آنکھ کھلی تو کھڑکی سے باہر چمکتی دھوپ نے اسقبال کیا۔۔۔کمرے کی کھڑکیوں کے آگے سے ہردہ ہٹاتے ہوئے میں نے سورج کی
صبح کی تمازت کو لمبے سانس کے ساتھ زہن میں اتارتے ہوئے سوچا آخر قدرت نے ایک دفعہ پھر موقعہ دے ہی دیا ہے کہ چیزوں کو روشنی میں صاف اور واضح دیکھتے ہوئے کاموں کو بہتر طریقے سے انجام دیا جائے اور شاید قدرت کا یہی اصول زندگی کے بارے میں بھی ہے.۔۔جہاں وہ ہمیں بار
بار موقعہ دیتی ہے ہماری بصارت کو
بصیرت بخشتی ہے
تا کہ ہم اپنے کاموں کو پوری ایمانداری سے کر
سکیں لیکن کیا ہم اس
باطن کی روشنی سے کوئی فائدہ اٹھا پاتے ہیں۔۔۔
میں نےسر کو جھٹکا اور اس باہر کی روشنی سے بھرپور فائدہ
اٹھانے کا فیصلہ کرتے
ہو ئے اپنے کاموں کا آغا ز کر دیا ہے
نباہت علی













