدی کی دینی۔ مذہبی اور غزل کی شاعری کو سرگودھا میں قیام کے دوران مسلسل مشاعروں میں شرکت سے جلا ملی لیکن لاہور میں اس ادبی ذوق نے فروغ پایااور یہاں خاص طور پر سید وحید الحسن ہاشمی،قیصر بارھوی ،ڈاکٹر آغا سہیل،پروفیسر حسن عسکری کاظمی،مشکور حسین یاد اور متعدد دیگر دوستوں نے ان کے کلام کو سراہا
تصانیف
خلش دل پہلا مجموعہ 1986 میں سرگودھا سے شائع ہوا ۔
ندائے کربلادوسرا مجموعہ ستمبر 1992 میں لاہور سے شائع ہوا ۔
تجلیاتِ حسن تیسرا مجموعہ 1997 میں لاہور سے ہی شائع ہوا ۔
عزمِ حسین ؑ مرثیہ جو مرثیہ نگارانِ پنجاب کی طرف سے انکی وفات کے بعد شائع ہوا۔
” کلیاتِ حسین ” حسن عباس زیدی مرحوم کی شاعری کی کلیات 2005 میں صفدر ہمدانی کی تالیف اور تدوین سے طبع ہوئی۔
حسن عباس زیدی کی شاعری کا خاصہ حصہ دینی اور مذہبی شاعری پر مشتمل ہے۔ جن میں حمد،نعت،منقبت،سلام اور سوز شامل ہیں













