ایک ہمدم دیرینہ کے ساتھ جامع مسجد سید وارث شاہ کی زیارت کا موقع ملا ۔ ورنہ کراچی سے پہلی بار پاک پتن جانے والے کو بھلا کیا معلوم کہ اولیاء اللہ کی اس سر زمین کے کسی گوشے میں کہیں مسجد سید وارث شاہ بھی ہے !
یہ مہربان اور دلنواز دوست دلشاد نسیم ہے جو اسم با مسمی ہے ایک باکمال ادبی شخصیت ہونے کے ساتھ ساتھ ساتھ وہ دکھی دلوں کو شاد کرنے کے ہنر سے بھی بخوبی واقف ہے مسجد وارث شاہ کی زیارت کروانے پر میں اس کی بہت ممنون و مشکور ہوں
سات سو سال پرانی اس تاریخی مسجد میں آج بھی باقاعدگی سے نماز ادا کی جاتی ہے یہ مسجد آج بھی ویسی ہی ہے بدلتے ہوئے وقت کے ساتھ تھوڑی بہت تبدیلیاں کی گئی ہیں ۔اسی مسجد سے منسلک ایک چھوٹے سے ہجرے میں بیٹھ کر پیر وارث شاہ نے پنجابی زبان کا شاہکار” ہیر ” تخلیق کیا ۔ جس کے دنیا کے کئی زبانوں میں تراجم ہوچکے ہیں آپ کا کلام برصغیر پاک وہند میں بہت مقبول ہے بالخصوص سکھوں میں بہت مقبول ہے
وارث شاہ کو پنجابی زبان کا شیکسپیئر کہا جاتا ہے
حق آکھیا اے وارث شاہ
دنیا ٹولہ اے دغا بازاں دا
وارث شاہ ( 1798 – 1722 ) سلسلہ چشتیہ کے پنجابی صوفی شاعر تھے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد باطنی علوم حاصل کرنے کے لیے آپ نے حضرت بابا فرید گنج شکر کے دربار پر ڈیرہ ڈالا اور یہیں سے مرشد کے حکم پر ملکہ ہانس چلے گئے ۔جس مسجد میں آپ نے چارسال قیام کیا یہ آپ کا آ مد سے تقریبا 400 سال پہلے تعمیر ہوچکی تھی اس کے ایک گوشے میں بیٹھ کر آپ نے پنجابی کی لازوال داستان” ہیر ” مکمل کی اور مسجد میں امامت بھی کی
کیا پیرومرشد لوگوں کو یہاں محض ہیر رانجھا کی عشقیہ داستان سنانے آئے تھے یہ داستان تو پہلے بھی کئی لوگ لکھ چکے تھے آپ تو دراصل ہیر رانجھا کی مجازی داستان عشق کے ذریعے لوگوں کو عشق حقیقی سے روشناس کرا رہے تھے
اول حمد خدا دا ورد کیجے، عشق کیتا سو جگ دا مول میاں
جتھے آپ ہی رب نے عشق کیتا ، معشوق نبی رسول میاں
وارث شاہ نے ہیر رانجھا کی داستان کو امر کردیا جو عزت ،شہرت،نیک نامی آپ کے حصے میں آئی وہ کسی اور کو نصیب نہ ہو سکی ۔ اس منظوم داستان میں پنجاب کے اس دور کے رسم ورواج ،رہن سہن ، ظلم جبر اور انسانی احساسات و جذبات کی عکاسی بہت خوبصورت انداز میں کی گئی ہے ہیر سننے والے پر ایک وجدانی کیفیت طاری ہو جاتی ہے اور دل میں عجیب طرح کا سوزو گداز پیدا ہو جاتا ہے بھلے زبان سمجھ آئے یا نہ آئے !
وارث شاہ کی علمی قابلیت کا اندازہ اس بات سے لگا یا جا سکتا ہے کہ سفری مشکلات کے اس دور میں بھی جناب نے حصول علم کی غرض سے بیرون ممالک کے سفر کیے اور ہندوستان کے مختلف شہروں میں بھی گئے سنسکرت اور ہندی سیکھی ۔ مدراس کے پنڈت وشواناتھن سے اکتسابِ فیض کیا ہندوؤں کی مقدس کتاب رامائن و دیگر ویدوں کا مطالعہ بھی کیا ،جوگیوں کے رہن سہن رسوم ورواج اور یوگ کے رموز سے بھی آگہی حاصل کی حج کی غرض مکہ اور مدینہ منورہ میں حاضری دی ۔ سفر روم میں رومی ، شمس تبریز اور دیگر اولیاء کرام کے مزارات کی زیارت کی ایران و چین کی سیاحت بھی کی پیرس میں قلو پطرہ کا مجسمہ بھی دیکھا
جا مع مسجد کی زیارت کے بعد ہم لوگ کچھ سیڑھیاں اتر کر اللہ کے ولی سید وارث شاہ کے اس ہجرے میں گئے جہاں بیٹھ کر حضرت وارث شاہ نے پنجاب کی لوک داستانوں کا ماسٹر پیس تصنیف کیا جس کو لازوال شہرت حاصل ہوئی جامع مسجد اور وارث شاہ کے ہجرے میں لوگوں کی آمدورفت کا سلسلہ جاری رہتا یے
واپسی پر مسجد کے صحن میں ہے اختیار میری زبان سے با آواز بلند دعائیہ کلمات نکلے
” یا اللہ ! ہمارے قلم کو بھی مسجد وارث شاہ کی مٹی لگ جائے ”
جس پر دلشاد نے بھی بڑے پر جوش انداز میں آمین کہا
کوڑی دنیا تے سب شان کوڑا
وارث شاہ ہوری سچ کہہ چلے وے













